خیالِ یار
ہر ایک منظر میں بس ایک چہرہ دکھائی دیتا ہے،
میں خاموش رہوں تب بھی وہ سنائی دیتا ہے۔
وہ دور ہیں مجھ سے، پر میرے ہر خواب کے پاس ہیں،
ان کی ہی یادوں سے یہ دل اب دہائی دیتا ہے۔
پہاڑوں کی ٹھنڈ میں، برف کے ان نظاروں میں،
ان کا ہی عکس مجھے ہر طرف دکھائی دیتا ہے۔
میں نے اتاری ہے پنوں پر جو چاہت اپنی،
میری ہر ایک سطح میں وہ شخص دکھائی دیتا ہے۔
محبت کی اس راہ میں ہم اس قدر کھو گئے ہیں،
کہ اب خود میں بھی اِسی کا عکس دکھائی دیتا ہے۔
سنا ہے لوگ کہتے ہیں کہ وہ دور ہیں مجھ سے بہت،
مگر آنکھیں بند کروں، تو وہ پاس دکھائی دیتا ہے۔
کتنے موسم آئے اور فضائیں بدل گئیں مگر،
میرے ہر ایک موسم میں ان کا ہی رنگ دکھائی دیتا ہے۔
یہ میری دیوانگی ہے یا ان کی چاہت کا اثر،
کہ پنوں پر اب لفظ کم، ان کا چہرہ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
قلم اٹھاتی ہوں جب بھی کچھ نیا لکھنے کے لیے،
میری داستانِ دل کا وہ ہی ایک عنوان دکھائی دیتا ہے۔
بچھڑ کر بھی وہ مجھ سے کبھی جدا نہ ہو سکا،
میری تنہائی میں بھی مجھے اس کا ساتھ دکھائی دیتا ہے۔
ہزاروں چہرے ہیں اس دنیا کے میلے میں مگر،
جانے کیوں مجھے صرف وہی ایک نایاب دکھائی دیتا ہے۔
وہ مری قسمت میں ہے یا نہیں، یہ خدا جانے،
پر سجدوں میں ہاتھ اٹھاؤں تو وہی مانگا دکھائی دیتا ہے۔
وہ میرے پاس نہیں ہے، یہ جانتا ہے دل میرا،
پھر بھی نہ جانے کیوں ہر آہٹ پہ وہ آتا دکھائی دیتا ہے۔
میں روتی ہوں اکیلے میں کہ کوئی دیکھ نہ لے،
میری آنکھوں کے ہر ایک آنسو میں وہ روتا دکھائی دیتا ہے۔
تھک گئی ہیں میری آنکھیں اس کا راستہ تکتے تکتے،
اب تو ہر گزرتا ہوا سایہ بھی وہی دکھائی دیتا ہے۔
بڑی حسرت سے دیکھا تھا میں نے اس کے ہاتھ کی لکیروں کو،
سب کچھ تھا وہاں، بس میرا نام نہ دکھائی دیتا ہے۔
وہ جی رہا ہے اپنی دنیا میں مجھ سے بے خبر ہو کر،
اور یہاں میری زندگی کا آخری چراغ بھی بجھتا دکھائی دیتا ہے۔
میں اس کی یاد سے نکلوں تو موت آ جائے،
مجھے تو اب کفن میں بھی اسی کا دامن دکھائی دیتا ہے۔
اسے پانے کی تمنا میں خود کو کھو دیا میں نے،
آئینہ دیکھوں تو اپنا نہیں، اس کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔
وہ انجان ہے میری اس تڑپ سے اس قدر،
کہ میرا اجڑنا بھی اسے ایک تماشہ دکھائی دیتا ہے۔
خدا سے مانگوں بھی تو اب کیا مانگوں مری جاں،
دعا کو ہاتھ اٹھاؤں تو بس تیرا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔
تم سلامت رہو اپنی دنیا میں مری جانِ غزل،
میرا کیا ہے، مجھے تو اب اپنا جنازہ دکھائی دیتا ہے۔