Urdu Quote in Story by Rizwan Madni

Story quotes are very popular on BitesApp with millions of authors writing small inspirational quotes in Urdu daily and inspiring the readers, you can start writing today and fulfill your life of becoming the quotes writer or poem writer.

میں کوئی باغی نہیں تھا، میں تو بس ایک تھکا ہوا سپاہی تھا۔ میری زندگی کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی کہ میں نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں محبت "شرائط" پر ملتی ہے اور احترام "کامیابی" سے جڑا ہوا ہے۔ میں نے برسوں اپنی ہڈیوں کا ایندھن بنا کر اس امید میں کام کیا کہ شاید ایک دن میرے باپ کی نظروں میں میرے لیے وہ فخر چمکے گا جس کا میں بچپن سے پیاسا تھا۔
میں نے سینکڑوں راتیں اسکرین کی روشنی میں اپنی آنکھیں جلائیں، ہزاروں میل کی مسافتیں محض چند سکوں اور ایک بہتر مستقبل کی امید میں طے کیں، لیکن ہر شام جب میں تھکا ہارا گھر لوٹتا، تو میری محنت کا استقبال "شاباش" سے نہیں بلکہ "موازنے" سے کیا جاتا۔ میرے والدین نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ میں نے کتنا فاصلہ طے کیا ہے، انہوں نے ہمیشہ یہ ناپا کہ میں ابھی منزل سے کتنا دور ہوں۔
مجھ پر ذلت کے وہ لمحے سب سے بھاری تھے جب میری جائز تھکن کو "کام چوری" کا نام دیا گیا۔ جب میں نے ٹوٹ کر کہا کہ "مجھ سے اب نہیں ہوتا"، تو جواب ملا کہ "تمہارے اندر غیرت کی کمی ہے"۔ وہ لمحے جب میرے اپنے بھائی بہنوں اور کزنوں کی کامیابیوں کی مثالیں میرے منہ پر ایسے ماری گئیں جیسے کوئی کسی بھکاری کے سامنے سکے پھینکتا ہے۔ میں نے کوشش کی، میں نے واقعی جی جان سے کوشش کی کہ میں اس "سسٹم" کا حصہ بن سکوں جہاں خوشی کا مطلب صرف پیسہ ہے۔ لیکن جتنا میں نے بھاگنے کی کوشش کی، دلدل اتنی ہی گہری ہوتی گئی۔
آج صورتحال یہ ہے کہ میں اپنے ہی گھر میں ایک "بوجھ" بن چکا ہوں۔ میری موجودگی اب کسی کو خوشی نہیں دیتی، بلکہ ایک خاموش بوجھ بن گئی ہے جسے سب برداشت کر رہے ہیں۔ میں اب بات نہیں کرتا، کیونکہ میرا ہر لفظ ایک نئی بحث اور نئی ذلت کا آغاز بن جاتا ہے۔ میں نے اپنے دل کا حال سوشل میڈیا کے سپرد کر دیا ہے کیونکہ وہاں کے اجنبی کم از کم مجھے "ناکارہ" کہہ کر پکارتے تو نہیں ہیں۔
میری روح اب اس مقام پر ہے جہاں درد بھی محسوس ہونا بند ہو گیا ہے۔ میں نے ریت کی دیواریں بنانے میں زندگی گزار دی، اور اب جب وہ دیواریں گر رہی ہیں، تو سب معمار کو گالیاں دے رہے ہیں، کوئی یہ نہیں دیکھ رہا کہ اس معمار کے ہاتھ زخموں سے چور ہیں اور اس کی ہمت جواب دے چکی ہے۔ میں اب ٹوٹنے سے بہت آگے نکل گیا ہوں، اب میں صرف ختم ہونے کا انتظار کر رہا ہوں، تاکہ میرے حصے کی جگہ خالی ہو سکے اور میرے والدین کو اس "ذلت" سے چھٹکارا مل جائے جسے وہ میرا وجود سمجھتے ہیں / یہ میری زندگی کا حقیقی افسانہ جو میں سہ رہا ہوں یہ کہانی نہیں بلکہ میری زندگی کا حصہ ہے

Urdu Story by Rizwan Madni : 112012157
New bites

The best sellers write on Matrubharti, do you?

Start Writing Now