قیامت کا انتظار
دنیا نہیں تو کیا، اب حشر میں ملیں گے،
اِس ایک اُمید پر ہم قیامت میں ملیں گے۔۔
مٹ رہی ہیں ساری راہیں، پر یقیں مرتا نہیں،
دنیا چھوٹےگی تو کیا، ہم آخرت میں ملیں گے۔۔
لوگ مانگتے ہیں دعائیں عمرِ دراز کی یہاں،
ہم کھڑے ہیں کہ جلد ہی روزِ حشر میں ملیں گے۔۔
حالتِ دل کیا کہیں، اب تو بس یہ ضد ہے میری،
تو ملے، کسی بھی حال ملے، ہم اُس قیامت میں ملیں گے۔۔
دوریاں اِس جہاں کی منظور ہیں مجھے اب،
میرا دعویٰ ہے کہ ہم خدا کی عدالت میں ملیں گے۔۔
، ناہید ، لوگ ڈرتے ہیں جسے سوچ کر، اُس دن کی چاہت ہے،
تجھ سے ملنے کے لیے ہم اُس آفت میں ملیں گے۔۔
وقت تھم سا گیا ہے، سانسیں بھی بھاری ہیں اب،
پر سکون ہے کہ ہم اُس آخری ساعت میں ملیں گے۔۔
راستہ چاہے جو بھی ہو، منزل تو تم ہی ہو،
اِس جہاں میں نہ سہی، اُس جہاں کی جنت میں ملیں گے۔۔
کھیلنے دو اِس جہاں کو جدائی کے سارے کھیل،
ہم زمانوں سے پرے، اُس کائنات میں ملیں گے۔۔
اِس زمین پر نہ سہی، آسمان گواہ رہے،
جب لکیریں مٹیں گی، ہم اُس ثبات میں ملیں گے۔۔
حسرتیں دم توڑ دیں، پر اِنتظار کم نہ ہوا،
صبحِ محشر تو ہو، ہم اُس رات میں ملیں گے۔۔
سب فانی ہے یہاں، سب بدل جائے گا ایک دن،
ہم بدلیں گے نہیں، ہم اُسی بات میں ملیں گے۔۔