کون ہے وہ ذات؟
یہ صبح کی کرنیں، یہ شاموں کا نظارہ
یہ چاند کا جلوہ، یہ تاروں کا اجالا
یہ پھولوں کی خوشبو، یہ بلبل کی صدا ہے
ہر سمت اسی رب کی قدرت کی ادا ہے
کبھی دشت میں بارش، کبھی صحرا میں بہاریں
کبھی برف کے ذرے، کبھی شبنم کی قطاریں
یہ کون بناتا ہے زمیں کو گل و گلزار؟
یہ کون سجاتا ہے فلک کو شبِ تار؟
سمندر کی لہروں میں، پہاڑوں کی بلندی
ستاروں کی گردش میں، سورج کی تابندگی
ہر شے یہ پکارے کہ وہ واحد ہے، یکتا
جس ذات نے بخشی ہے ہر اک شے کو بقا
تو پھر کیوں نہ جھک جائے یہ سر اس کے حضور
تو پھر کیوں نہ لب پر ہو اسی رب کا ذکرِ نور
یہ سانسیں، یہ دھڑکن، یہ آنکھوں کی بینائی
یہ رزقِ مسلسل، یہ رب کی عطائی
نہ گن پائے کوئی اس کی نعمت کا خزانہ
نہ ختم ہو سکے اس کی رحمت کا فسانہ
یہ سورج کی کرنیں، یہ چاند کی ٹھنڈک
یہ راتوں کی خاموشی، یہ صبحوں کی چہک
یہ رنگِ گل و لالہ، یہ خوشبو کی روانی
ہر سمت ہے جاری تری قدرت کی کہانی
یہ دریا، یہ صحرا، یہ بادل، یہ ہوائیں
یہ سبزہ، یہ گلشن، یہ رنگین فضائیں
یہ کون انہیں بخشتا ہے حسن و رعنائی؟
یہ کس کی عطا ہے یہ دنیا کی خوبصورتی؟
ہر ذرّہ گواہی دے، ہر شے یہ صدا دے
اس رب کے سوا کوئی معبود نہیں ہے
تو پھر کیوں نہ جھک جائے یہ سر اس کے حضور
تو پھر کیوں نہ لب پر ہو اسی رب کا ذکرِ نور