تم مجھ پر فدا ہو جاؤ
ارمان کے دن ایک گہرے، بے رنگ دھند میں گزرتے رہے تھے۔ کینیڈا کی برف باری اس کے لیے تو ایک خوبصورت نظارہ تھی، مگر اس کا اپنا دل اس سے کہیں زیادہ سرد اور سنسان تھا۔ کئی سال گزر گئے تھے یہاں آئے ہوئے، مگر زمانہ بنجر ہی رہا۔ نہ کوئی سچا دوست، نہ کوئی ایسا رشتہ جس سے دل کی کوئی بات کہی جا سکے۔ وہ اپنی ہی بنائی ہوئی ایک شیشے کی دیوار کے پیچھے قید تھا۔ دفتر میں اس کے قدم کام سے زیادہ تنہائی کی طرف بڑھتے، جہاں وہ اپنے ساتھیوں کے چہروں پر بکھری مسکراتی ہوئی باتوں کو بھی ایک اجنبی کی نظر سے دیکھتا۔ ہیلو، ہاؤ آر یو؟ یہ الفاظ اس کے لیے محض فضائی ارتعاش تھے، جنہیں وہ نہ تو بولتا اور نہ ہی سننا چاہتا۔
ہاں، بس کام سے واپسی پر قریب کے اسٹور سے کچھ ضروری سامان لے لیتا۔ مالک ایک خوش مزاج سکھ تھا، جو ہر بار ایک نیا سوال اُگلتا "کہیے سرجی، آج موسم کیا کہ رہا ہے؟" مگر ارمان کی طرف سے خاموشی کا ایک ایسا طلسم ہوتا کہ وہ بھی بے زبان ہو جاتا۔ ارمان رقم ادا کرتا اور بغیر کسی تبادلۂ خیال کے دروازے سے باہر نکل آتا۔
گھر... وہ چار دیواری جہاں وقت ٹھہر سا گیا تھا۔ اگر فریج میں کچھ بچا ہوتا تو وہی باسی برتن نکال کر مائیکرو ویو کے حوالے کر دیتا۔ کھانا زندہ رہنے کا ذریعہ تھا، زندگی کا نہیں۔ اس کی اس گہری تنہائی کا سب سے بھیانک عذاب راتوں کا سناٹا تھا۔ نیند، ایک ایسا قرض دار بن گئی تھی جو اس پر ہمیشہ مقروض رہتی تھی۔ ڈاکٹروں کے پاس جانا، انسومیا کی تشخیص، مہنگی سے مہنگی گولیاں... سب بےکار۔ نیند نے اس سے کسی غیر معلوم ایڈریس پر منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
آج بھی وہ کام سے تھکا ہارا لوٹا تھا۔ ہاتھ میں تھیلے تھے جن میں زندگی کے لیے درکار چند ضروری اشیاء تھیں۔ مگر فریج کا دروازہ کھولتے ہی ایک ہفتے پرانی بدبو نے اس کا استقبال کیا۔ باسی پلاؤ اور سخت ہو چکی روٹی کو دیکھ کر اس کی ساری ہمت جواب دے گئی۔ ایک گہری، بھاری سانس بھر کر اس نے وہی کھانا گرم کیا اور ایک گلاس میں برف کے ٹکڑوں پر سوڈا اور لیمبو ڈالا۔ مشروب کے بلبلے اس کی اپنی خاموشی کو چیرتے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔
سونے کے کمرے میں داخل ہوا تو وہی پرانا منظر۔ ایک بڑی سی بیڈ، ایک سنسان ٹیبل اور ایک کرسی۔ اور پھر وہ تصویر... دیوار پر جھکی ہوئی وہ فریم، جس کے شیشے پر وقت کی گرد جم چکی تھی۔ اس میں ایک نوجوان لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے تھے، ان کی مسکراتی ہوئی آنکھیں مستقبل کے سنہرے سپنوں سے بھری ہوئی تھیں۔ تصویر پر جمی گرد بتا رہی تھی کہ ماضی بھی مر چکا ہے۔
اس نے گلاس ٹیبل پر رکھا، کپڑے بدلے، اور بیڈ پر نیم دراز ہو کر ایک ناول اٹھا لیا۔ الفاظ نظروں کے سامنے سے گزر تو رہے تھے مگر دماغ تک پہنچنے سے پہلے ہی بکھر جاتے تھے۔ وہ سوڈا کی چسکیاں لے رہا تھا، جیسے کوئی ڈوبتا ہوا آدمی حبسے ہوا ہوا کے بلبلوں کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔
اچانک...
فون کی گھنٹی کی تیز آواز نے کمرے کے سناٹے کو چیر ڈالا۔ ارمان کا دل ایک بار زور سے دھڑکا۔ اس کے فون پر کون؟ مہینوں سے تو یہ آلہ خاموش پڑا تھا۔ اس نے فون اٹھایا۔ اسکرین پر نام کی جگہ ایک اجنبی نمبر ٹمٹما رہا تھا۔ اس کے کانٹیکٹ لسٹ میں صرف چند ہی نام تھے: پاکستان میں مقیم اس کی بہن، اس کے بھائی... جن سے بات کیے ہوئے برسوں گزر چکے تھے۔ اور پھر ایک نام تھا زلف آور اس کا بچپن کا وہ دوست جس کے ساتھ اس نے زندگی کے ہر رنگ دیکھے تھے۔ مگر پچھلے کئی مہینوں سے اس سے بھی بات نہیں ہوئی تھی۔
اس نے ایک گہری سانس لی اور کال ریسیو کے بٹن پر ٹیپ کیا۔
"ہیلو؟" اس کی اپنی آواز بھی اسے پرانی اور بھاری لگی۔
دوسری طرف سے ایک روبوٹک آواز سنائی دی، جس نے بتایا کہ اس کا کریڈٹ کارڈ غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوا ہے اور اگر وہ فوری طور پر بات نہ کرے تو قانونی کارروائی ہوگی۔ ارمان نے بغیر کسی جذبات کے فون بند کر دیا۔وہ جانتا تھا، کینیڈا میں اس قسم کے فراڈ کالز عام ہیں۔ اس نے فون خاموش کر کے ٹیبل پر رکھ دیا۔
مگر چند منٹ بعد ہی فون کی اسکرین پھر سے روشن ہوئی۔ اس بار کوئی کال نہیں تھی، بلکہ واٹس ایپ کا ایک میسج تھا۔ نمبر کے ساتھ لکھا تھا:92+ ۔
اس لمحے اس نے فون کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ یہ ضرور کوئی فضول مزاح ہوگی، یا پھر کوئی نیا اسکیم۔ مگر ایک پراسرار کشش نے اس کے ہاتھ کو مجبور کر دیا۔ اس نے فون اٹھایا اور دیکھا کہ یہ محض ٹیکسٹ نہیں، بلکہ ایک وائس میسج تھا۔
اس نے فون کان سے لگایا۔
چند لمحے خاموشی، پھر اسپیکر سے ایک ہلکی سی پھونک کی آواز نکلی ۔ایسی جیسے کسی نے کان کے قریب آہستہ سے سانس پھونکی ہو۔پہلے ایک نرم، مختصر سی…اور پھر دوسری، کچھ لمبی،۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور فون بند کرتے ہوئے خود کلامی کی: "لوگوں کے پاس کتنے فضول وقت ہیں۔ کسی اجنبی کی زندگی میں مداخلت کرنے کا"
مگر وہ آواز... وہ بے نام، بے الفاظ پُکار... اس کے ذہن میں گونجتی رہی۔
اس کا ہاتھ لرزتا ہوا دوبارہ فون کی طرف بڑھا۔ اس نے میسج دوبارہ چلایا۔ ایک بار... دو بار... پھر بار بار۔
ہر بار جب وہ وہی دو سانسوں کی آواز سنتا ۔ وہ خاص "پھونک" ۔ اس کے سینے میں کچھ دھڑک اٹھتا، جیسے کوئی پرانا زخم تازہ ہو گیا ہو۔ اس کا دل ایک عجیب طرح کی تیز رفتار دھڑکن میں مبتلا ہو گیا، جیسے کوئی پرانا راگ، جو برسوں سے خاموش تھا، اچانک بج اٹھا ہو۔ اس نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی: "ارمان، پاگل مت بنو۔ یہ کوئی غلط نمبر ہوگا، کوئی غلطی ہوگی۔" بے چینی میں اس نے سوڈے کا گلاس اٹھایا اور ایک لمبا گھونٹ بھرا۔ مگر سوڈے کے بلبلے جو کبھی زبان پر چبھتے تھے، آج ایسے لگے جیسے کسی نے برف کے ٹکڑے براہ راست اس کے دل پر رکھ دیے ہوں۔ ایک سردی سی لہر پورے جسم میں دوڑ گئی۔
لیکن سکون کہاں تھا؟ سکون تو اس کی سانسوں میں اڑنے والے ان بلبلوں کی طرح غائب ہو چکا تھا۔
چند لمحوں کے بعد، ایک جذبے نے جسے وہ خود سمجھ نہیں پا رہا تھا، اس کا ہاتھ پھر فون کی طرف بڑھا دیا۔ رومن اردو میں لکھا: "کون؟"
جواب فوراً آیا، جیسے کوئی اس کا انتظار ہی کر رہا ہو۔ "کیوں؟"
ارمان کے ہاتھوں میں پسینہ آ گیا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے ٹائپ کیا: "کیا میں آپ کو جانتا ہوں؟"
"جی بلکل"۔۔۔ یہ مختصر سا جواب پڑھتے ہی اس کے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ کون؟ کون ہو سکتا ہے؟ پرانے دوست؟ کوئی ساتھی؟ مگر دل تو صرف ایک ہی نام پکار رہا تھا، ایک ایسا نام جسے وہ سالوں سے دبائے ہوئے تھا۔
ایک چال چلنے کا ارادہ کرتے ہوئے، اس نے لکھا: "شاہد آپ مجھے جانتے اس لئے مجھے مساج کیا ہے مگر میں آپ کو نہیں جانتا"۔ اس نے جان بوجھ کر ' مسیج کو مساج' لکھا تھا۔ یہ ایک بہانہ تھا، ایک آزمائش۔ اگر سامنے والا اجنبی ہوتا تو اسے غلطی سمجھتا یا نظر انداز کر دیتا۔
جواب پڑھتے ہی ارمان کو ایسا لگا جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔ اس کا سانس رک گیا، دل نے کام کرنا چھوڑ دیا، اور پل بھر میں ہی اس کا سارا جسم گرم ہو گیا، جیسے کوئی آگ سینے کے اندر سلگ اٹھی ہو۔
اسکرین پر لکھا تھا: "کمینے انسان اتنے سالوں سے کینڈا میں ریے رہے ہو اپنی اسپلنگ کو صحیح کرو۔ میسج لکھنا سیکھو۔"
ارمان کی آنکھیں اس لفظ پر جماں ہو گئیں ۔ "کمینے"۔
یہ لفظ... یہ ڈانٹ... یہ ناراضگی میں لپٹی ہوئی وہ انوکھی شفقت... یہ سب کچھ اسے صرف ایک ہی شخص کی یاد دلا رہا تھا۔
کمینے انسان... اسے یہ خطاب صرف ایک لڑکی دیتی تھی۔ وہ لڑکی جس کی آنکھوں میں ستارے ٹمٹماتے تھے، جس کی مسکراہٹ میں چاندنی بستی تھی، اور جس کے چھوڑ جانے کے بعد اس کا دل مر گیا تھا۔
وہ لڑکی تھی لبنیٰ۔ اس کی پہلی محبت، اس کا آخری پیار۔وہ لڑکی جس کی آنکھوں میں چاندنی بسی تھی،جس کی ہنسی میں بہار کی ہوا گھلی تھی،اور جس کے چھوڑ جانے کے بعد زندگی کی ہر صبح جیسے اپنے رنگ کھو بیٹھی تھی۔
………………………………………………………………….
وہ سردیوں کی شام تھی، دسمبر کی دھند ابھی زمین پر پوری طرح اُتری نہیں تھی مگر ہوا میں ایک ہلکی سی ٹھنڈ گھل چکی تھی۔ شادی ہال رنگوں، روشنیوں اور موسیقی کی گونج سے بھرا ہوا تھا۔
چمکتی لائٹس، قہقہوں کی آوازیں، مہکدار پھولوں کی خوشبو ۔اور ان سب کے بیچ ایک ہلکی سی خاموشی تھی جو صرف ارمان کے دل میں بسی ہوئی تھی۔
وہ اپنے چند دوست زلف آور کے کزن کی شادی میں آیا تھا، مگر اس کی نگاہیں جیسے سب چہروں سے تھک چکی تھیں۔کالا دو پیس سوٹ، سفید شرٹ، اور بالوں میں ہلکی سی نمی ۔ وہ خاموشی سے ایک کونے کی کرسی پر بیٹھا سب کچھ دیکھ رہا تھا، مگر کسی کا بھی نہیں تھا۔
مگر پھر اس کی نظر ایک منظر پر ٹھہر گئی۔
دوسری طرف، ایک سفید چمک تھی جو ہال کے کونے میں کھڑی تھی۔ وہ لبنیٰ تھی۔ اس کا سفید لہنگا، جس میں سنہری دھاگوں کی کڑھائی چمک رہی تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے چاندنی رات نے کسی انسان کی شکل اختیار کر لی ہو۔ ہلکی ہوا کے جھونکے اس کے لہنگے کے پَلو کو ہلکا سا لہرا رہے تھے، اور جب وہ چلتی تو گولڈن کناریوں سے پڑنے والی روشنی اس کے گرد ایک ہالہ سا بنا دیتی۔
ارمان نے اپنے دھیان کو کسی اور طرف موڑنے کی کوشش کی، مگر نظریں جیسے کسی ضدی بچے کی طرح اُس لڑکی سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔
وہ چاہ کر بھی خود کو سمجھا نہیں پا رہا تھا۔
کھانے کے دوران بھی جب سب لوگ خوش گپیاں کر رہے تھے، اُس کا دھیان بس ایک ہی طرف تھا ۔سفید لہنگے میں وہ لڑکی، جو ہنستے ہوئے دوسری اپنی ہم عمر لڑکیوں سے بات کر رہی تھی۔
لبنیٰ کی موجودگی جیسے پورے ہال کی روشنی بدل رہی تھی۔وہ جب چلتی، تو گولڈن کام ہلکی روشنی میں یوں چمکتا جیسے شام کے آسمان پر ستارے لرز رہے ہوں۔ارمان نے بارہا چاہا کہ ایک لمحے کو وہ اس کی طرف دیکھ لے،مگر لبنیٰ نے ایک بار بھی اس کی سمت نگاہ نہ اٹھائی۔
شاید اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ کوئی اجنبی، ایک میز کے کنارے بیٹھا،اس کے ایک ایک انداز پر دل ہار چکا ہے۔
فوٹوگرافی کا سیشن شروع ہوا تو فوٹوگرافر نے باری باری سب کو بلانا شروع کیا۔ کوئی زمین پر بیٹھا، کوئی کرسی پر، اور کچھ لوگ پیچھے کھڑے تھے۔
ارمان دلہا کے بالکل پیچھے آ کھڑا ہوا۔ وہ خود کو عام سا ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر دل کے اندر ایک عجیب سی بےچینی مچل رہی تھی۔
اچانک اُس کے کانوں میں ایک نرم، مگر شوخ آواز گونجی
"صبح سے مجھے کیوں گھور رہے ہو؟"
وہ چونک گیا۔ دائیں طرف دیکھا تو سفید لہنگے میں وہی لڑکی، لبنیٰ، مسکرا رہی تھی۔ "کیونکہ آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں،" ارمان نے جھجکتے ہوئے کہا، مگر آنکھوں میں ایک سنجیدگی تھی۔لبنیٰ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
"میں جانتی ہوں… اور شاید یہ بھی چاہتی ہوں کہ تم مجھ پر فدا ہو جاؤ۔"
"جی؟" ارمان کی حیرانی کے ساتھ ہلکی مسکراہٹ بھی لبوں پر آ گئی۔
"جی، بالکل۔" لبنیٰ نے اعتماد سے جواب دیا۔
"میں تو پہلے ہی فدا ہو چکا ہوں،" ارمان نے آہستگی سے کہا۔
دونوں کی نظریں ایک دوسرے میں گم تھیں کہ فوٹوگرافر کی آواز آئی ۔ "اسمارٹ لوگ! مسکرا دیجیے"
کیمرا فلیش ہوا، اور ایک لمحہ ہمیشہ کے لیے تصویر میں قید ہو گیا۔
لبنیٰ نے ہنستے ہوئے کہا، "تو پھر میں تمہارا نام فدا حسین رکھ لوں؟"
ارمان نے مسکرا کر جواب دیا، "جیسا آپ کو اچھا لگے… ویسے میرا نام ارمان ہے۔"
"اور میرا لبنیٰ۔"
شادی کی تقریب ختم ہونے تک وہ نہ صرف ایک دوسرے کے نمبر دے چکے تھے بلکہ دل کی چند پرتیں بھی کھول چکے تھے۔ ارمان کے لیے یہ احساس نیا تھا، کچھ عجیب بھی لبنیٰ عمر میں اس سے کئی سال چھوٹی تھی، مگر عشق میں عمر کہاں دیکھی جاتی ہے… وہاں تو صرف دل کی دھڑکنیں گنتی ہیں، اور ان کے دلوں کی دھڑکنیں ایک ہی تال میں بس چکی تھیں۔
رات گہری ہو چکی تھی۔ شادی کی ہلچل، قہقہے، موسیقی ْ۔ سب یادوں میں بدل چکے تھے، مگر لبنیٰ کی وہ آواز اور وہ مسکراہٹ ارمان کے ذہن میں تازہ تھیں۔
ارمان کے کمرے میں صرف میز لیمپ کی ہلکی زرد روشنی تھی جو ایک پراسرار سایہ بازی کر رہی تھی۔ وہ بیڈ پر بیٹھا فون گھما رہا تھا، کبھی اسکرین پر لبنیٰ کا نمبر دیکھتا، کبھی خود پر ہنستا۔ اس کے دل میں امید اور بے یقینی کی لہریں ٹکرا رہی تھیں۔
"پاگل مت بن،" وہ خود سے بولا۔ "وہ شاید بھول بھی گئی ہو گی۔ ایک شام کی ملاقات کیا اتنی اہم ہے؟"
لیکن جیسے ہی اُس نے فون سائیڈ پر رکھنے کا فیصلہ کیا، اسکرین پر ایک نام ابھرا
"لبنیٰ "
ارمان کے دل کی دھڑکن بےقابو ہو گئی۔ اس کا ہاتھ کانپنے لگا۔ کیا یہ حقیقی تھا؟ کیا وہ لڑکی جس نے کہا تھا "تم مجھ پر فدا ہو جاؤ" واقعی اسے فون کر رہی تھی؟
اس نے ایک لمحے کو خود کو سنبھالا، گہری سانس لی جیسے ڈوبتا ہوا آدمی آخری سانس لے رہا ہو، اور کال ریسیو کر لی۔
"ہیلو…" اس کی آواز میں ہلکی سی لرزش تھی۔
"ہیلو ارمان۔"
یہ آواز جیسے ہوا میں گھل گئی۔ نرم، معصوم، مگر ایک عجیب اعتماد کے ساتھ ۔ وہی شوخ اعتماد جو اس نے شادی میں دیکھا تھا۔
"میں سوچ رہی تھی تم شاید نمبر غلط دے گئے ہو گے،" لبنیٰ نے شوخی سے کہا، اس کے لہجے میں ایک کھلکھلاتا ہوا لہجہ تھا۔
"اور میں سوچ رہا تھا کہ تم کبھی کال نہیں کرو گی،" ارمان نے مسکرا کر جواب دیا، اس کی آواز میں وہ سنجیدگی جو پہلی ملاقات میں تھی۔
دونوں لمحہ بھر کے لیے خاموش ہو گئے۔ وہ خاموشی بھی جیسے گفتگو کا حصہ بن گئی تھی ۔ ایک آرام دہ، بامعنی خاموشی۔ دور کہیں گاڑی کی ہلکی آواز، اور درمیان میں صرف ان کی سانسوں کی مدھم گونج۔
"تو… تم واقعی فوٹو میں اچھے لگ رہے تھے،" لبنیٰ نے آہستگی سے کہا، جیسے یہ اعتراف کرنے میں ہلکی سی جھجک ہو۔
"فوٹو میں؟ تو مطلب تم نے دیکھی؟" ارمان نے حیرت سے پوچھا، اس کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی۔
"ہاں، میری امی نے سب تصویریں منگوائی تھیں۔ تمہارے چہرے پر کچھ الگ سا سکون تھا۔"
"شاید اس لیے کہ میرے آس پاس تم تھیں،" ارمان کے لہجے میں نرمی تھی، مگر یہ بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی۔
"ایک تصویر... میں نے خاص طور پر دیکھی ہے،" لبنیٰ کی آواز میں ایک نئی جرات آئی۔ "اس میں تم دلہا اور دلہن کے پیچھے کھڑے ہو اور ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے ہیں۔ میں نے اسے زوم کیا ہے... اور اب تمہیں واٹس ایپ کر رہی ہوں۔ دیکھ لو؟"
ارمان کے فون پر ایک میسج آیا۔ اس نے تصویر کھولی ۔ وہ لمحہ جب فوٹوگرافر نے "اسمارٹ لوگ!" کہا تھا۔ تصویر میں وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، ان کی نظروں میں وہی کھلی ہوئی دلچسپی اور ایک گہرا فہم جو صرف دو روحیں ہی ایک دوسرے کو دے سکتی ہیں۔
اور پھر، اس ایک تصویر اور ایک کال نے ان دونوں کے درمیان ایک ایسا رشتہ شروع کیا جو آنے والی راتوں میں لمبی باتوں، گہری خاموشیوں، اور ایک ایسی محبت میں بدل گیا جس کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
وقت اپنی رفتار سے گزرتا گیا۔ لبنیٰ اور ارمان کے درمیان پیغاموں، فون کالز، اور لمبی گفتگوؤں نے ایک ایسا رشتہ بنا دیا تھا جس کی بنیاد لفظوں پر نہیں، احساس پر تھی۔
ارمان کی دنیا، جو کبھی برف جیسی سرد تھی، اب لبنیٰ کے لہجے کی گرمی سے پگھلنے لگی تھی۔ وہ جب ہنستی تو جیسے موسم بدل جاتا، اور جب خاموش ہوتی تو ارمان کے دل پر بادل چھا جاتے۔
مگر محبت، جب حد سے بڑھ جائے، تو امتحان بن جاتی ہے۔
ان کے درمیان نہ صرف زبان، بلکہ سوچ، رسم، روایت ۔ سب کچھ مختلف تھا۔ مگر محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کا عہد ایک ہی تھا۔
ایک رات فون پر لمبی خاموشی کے بعد لبنیٰ نے کہا: "ارمان، یہاں رہ کر ہم کبھی اکٹھے نہیں ہو سکیں گے۔ میرے گھر والے تو مجھے زندہ درگور کر دیں گے مگر اپنی 'انا' کا سودا نہیں کریں گے۔"
ارمان نے گہری سانس بھر کر جواب دیا: "تو پھر ہمیں ایک راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ ایک ایسی جگہ جہاں ہم صرف اپنے دل کی سن سکیں۔"
اور پھر دونوں نے ایک نیا فیصلہ کیا ۔ ایک خطرناک، مگر امید سے بھرا فیصلہ۔ ارمان کوالالمپور میں نوکری کا بہانہ بنا کر پہلے وہاں جائے گا۔، تو لبنیٰ بھی کسی طرح 'پڑھائی' کے بہانے وہاں پہنچنے کی کوشش کرے گی۔ شاید اس طرح وہ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
لہٰذا، کسی کو بتائے بغیر ۔ نہ گھر والوں کو، نہ دوستوں کو ۔ ارمان نے اپنی ساری جمع پونجی ایک ایجنٹ کو دے دی جس نے یقین دِلایا کہ ملائیشیا میں ایک اچھی نوکری ہے اور وہ آرام سے ویزا بنا دے گا۔
جہاز نے کوالالمپور کے لیے اڑان بھری۔ ارمان کی آنکھوں میں لبنیٰ کا خواب تھا، ارمان اور باقی پانچ نوجوانوں کے پاس صرف وزیٹر ویزاے تھے، اور ان وجوانوں کو ایجنٹ نے یقین دِلایا تھا کہ جب وہ ملائیشیا پہنچ کر اس 'کمپنی' میں کام شروع کریں گے ، تو ان کا وزیٹر ویزا فوراً ورک ویزا میں تبدیل ہو جائے گا۔ "یہ کمپنی کی پالیسی ہے،" ایجنٹ نے پر اعتماد انداز میں کہا تھا۔
ہوائی جہاز آہستہ آہستہ بادلوں کے پردے چیرتا ہوا بلندی پر جا رہا تھا۔ نیچے شہر کی روشنیاں یوں مدھم ہوتی جارہی تھیں جیسے خوابوں کا ایک نگر دھیرے دھیرے دھند میں تحلیل ہورہا ہو۔ ارمان نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو دل میں لبنیٰ کا خیال ایک نرم لہر کی طرح اُبھرا۔ مسکراتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کرلیں ۔ اُس کے تصور میں ایک نئی زندگی کا منظر روشن تھا، جہاں ہر صبح لبنیٰ کی مسکراہٹ سے شروع ہوتی، ہر شام اُس کی باتوں کی خوشبو سے مہکتی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب کوئی دکھ باقی نہیں رہے گا، وہ لبنیٰ کو دنیا کی ہر خوشی، ہر سکون دینا چاہتا تھا... جیسے اُس کے وجود کا مقصد ہی اُس کی مسکراہٹ بن گیا ہو۔
اگلے چند گھنٹے گویا وقت اور سوچ کے درمیان معلق تھے۔ ہوائی جہاز کی کھڑکی سے باہر کوالالمپور کی روشنیاں کسی ستاروں سے جڑے قالین کی مانند پھیلی ہوئی تھیں، جیسے زمین نے خود کو آسمان کے رنگوں میں لپیٹ لیا ہو۔ ارمان کی آنکھوں میں تھکن اور اُمید کی ملی جلی جھلک تھی ۔ جیسے دل کہہ رہا ہو کہ ایک نیا سفر بس اب شروع ہونے ہی والا ہے۔
اچانک اُس کے ذہن میں وہ کاغذ کا چھوٹا سا پرزہ چمکا ،ایجنٹ کا دیا ہوا، جس پر ایک نمبر درج تھا۔ ایجنٹ نے رخصت ہوتے وقت گہری نظروں سے کہا تھا۔“دیکھو، یہ نمبر اپنے پاس محفوظ رکھنا۔ جیسے ہی ہوائی اڈے پر پہنچو، فارق کو فون کر دینا۔”اور پھر آہستہ سے اس نام پر زور دیا ۔ جیسے “فارق” کوئی راز کا کوڈ ہو، یا کسی دروازے کی چابی۔“وہ امیگریشن سے لے کر رہائش تک سب کچھ سنبھال لے گا۔ تم بس اس پر بھروسہ رکھنا۔”یہ جملے ارمان کے ذہن میں کسی جادوئی منتر کی طرح گونجنے لگے۔ اُس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی ۔ جیسے کسی انجانے ملک کے اندھیرے میں ایک نئی زندگی کی روشنی جھلکنے لگی ہو۔بے یقینی کی جگہ ایک سنسنی خیز جوش نے لے لی تھی؛ وہ خود کو ایک ایسے موڑ پر محسوس کر رہا تھا جہاں خواب اور حقیقت ایک دوسرے میں گھلنے لگے تھے۔
جہاز کے پہیے رن وے سے چھُوئے تو ایک ہلکی سی کپکپاہٹ نے ارمان کو اُس کے خیالوں سے باہر نکال دیا۔ کوالالمپور کی فضا میں ایک نمی بھری تازگی تھی جیسے ہوا میں بارش اور مٹی کی خوشبو گھلی ہو۔امیگریشن ہال میں قطاریں لمبی تھیں، مگر ارمان کے ذہن میں صرف ایک خیال تھا ۔ فارق کو فون کرنا ہے۔
اُس نے جیب سے وہ پرچی نکالی، جس پر نمبر لکھا تھا، اور تھوڑی جھجک کے بعد فون ملایا۔
دوسری طرف سے ایک دبنگ مگر نرم لہجہ ابھرا۔
“ٹھیک ہے، آپ پریشان مت ہونا۔ بس ایک ایک کرکے کاؤنٹر نمبر ۱۰ پر جانا۔ وہاں ایک نوجوان افسر ہوگا ۔ وہی تمہاری فائل دیکھے گا۔ زیادہ سوال نہیں کرے گا، بس عام بات چیت ہوگی۔ پھر باہر آکر دائیں جانب کھڑے رہنا۔ میں وہیں آؤں گا۔”
فون بند ہوا تو ارمان کے دل کی دھڑکن تیز تھی، مگر فارق کی آواز میں یقین کا عجب سکون تھا۔
چند منٹ بعد جب وہ اُس مخصوص کاؤنٹر پر پہنچا تو واقعی ایک کم عمر، خوش اخلاق امیگریشن آفیسر نے معمولی سوال کیے
آفیسر نے مسکرا کر پاسپورٹ پر مہر لگائی ۔
“ویلکم ٹو ملیشیا!”
ارمان نے شکر کی سانس لی اور باہر آ گیا۔
باہر روشنی پھیل چکی تھی۔ ائیرپورٹ کے دروازے کے سامنے ایک دبلا پتلا بنگالی نوجوان کھڑا تھا، چہرے پر خلوص بھری مسکراہٹ، ہاتھ میں موبائل، اور قریب ہی ایک بڑی سفید وین پارک تھی۔
“آپ ارمان بھائی؟ میں فارق۔ آؤ، سب لوگ بیٹھ جاؤ، یہاں سے سیدھا چلتے ہیں۔”
ارمان اور باقی پانچ نوجوان وین میں بیٹھ گئے۔ انجن کی آواز کے ساتھ ایک نیا منظر اُن کے سامنے کھلنے لگا ۔کوالالمپور کی سڑکیں صاف، چمکدار اور زندگی سے بھرپور تھیں۔فلک بوس عمارتیں سورج کی کرنوں میں ایسے چمک رہی تھیں جیسے شیشے کے محل، درختوں کے درمیان سنہری روشنی جھلملاتی تھی،اور ہر جانب ایک نظم و ترتیب محسوس ہوتی ۔ جیسے یہ شہر وقت سے آگے چل رہا ہو۔
سڑک کے کنارے رنگ برنگے بورڈ، خوشبو دار کھانے، اور برق رفتار موٹر سائیکلیں زندگی کے شور میں گم تھیں۔ ارمان نے وین کی کھڑکی سے باہر دیکھا ۔یہ شہر اُس کے خوابوں سے زیادہ حسین،اور اُس کی حقیقت سے زیادہ خاموش لگ رہا تھا۔
وین شہر کے مصروف راستوں سے گزر کر ایک نسبتاً خاموش علاقے میں داخل ہوئی۔
سڑک کے دونوں طرف درختوں کی قطاریں تھیں جن کی پتیاں رات کی نمی دن کی ہلکی روشنی میں چمک رہی تھیں۔فض ا میں سمندر کی خوشبو تیر رہی تھی۔ نم، نرم اور تھکی ہوئی ۔ جیسے ہوا خود بھی دن بھر کے شور کے بعد سستانا چاہتی ہو۔
فارق نے وین ایک تنگ گلی میں موڑی اور ایک پرانی مگر صاف ستھری عمارت کے سامنے روک دی۔دروازے سے اترتے ہوئے وہ بولا،
“آپ لوگ کچھ دن یہاں رہیں گے۔ پھر میں آؤں گا اور تمہیں ایک دوسرے شہر لے جاؤں گا۔ وہاں تمہارا کام بھی ہوگا اور رہائش بھی۔ تب تک آرام کرو، کوالالمپور گھوم لو۔”
عمارت کی تیسری منزل پر ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی ایک مدھم بلب کی زرد روشنی دیواروں پر پھیل گئی۔ہوا میں بند کمرے کی ہلکی سی بوسیدگی تھی۔کمرہ صاف تو تھا مگر خالی،نہ کوئی بیڈ، نہ الماری، نہ کرسیاں۔صرف دیوار پر ایک پرانا پنکھا گھوم رہا تھا جو گرمی سے زیادہ خاموشی کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ارمان نے حیران ہو کر کہا،“فاروق صاحب، اس میں تو کوئی فرنیچر ہی نہیں ہے؟”
فاروق نے مسکرا کر کندھے اُچکائے،
“اس کا بندوبست آپ لوگوں کو خود کرنا ہوگا۔ قریب کی مارکیٹ میں سب کچھ سستا مل جائے گا۔ میں راستہ بتا دیتا ہوں۔”اس نے موبائل پر ایک نقشہ دکھایا، چند ہدایات دیں اور جاتے ہوئے کہا،“میں دو تین دن بعد واپس آؤں گا، تب تک آرام سے رہو۔”
دروازہ بند ہوا تو ایک گہری خاموشی کمرے میں پھیل گئی۔ ارمان نے بیگ ایک طرف رکھا اور کھڑکی کے قریب جا کھڑا ہوا۔نیچے سڑک پر دن کی روشنیوں کا سلسلہ ابھی تک زندہ تھا ۔ دور کہیں گاڑیوں کی ہلکی آواز، اور ہوا میں کسی اجنبی زبان کے الفاظ۔
اس نے گہری سانس لی۔دل میں ایک عجیب سا خالی پن تھا ۔ جیسے سب کچھ نیا بھی ہے اور انجان بھی۔ کمرے میں موجود دوسرے نوجوان خاموش بیٹھے تھے، چہروں پر تھکن اور آنکھوں میں امید کی ایک دھند۔ سب کے درمیان وہی ایک احساس مشترک تھا:پردیس کا خواب اور گھر سے دوری کی چبھن۔
ارمان نے موبائل نکالا، مگر اسکرین پر “وائی فائی نہیں ہے۔” چمک رہا تھا۔
ائیرپورٹ کی سہولت اب محض یاد بن چکی تھی۔وہ لمحہ بھر کے لیے لبنیٰ کی تصویر دیکھتا رہا،
پھر فون بند کر کے کھڑکی سے باہر رات کو تکتا رہ گیا ۔جہاں دن کی روشنیوں میں اجنبیت بھی تھی اور ایک نئی زندگی کا وعدہ بھی۔
سفر کی تھکاوٹ تو سب نوجوانوں کے چہروں پر چھائی ہوئی تھی، مگر بغیر کھانے کے خالی پیٹ زمین پر کیسے سوئی جا سکتا تھا؟ فلیٹ میں کچن کی شکل تو موجود تھی، مگر وہ بے جان تھا۔ نہ چولہا، نہ برتن، نہ ہی کوئی بنیادی سامان۔ ارمان کے ذہن میں ایک اور خواہش بھی کلبلا رہی تھی۔وہ اپنے لیے ایک نئی سم کارڈ خریدنا چاہتا تھا تاکہ لبنٰی سے بات کر سکے، اس کی آواز سن کر گھر جیسا سکون محسوس کر سکے۔
کوالالمپور کی صبح ایک نئی دنیا کا احساس دلا رہی تھی۔ رات کی بھیڑ اور چمکتی روشنیوں کے برعکس، صبح کی ہلکی خنک ہوا میں تازگی بھری ہوئی تھی۔ سڑکوں پر پانی کے چھینٹے شہر کو دھو رہے تھے، اور درختوں سے جھڑتی دھوپ سڑک پر سنہری لکیریں بناتی جا رہی تھی، جیسے فطرت نے خود راستہ روشن کر دیا ہو۔
چلتے چلتے وہ ایک چھوٹی سی مارکیٹ میں پہنچے۔ یہاں رنگ برنگی دکانیں تھیں، خوشبو دار کھانوں کے اسٹالوں سے اٹھتی بھاپ ہوا میں گھل رہی تھی، اور ہر طرف مختلف زبانوں کی گونج تھی۔مالے، منڈارن، تامل اور انگریزی کے الفاظ ہوا میں تیر رہے تھے۔ ارمان نے پہلی بار محسوس کیا کہ یہاں کی زندگی کتنی تیز اور بےپروا ہے۔ ہر کوئی اپنی دنیا میں مگن تھا، مگر ہر چہرے پر مصروفیت کی ایک چمک تھی، جیسے ہر شخص اپنے مستقبل کو بنانے میں لگا ہوا ہو۔
ارمان نے کچھ بنیادی چیزیں خریدیں۔روٹی، پنیر، پانی۔ ایک تہ کرنے والا بستر اور چہادر۔ باقی نوجوانوں نے بھی اپنے اپنے حصے کا سامان اٹھایا اور سب واپس چل پڑے۔ راستے میں ہی، ارمان نے مارکیٹ میں خریدی ہوئی نئی سم فون میں ڈالی۔ چند منٹ بعد، جب وہ فلیٹ پہنچ کر اس نے لبنٰی کو فون کر کے اپنے حالات سنانا شروع کیے۔ایک نئے ملک کی پہلی صبح، فلیٹ کی کمیوں، اور اس امید کا ذکر کیا جو انہیں اگلے دنوں سے تھی۔
شام کے سائے گہرا رہے تھے، اور کوالالمپور کی گلیاں روشنیوں کے جال میں جگمگا اٹھی تھیں۔ ہوا میں چائنیز، ملے اور ہندی کھانوں کی ملی جلی خوشبو تیر رہی تھی، جیسے پورا شہر ایک وسیع طعام خانہ بن گیا ہو۔ ارمان کے معدے میں شدید بھوک کی کھنک اٹھی، اور سب نے متفقہ طور پر طے کیا کہ آج رات کا کھانا باہر ہی کھایا جائے۔
صرف چند قدم کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا مگر دلکش ریستوران تھا ۔ دیواریں رنگین لائٹس سے سجی تھیں، اور اندر سے مختلف زبانوں کے لہجوں کی شیریں آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ ابھی اپنی میز پر براجمان ہوئے ہی تھے کہ قریب والی میز پر موجود نوجوانوں کے ایک گروپ نے دوستانہ انداز میں ان سے مخاطب ہو کر پوچھا، "کیا آپ لوگ ہمارے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں؟ ہم بھی پردیسی ہیں۔"
یہ گروپ ایک چھوٹی سی اقوام متحدہ جیسا تھا ۔ پاکستانی، ہندوستانی، بنگلہ دیشی، اور افغان نوجوان۔ چند ہی لمحوں میں اجنبیت گرم جوش دوستی میں بدل گئی، اور سب ایک ہی بڑی میز پر جمع ہو گئے۔ باتوں باتوں میں ایک ہندوستانی لڑکے، راول، نے ہنستے ہوئے کہا، "کمال ہے نا؟ اپنے اپنے ملکوں میں ہم ایک دوسرے کے دشمن کہلاتے ہیں، مگر پردیس میں ہم ایک دوسرے کے سب سے بڑے سہارے بن جاتے ہیں۔" اس جملے نے سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی، اور ایک لمحے کے لیے سب نے محسوس کیا کہ پردیس کا دکھ، وطن کی یاد، اور تنہائی ۔ یہ سب کچھ صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو ایک ہی حال سے گزر رہے ہوں۔
کھانے کے دوران راول نے خوشی سے بتایا، "یار! کل مسجد انڈیا کے علاقے میں شاہ رخ خان کی فلم 'ڈان' کی شوٹنگ ہونے والی ہے۔ میں نے سنا ہے وہ خود آ رہے ہیں!" یہ سنتے ہی سب کے چہروں پر بجلی سی دوڑ گئی۔ ارمان کے ساتھیوں نے فوراً فیصلہ کر لیا، "کل صبح ہم سب وہیں جائیں گے — رومانس کے بادشاہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے!"
کھانا ختم ہونے کے بعد سب دروازے کے باہر آئے۔ راول نے جاتے جاتے ارمان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پوچھا، "ویسے تم یہاں کیوں آئے ہو، ارمان؟" ارمان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ حقیقت بتائی کہ وہ بہتر زندگی، روزگار، اور اپنے خوابوں کی تعبیر کی تلاش میں یہاں آیا ہے۔
راول کے چہرے پر اچانک سنجیدگی چھا گئی۔ کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے آہستہ سے کہا، "کل صبح دس بجے یہیں ملتے ہیں
رات کی تاریکی میں واپسی کے دوران، راول نے ارمان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا، "سنو... اپنا پاسپورٹ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا۔ یہاں کے پولیس والے، جنہیں ہم مذاق میں 'ماموں' کہتے ہیں، کسی بھی وقت روک کر چیک کر سکتے ہیں۔" اس کی آواز میں ایک عجیب سا اضطراب تھا، جیسے وہ کوئی ان کہی بات کہہ رہا ہو۔
کمرے کی مدھم روشنی میں بیٹھے ارمان نے فون اٹھایا اور لبنیٰ کو کال کی۔ اس نے پوری دن بھر کی روداد سنائی ۔ نئے دوستوں سے ملاقات، ریستوران کی رنگینی، اور شاہ رخ خان کی شوٹنگ کے پروگرام کے بارے میں۔ لبنیٰ کی ہنسی فون کے پار سے گونجی، "تم بھی نا ارمان، ہر بات کو اتنے جوش سے بتاتے ہو جیسے کوئی فلم چل رہی ہو۔ چلو، کل فلم ہی دیکھ آؤ۔ شاید قسمت تمہیں شاہ رخ سے ملا دے۔" ارمان نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا، "کاش تم بھی ساتھ ہوتیں، لبنیٰ..."
صبح کا سورج جب نکلا تو شہر کی فضا تازگی سے بھری ہوئی تھی۔ نمی زدہ ہوا، مسجد کی اذان کی سریلی آواز، اور بازار کی دکانیں جو ابھی ابھی کھل رہی تھیں۔ ارمان وقت پر پہنچا ، وہی ریستوران، وہی میز جہاں کل ملاقات ہوئی تھی۔
راول پہلے سے وہیں موجود تھا، مگر اس کے ساتھ ایک اور نوجوان بیٹھا تھا ۔ دبلا پتلا، سنجیدہ چہرہ، اور نظریں کسی گہری سوچ میں گم۔ "یہ ندیم ہے، میرے ساتھ کام کرتا ہے،" راول نے مختصر سا تعارف کروایا۔ ندیم نے صرف ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی گہرائی تھی۔
ناشتہ آتے ہی باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ارمان نے احتیاط سے اپنے بیگ سے ورک پرمٹ کے کاغذات نکالے اور راول کے سامنے رکھ دیے۔ راول نے ایک نظر ڈالتے ہی چپ سا ہو گیا۔ اس کے چہرے پر لمحے بھر کے لیے حیرت اور تشویش کی ایک تیز جھلک آئی — پلک جھپکتے ہی غائب ہو گئی، مگر ارمان نے اسے محسوس کر لیا۔ "سب ٹھیک لگ رہے ہیں... تم فکر نہ کرو،" راول نے جلدبازی سے کہا، مگر اس کی آواز میں وہ پراعتماد لہجہ غائب تھا۔
ناشتے کے بعد وہ سب مسجد انڈیا کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے بھر ہنسی مذاق اور چہل پہل رہی، مگر ارمان کے ذہن میں راول کے چہرے پر نظر آنے والی گھبراہٹ کا سوال بار بار گونج رہا تھا۔
سڑکوں پر لوگوں کا ہجوم تھا، فضا میں گہما گہمی، اور ہر طرف فلمی بینر، کیمرے، روشنیوں کے اسٹینڈ، اور شور۔ جب وہ وہاں پہنچے تو نظارہ حیران کن تھا — ہزاروں لوگ ایک ہی سمت کھڑے تھے، کوئی ہاتھ میں موبائل لیے ویڈیو بنا رہا تھا، کوئی چیخ کر بول رہا تھا، اور سب کی نظریں ایک ہی سمت تھیں جہاں شاہ رخ خان کے آنے کی امید تھی۔
سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی راول نے ارمان اور اس کے ساتھیوں کو اپنے فلیٹ پر بلایا۔ "چلو میرے ساتھ، شاید تمہارے کچھ اور نئے دوست بنا دوں"، اس نے مسکراتے ہوئے کہا، آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک کے ساتھ۔
جب وہ راول کے فلیٹ پہنچے تو ان کی حیرت کی کوئی حد نہ رہی۔ دروازہ کھلتے ہی ایک عجیب منظر تھا - ہر طرف بستر ہی بستر تھے۔ قالین پر چٹائیں، اور فرش پر کھلونے کی طرح بچھے ہوئے گدے۔ جگہ جگہ سامنے کے پڑے بیگ اور کپڑوں کے ڈھیر تھے، جیسے کوئی عارضی پناہ گاہ ہو۔
راول نے ہنستے ہوئے وضاحت کی، "دیکھا تم نے؟ یہ تین کمرے ہیں، مگر ہم پندرہ لوگ یہاں رہتے ہیں۔" اس نے ہاتھ گھماتے ہوئے کمرے کا چکر لگایا، "کچھ طالب علم ہیں، کچھ کام کرتے ہیں - سب ایک ہی چھت کے نیچے۔"
ہوا میں کھانے کی خوشبو تھی اور دور سے کسی کے ہنسنے کی آواز آ رہی تھی۔ ایک کونے میں چند نوجوان گروپ بنا کر بیٹھے تھے، کوئی پڑھ رہا تھا تو کوئی لپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔ یہ ایک عجیب سی آبادی تھی - ہر کوئی مصروف مگر ایک دوسرے کے ساتھ۔
ارمان نے حیرت سے یہ منظر دیکھا۔ اسے اپنا خالی سا فلیٹ یاد آیا جہاں وہ اپنےپانچ ساتھیوں کے ساتھ رہ رہے تھے۔ یہاں کی گہماگہمی میں ایک عجیب سا سکون تھا، ایک ایسی برادری جہاں ہر کوئی ایک دوسرے کا سہارا تھا۔
راول نے ایک دبلا پتلا، ذہین صورت نوجوان کی طرف اشارہ کیا جو ایک کونے میں کتابیں لیے بیٹھا تھا۔ "یہ احمد ہے، انجینئرنگ کا طالب علم۔" احمد نے شرماتے ہوئے سر اٹھایا۔ راول نے جاری رکھا، "تمہاری طرح یہ بھی ورک پرمٹ پر آیا تھا، مگر بعد میں اس نے یہاں داخلہ لے لیا اور اب آخری سمسٹر میں ہے۔"
راول نے ارمان کی طرف دیکھا، "کیا تم اپنا ورک پرمٹ احمد کو دکھا سکتے ہو؟ وہ ان معاملات کو بہتر سمجھتا ہے۔" ارمان نے اپنا بستہ کھولا اور کاغذات کا وہ پلندہ نکالا جس پر اس نے اپنی تمام امیدیں مرکوز کر رکھی تھیں۔
احمد نے کاغذات ہاتھ میں لیتے ہی پہلی نظر میں ہی کچھ بھانپ لیا۔ اس کا چہرہ فوراً سنجیدہ ہو گیا۔ وہ کاغذات کو غور سے دیکھتا رہا، پھر ایک گہری سانس لے کر بولا:
"ارمان، سنو... زیادہ گھبرانا نہیں۔ تم اس معاملے میں اکیلے نہیں ہو۔" اس کی آواز میں ہمدردی اور تجربے کی گہرائی تھی۔ "یہ ورک پرمٹ... یہ جعلی ہے۔"
یہ سنتے ہی کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ ارمان کے ساتھیوں کے چہرے فق کی طرح سفید پڑ گئے۔
احمد نے کاغذ کو روشنی کی طرف کرتے ہوئے وضاحت کی، "دیکھو یہ دستخط... یہ ہاتھ سے نہیں ہے۔ کمپیوٹر سے پرنٹ کیا گیا ہے۔ یہاں مسجد انڈیا میں ایسے جعلی کاغذات پچاس ڈالر میں بن جاتے ہیں۔"
احمد نے کاغذات واپس کرتے ہوئے کہا، "میرے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی ہوا تھا۔ میں بھی تمہاری طرح اس جھوٹے وعدے پر آیا تھا۔ ہم میں سے بہتوں کے ساتھ یہی ہوا ہے۔"
ارمان نے اپنے ہاتھوں میں وہ کاغذات تھامے جو اب محض بے وقعت کاغذ کا ٹکڑا لگ رہے تھے۔ اس کے سامنے اس کی تمام خوابوں کی عمارت ڈھے گئی۔ وہ کچھ بول نہ سکا، صرف احمد اور راول کے چہروں پر نظر جمائے رہا، جو اس المیے کے گواہ تھے۔
احمد کے انکشاف کے ساتھ ہی کمرے میں ایک گہرا سناٹا چھا گیا۔ ارمان کے ساتھیوں کے چہرے فق کی طرح سفید پڑ گئے، جیسے کسی نے اچانک ان کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی ہو۔
"نہیں... یہ تو نہیں ہو سکتا!" ایک نوجوان نے حیرت سے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا۔ "امیگریشن، فاروق، اور وہ فلیٹ... یہ سب کیسے جعلی ہو سکتے ہیں؟ ہم نے تو اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا تھا!"
بغیر ایک لفظ کہے، راول نے فون اٹھایا۔ پہلے فاروق کا نمبر ڈایلا کیا ۔ "یہ نمبر موجود نہیں ہے"۔ پھر پاکستان میں ایجنٹ کا نمبر ۔ وہی پیغام۔ ہوا اکھڑ گئی تھی۔
ارمان کا چہرہ مایوسی سے ڈوبا ہوا تھا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی جب اس نے پوچھا: "پھر وہ فلیٹ؟"
راول نے آنکھیں چراتے ہوئے جواب دیا: "وہ بھی عارضی ہے۔ کچھ ہی دنوں میں مالک سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ آئے گا اور تمہیں باہر نکال دے گا۔ تم لوگ اس کی نظر میں گھر پر قبضہ کرنے والے ہو۔"
راول نے سنجیدگی سے کہا: "تم لوگ پہلے یہاں آ کر رہو۔ ہم تمہیں کوئی حل نکالنے میں مدد کریں گے۔ یہ تمہاری غلطی نہیں ہے۔ تم سب دھوکے کا شکار ہوئے ہو۔"
واپس فلیٹ کے راستے میں کوئی بول نہیں رہا تھا۔ ہر ایک اپنے خیالات میں گم تھا۔ ارمان کے دل پر ہر ساتھی کی پریشانی چوٹ لگا رہی تھی، مگر وہ سب اب بھی اس کڑوی حقیقت کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔
اگلی صبح، جب وہ تھکاوٹ اور صدمے کی گہری نیند میں ڈوبے ہوئے تھے، اچانک دروازے پر زوردار دستک نے سب کی آنکھیں کھول دیں۔ دروازہ کھلتے ہی ایک موٹے قد آور آدمی کے ساتھ تین سیکیورٹی گارڈ کھڑے تھے۔
"یہ میرا فلیٹ ہے! تم لوگ یہاں کس اجازت سے رہ رہے ہو؟" وہ شخص غصے سے چلایا۔ "یا تو ابھی نکلو، ورنہ پولیس بلا کر تم سب کو جیل بھجوا دوں گا!"
راول کی پیشین گوئی سچ ثابت ہو رہی تھی۔ وہ واقعی کسی اور کی جگہ پر غیرقانونی طور پر رہ رہے تھے۔
سامان کے بستے تھامے وہ سڑک پر کھڑے تھے۔ صبح کی روشنی میں ان کے چہرے تھکاوٹ اور مایوسی سے بھرے ہوئے تھے۔ ارمان نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا — ہر ایک کی آنکھوں میں مستقبل کا خوف صاف نظر آ رہا تھا۔
"اب کہاں جائیں گے؟" ایک ساتھی نے ناامیدی سے پوچھا۔
ارمان نے گہری سانس لے کر کہا: "راول کے پاس۔ ابھی کے لیے وہی ہماری واحد امید ہے۔"
راول اور ارمان ۔ ایک انڈیا کا، دوسرا پاکستان کا ۔ مگر انسانیت کی محبت نے انہیں ایک کر دیا تھا۔ راول نے اپنے فرض کو نبھاتے ہوئے ارمان کی مدد کا بیڑا اٹھایا۔ وہ اسے روزانہ مختلف جگہوں پر لے جاتا، نوکری کے امکانات تلاش کرتا۔ کچھ جگہوں پر امید کی کرن دکھائی دیتی، مگر قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ دروازے کھلتے اور پھر بند ہو جاتے۔
ارمان کو کوالالمپور پہنچے ایک مہینہ گزر چکا تھا، مگر حالات میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی تھی۔ ہر صبح نئی امیدوں کے ساتھ شروع ہوتی، اور ہر شام مایوسی کے ساتھ ڈھل جاتی۔ اس کے پاس اب وہ خواب نہیں رہے تھے جن کے سہارے وہ یہاں آیا تھا۔
سب سے مشکل تھا لبنیٰ سے بات کرنا۔ ارمان نے اسے سچائی چھپا رکھی تھی۔ فون پر وہ مصنوعی خوشی کی آواز میں بات کرتا، اپنے درد کو الفاظ کے پردے میں چھپاتا۔ "سب ٹھیک ہے، پیاری۔ بس تمہاری بہت یاد آتی ہے۔"
لبنیٰ کو احساس ہونے لگا تھا کہ کچھ تو غلط ہے۔ ارمان کی آواز میں وہ پرجوش لہجہ کہاں گیا؟ وہ بے چینی سے پوچھتی: "تمہیں کوئی پریشانی تو نہیں ہے؟ تمہاری آواز میں وہ بات نہیں رہی۔"
ارمان گہری سانس لے کر جواب دیتا: "نہیں جان، بس تم سے دوری کا غم ہے۔ کام جلد ہی شروع ہو جائے گا، پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔" وہ جانتا تھا کہ یہ جھوٹ ہے، مگر لبنیٰ کو تکلیف دینا اس کے لیے ممکن نہیں تھا۔
فون رکھنے کے بعد ارمان کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا ہو جاتا۔ نیچے بہتی ہوئی گاڑیوں کی روشنیاں اسے اپنے ٹوٹے ہوئے خواب یاد دلاتیں۔ وہ سوچتا ۔ کب تک چھپاتا رہے گا؟ کب تک جھوٹ بولتا رہے گا؟
راول سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ ایک دن اس نے ارمان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا: "مت ہارو امید۔ مشکل وقت گزر جائیں گے۔ تمہاری محنت رنگ لائے گی۔" میرے خیال میں تم اس کو یہ ساری باتیں بتادو جس کے لئے تم یہ سب لچھ کررہی ہو،
ارمان نے مسکرانے کی کوشش کی، مگر اس کی آنکھوں میں چھپا درد بول اٹھا۔ وہ جانتا تھا کہ وقت گزر رہا ہے، اور حقیقت سے مفر ممکن نہیں۔ اور پھر اگلے دن اس نے لنبٰی کو ساری باتیں بتادی۔ اس اس کے ساتھ کیا ہوچکا ہے۔
جب فون کی گھنٹی بجی تو لبنٰی کے چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ وہ ہمیشہ کی طرح پُر امید تھی کہ ارمان اسے کوئی اچھی خبر سنائے گا۔ مگر جیسے ہی اس نے ارمان کی آواز سنی، اس کا دل ڈوب سا گیا۔ آواز میں وہ جوش نہیں تھا، نہ وہ والی چمک تھی۔
ارمان نے جب بات شروع کی تو لبنٰی نے خاموشی سے سننا شروع کیا۔ ہر لفظ اس کے دل پر چوٹ کی طرح لگ رہا تھا۔ وہ سانس روکے ہوئے تھی، اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ جب ارمان نے دھوکے، جعلی ورک پرمٹ، اور فلیٹ سے نکالے جانے کی کہانی سنائی تو لبنٰی کی آنکھوں میں آنسو چھلک پڑے۔
لبنیٰ نے آواز میں مضبوطی لاتے ہوئے کہا: "سنو ارمان، تم ہار مت ماننا۔ تم وہاں سے واپس آ سکتے ہو۔ ہم ساتھ مل کر سب کچھ سنبھال لیں گے۔ تمہاری عزت، تمہاری محنت - یہ سب تم سے زیادہ قیمتی ہے۔"
فون رکھتے وقت لبنٰی کے چہرے پر آنسو تھے مگر اس کی آنکھوں میں ایک نیا عزم تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ اب وہ ارمان کی حقیقی ساتھی بن گئی ہے - خوشیوں کی ہی نہیں، مصیبتوں کی بھی۔
اگلے چند ہفتے ارمان کے لیے یوں گزرے جیسے اس نے برسوں پرانی زندگی کا بوجھ ایک ہی سانس میں اٹھا لیا ہو۔ ہر صبح نئی امیدوں کے سورج کے ساتھ آنکھ کھلتی، مگر شام تک وہی خوابوں کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے دل کے آس پاس بکھرے رہ جاتے۔ درخواستیں، انٹرویوز، اور پھر فون کی بے حس خاموشی۔جیسے قسمت خود تماشائی بن کر اس کی جدوجہد دیکھ رہی ہو۔
اس خاموش جنگ میں ارمان نے صبر اور شکست کے درمیان ایک نیا ہنر سیکھا — انتظار کا ہنر۔اور پھر ایک رات، لبنیٰ کے ساتھ طویل فون کال کے بعد، اس نے دل ہی دل میں ایک فیصلہ کر لیا ۔ واپسی کا، پاکستان واپسی کا۔
دل کے زخم پرانے ضرور تھے مگر ان کے نیچے ایک نئی دھڑکن جاگ اٹھی تھی۔جب بھی وہ لبنیٰ کا نام سوچتا، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تیر جاتی، جیسے کوئی گمشدہ خواب پھر سے زندہ ہو گیا ہو۔اب کی بار اس کے خوابوں میں کوئی فریب نہ تھا۔ بس لبنیٰ کی آنکھوں کی روشنی اور اس کے لمس کا انتظار تھا۔
ایک شام، جب ہوا میں چائے کی بھاپ اور شام کی خموشی گھل رہی تھی، وہ دونوں زلف آور کے گھر میں بیٹھے تھے۔زلف آور کی باتوں میں ہمیشہ ایک عجیب سا جادو ہوتا تھا، مگر آج ان کی آواز میں ایک خفیہ سازش بھی تھی۔ "دیکھو ارمان،" وہ آہستہ سے بولے، "زندگی کا وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ بھاگ کر شادی کر لو۔ میرے ایک دوست اسلام آباد میں ہیں، تمہیں پناہ دے دیں گے۔یہ رسمیں، یہ بندشیں، کب تک تمہیں زنجیر بن کر روکتی رہیں گی؟"
لبنیٰ نے چونک کر ارمان کی طرف دیکھا۔ لمحہ بھر کو اس کی آنکھوں میں وہی روشنی جھلکی جو محبت کو دیوانگی بنا دیتی ہے ۔مگر اگلے ہی لمحے وہ چمک ماند پڑ گئی۔ اس نے ارمان کی نگاہوں میں ہی جواب پڑھ لیا۔
ارمان نے دھیرے سے کہا، "نہیں زلف آور... ہم بھاگ کر نہیں جیتیں گے۔ ہم اپنوں کا دل جیت کر جیتنا چاہتے ہیں۔"اس کے لہجے میں ایک نرم عزم تھا — جیسے دریا نے اپنے راستے میں پتھر دیکھ کر رخ بدلنے سے انکار کر دیا ہو۔
اور یوں ایک نئی جدوجہد کا آغاز ہوا ۔دروازوں پر دستکیں، منتیں، وضاحتیں، اور لبنیٰ کے آنسو جو ہر بار دعا بن کر بہہ جاتے۔آخرکار ایک شام، لبنیٰ کی ماں نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلایا۔بس وہ لمحہ ایسا تھا جیسے کسی اندھیری رات میں پہلی کرن جھلک جائے۔
مگر ارمان کے گھر کی فضائیں اس روشنی سے محروم رہیں۔رشتے کا نام سنتے ہی خاموشی کی ایک دیوار سی کھڑی ہو گئی ۔ اس کی ماں کا چہرہ ایسا تھا جیسے ایک بند قلعہ، جہاں کوئی لفظ، کوئی التجا، کوئی آنسو رسائی نہ پا سکے۔
جب ارمان کے گھر والوں نے آخری مرتبہ بھی ایک ہی جواب دیا ۔ "ہرگز نہیں" ۔ تو ایسا لگا جیسے امید کی آخری شمع بھی ہوا کے ایک جھونکے سے بجھ گئی ہو۔ ہوا میں محبت کے خوابوں کی خاک اڑنے لگی۔ لبنٰی کی آنکھوں میں وہی سوال تھا جو کئی راتوں سے ان کے درمیان خاموشی کی ایک موٹی دیوار بن کر کھڑا تھا ۔ "اب کیا ہوگا؟"
ایک سہمی ہوئی شام، زلف آور کی پرانی بالکونی میں، جہاں کبھی ان کے خوابوں نے پر تولے تھے، اب صرف مایوسی کی چادر بچھی تھی۔ ہوا میں چائے کی مہک کے ساتھ ناکامی کا تلذز بھی تھا۔
"اگر یہاں کے تمام دروازے بند ہیں، تو شاید کہیں اور کوئی کھڑکی کھل جائے..." لبنٰی کے یہ الفاظ اس کی آواز میں کہیں زیادہ بہادری جھلکا رہے تھے، مگر ارمان کو اس میں اپنی ہی ٹوٹتی ہوئی امیدوں کی صدائیں سنائی دے رہی تھی۔
یوں، دونوں نے مل کر یورپ کے ویزے کے لیے درخواست دی — ایک ایسا خواب جو آزادی، عزتِ نفس، اور ایک نئی زندگی کا متلاشی تھا۔ کاغذوں کی جنگ لڑی گئی، انٹرویو دیا گیا، اور پھر وہ دن بھی آ گیا جس نے دونوں کی دنیا کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔
ارمان کا ویزا منظور ہو گیا۔
لبنٰی کا... مسترد۔
کمرے میں ایسی خاموشی چھا گئی جیسے وقت اور رک سا گیا ہو۔ صرف لبنٰی کے سینے کی تیز دھڑکنیں اور ارمان کے ہونٹوں پر لرزتا ہوا سانس کا بخار سنائی دے رہا تھا۔ ارمان نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں، "میں... میں تمہارے بغیر نہیں جا سکتا۔ اکیلے اس سفر کا کوئی مطلب نہیں۔"
لبنٰی نے ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں جھانکا ۔ وہی آنکھیں جو کبھی ان کے مشترکہ مستقبل کا نقشہ دیکھا کرتی تھیں۔ پھر وہ مسکرائی، مگر وہ مسکراہٹ اس کے آنسوؤں سے بھی زیادہ زہریلی اور کڑوی تھی۔
"نہیں، ارمان۔ تمہیں جانا ہوگا۔" اس کی آواز میں فولاد کی طرح ٹھنڈی مضبوطی تھی، "کبھی کبھی محبت... اپنا روپ بدل کر قربانی بن جاتی ہے۔ میری خاطر، ہمارے مشترکہ خواب کی خاطر، تمہیں یہ سفر تنہا طے کرنا ہوگا۔"
ایئرپورٹ کی روانگی سے پہلے، جب ہال میں الوداعی کی گھڑی ٹک ٹک کر رہی تھی، لبنٰی نے ارمان کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی، پرانی دعا کی کتاب تھمائی۔ کتاب کے پہلے صفحے پر اس نے لکھا تھا: "جہاں کہیں بھی جاؤ، اس کتاب کے کناروں پر میرے لیے دعا لکھتے رہنا۔"
فرانس کی سرزمین پر پہلا قدم رکھتے ہی ارمان نے خود کو ایک ایسی دنیا میں پایا جہاں سب کچھ اجنبی تھا ۔ زبانیں، چہرے، موسموں کی بے رحمی... اور اس کا اپنا دل، جو ہر دھڑکن کے ساتھ صرف ایک ہی نام پکارتا تھا: "لبنٰی۔"
پیرس کے شارل ڈی گول ہوائی اڈے پر قدم رکھتے ہی ارمان نے ایک ایسی سانس لی جو سینے میں ہی رک سی گئی۔ یہ نہ تھی راحت کی آہ، نہ ہی بوجھ کا احساس ۔ بلکہ دونوں کے درمیان کہیں پھنسی ہوئی ایک ایسی سانس تھی جو اندر ہی اندر ڈوبتی چلی جا رہی تھی۔ باہر پیرس کی روشنیاں جگمگا رہی تھیں، مگر اس کی آنکھوں کے سامنے تو صرف لبنٰی کا وہ آخری منظر تھا، جب وہ مسکرا رہی تھی مگر آنسو نگل رہی تھی۔
کچھ دیر وہ امیگریشن ہال میں کھڑا رہا، جیسے اپنے آپ سے جنگ لڑ رہا ہو۔ پھر اچانک اس کے قدم خود بخود ایک کاؤنٹر کی طرف بڑھے۔ افسر کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے ہونٹ کانپے، اور پھر وہ الفاظ نکلے جو اس کی زندگی کا سب سے بڑا جوئے کا چراغ تھے:
"میں پناہ کا متلاشی ہوں۔"
ایک جملے نے اس کی دنیا پلٹ دی۔ کچھ گھنٹوں کی کاغذی کارروائی کے بعد وہ ایک سفید وین میں تھا، جو اسے شہر کی چکاچوند سے دور لے جا رہی تھی۔ درختوں کے درمیان سے گزرتی سڑک کے آخر میں ایک پرانی سی عمارت نظر آئی ۔کبھی کوئی ہوٹل رہی ہوگی،
کیمپ کی عمارت زمانے کی مار کھائی ہوئی تھی۔ پیلے پڑ چکے پردے ہوا میں لرزراہے تھے۔ باہر جنگل کی ہوا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، جو کبھی کبھار پرندوں کی پکار سے ٹوٹتی تھی۔
ارمان کو ایک چھوٹا سا کمرہ ملا، جس میں ایک بستر اور ایک کرسی تھی۔ یہاں کی سب سے قیمتی چیز تھی وائی فائی کا کمزور سگنل، جو لبنٰی سے بات کرنے کا واحد ذریعہ تھا۔ ہر صبح اور شام وہ اپنے فون کی اسکرین کو دیکھتا، لبنٰی کی آواز سنتا ۔ کبھی ہنسی، کبھی خاموشی، کبھی صرف سانسوں کی آوازیں۔ یہ لمحات ہی اس کی نئی زندگی کا واحد سہارا تھے۔
ایک دن کچن میں اس کی ملاقات سارہ سے ہوئی — ایک ایسی عورت جس کے چہرے پر ہجرت کی تھکن تھی مگر آنکھوں میں ماں جیسی محبت بھری ہوئی تھی۔ وہ کیمپ کے لیے کھانا پکاتی، جیسے یہ سب اس کے اپنے گھر کے لوگ ہوں۔
"تم پاکستان سے ہو؟" سارہ نے انگریزی کے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں پوچھا،رفتہ رفتہ دونوں میں گہری دوستی ہو گئی۔ سارہ آٹھ بچوں کی ماں تھی، ارمان اب سارہ کی مدد کرتا — سبزیاں کاٹتا، برتن صاف کرتا۔
ایک شام، جب ارمان نے لبنٰی کو سارہ کے آٹھ بچوں کا ذکر کیا، تو لبنٰی کے ہونٹوں پر ایک کھلکھلاتی ہنسی پھوٹ پڑی۔
"آٹھ؟" وہ ہنستے ہوئے بولی، "ارے، ذرا بتاؤ تو، تمہیں کتنے چاہئیں؟"
ارمان نے فون کے دوسری طرف مسکراتے ہوئے شرارت بھرے لہجے میں کہا، "کم از کم تین... ہمارے گھر میں ہمیشہ رونق رہے گی۔"
لبنٰی نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے چھیڑا، "تو کیا زیادہ سے زیادہ آٹھ ہی ہوں گے؟"
ارمان نے پلٹ کر پوچھا، "اور تم؟ تمہارا خواب کتنا بڑا ہے؟"
لبنٰی کی آواز میں شوخی تیرنے لگی، "میرا خواب بہت چھوٹا ہے... زیادہ سے زیادہ ایک۔" پھر قہقہہ لگاتے ہوئے بولی، "تمہیں اگر ایک سے زیادہ کی امید ہے، تو ابھی سے تمہیں خبردار کرتی ہوں ۔ تمہارے لیے اچھا نہیں ہوگا!"
ارمان کے قہقہے لبنٰی کی ہنسی میں اس طرح گھل مل گئے، جیسے وہ ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوں۔ فون کے دونوں طرف کی خالی دیواریں ان کی شریک ہنسی سے گونج اٹھیں۔ ایک لمحے کو فاصلے کی تمام دیواریں ڈھہ گئیں، وقت رک سا گیا، اور وہ دونوں ایک ہی خواب کے آسمان تلے کھڑے محسوس ہوئے۔
مگر وقت خوابوں کو پنپنے نہیں دیتا۔
دن ہفتوں میں بدلے، ہفتے مہینوں میں ڈھلے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دس مہینے ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل گئے۔ ارمان کا کیس اب بھی کسی سرکاری دفتر کی الماری میں دبے کاغذات کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ ہر نئی تاریخ اس کے صبر کا ایک نیا امتحان بن کر آتی، اور ہر ملتوی ہونے والی سماعت اس کے دل پر ایک اور پتھر رکھ دیتی۔
ادھر لبنٰی کی دنیا بھی سکڑتی جا رہی تھی۔ اس کے والد کی صحت دن بدن گرتی جا رہی تھی۔ ان کی آنکھوں میں ایک ہی خواہش جھلکتی ۔ "لبنٰی، میں تمہیں سہاگ کی چُندڑی میں دیکھنا چاہتا ہوں... اس سے پہلے کہ میری آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں۔"
لبنٰی جانتے تھے کہ باپ کی یہ خواہش کسی دلیل سے بالاتر تھی۔ ان کے اندر ایک خاموش جنگ چھڑ گئی ۔ ایک طرف وہ محبت تھی جو ہر وعدے کی طرح پختہ تھی، اور دوسری طرف وہ والد تھے جن کی دعاؤں کی خوشبو اس کے وجود میں بسی ہوئی تھی۔
ارمان ہر رات فون پر لبنٰی کی آواز میں چھپے ہوئے دکھ کو محسوس کرتا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے الفاظ کتنا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ مگر دونوں کے پاس اس وقت صرف ایک ہی ہتھیار تھا ۔ انتظار۔
اور یہ انتظار کبھی ایک امید کی مانند تازہ ہوا کا جھونکا لگتا، تو کبھی ایک ایسی سزا محسوس ہوتا جس کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا تھا۔
اور پھر وہ شام آیا جب ارمان پر یہ خبر اس طرح ٹوٹی جیسے کوئی پہاڑ اس کے سینے پر آگرا ہو۔ لبنٰی کی شادی طے ہو چکی تھی۔ یہ اطلاع خود لبنٰی کی آواز میں آئی ۔ دھیمی، کانپتی ہوئی، جیسے ہر لفظ اس کے ہونٹوں سے خون ٹپکاتا ہوا نکل رہا ہو۔
"ارمان... یہ شاید ہماری آخری بات ہے۔"
اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گئی، مگر اس کی خاموشی میں وہ سب کچھ تھا جو کبھی نہیں کہا جا سکا تھا۔
فون کے دونوں طرف ایک ایسی خاموشی چھا گئی جس میں صرف سانسوں کی لرزش اور دلوں کے ٹوٹنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ اسکرین بجھ گئی، اور ارمان کے اندر بھی جیسے ساری روشنیاں ہمیشہ کے لیے بجھ گئی ہوں۔
وہ بغیر کچھ سوچے سمجھے کیمپ کے دروازے سے باہر نکل آیا۔ باہر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ ہوا میں سرد نمی تھی، مگر اسے کچھ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ وہ جنگل کی طرف بڑھتا گیا، جیسے اپنے اندر کی چیخوں سے بھاگ رہا ہو۔ کچھ دیر بعد وہ ایک گرے ہوئے درخت کے تنے پر آ کر بیٹھ گیا۔ بارش اس کے بالوں سے پھسل کر چہرے پر بہہ رہی تھی، مگر وہ ان آنسوؤں کو نہیں چھپا پا رہی تھی جو اس کے دل کے اندر سے ابل رہے تھے۔ آسمان بھاری بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا، اور اس کی اندرونی دنیا بھی ویسی ہی تاریک ہو چکی تھی۔
رات گہری ہوتی گئی۔ وہ وہیں بیٹھا رہا ۔ مکمل بھیگا ہوا، سردی سے کانپتا ہوا ۔ مگر دل کا درد جسم کی سردی سے کہیں زیادہ تیز تھا۔ جب ہوا مزید ٹھنڈی ہو گئی، تو وہ سست قدموں سے اٹھا اور واپس کیمپ کی طرف لڑکھڑاتا ہوا چل پڑا۔
اگلی صبح سارہ نے محسوس کیا کہ ارمان ابھی تک کچن میں نہیں آیا۔ سب لوگ ناشتہ کر چکے تھے مگر اس کا کوئی نشان نہیں تھا۔ ایک عجیب بے چینی نے سارہ کو اس کے کمرے کی طرف لے جایا۔
درازے پر ہلکی سی دستک دی ۔ کوئی جواب نہیں۔ پھر زور سے ۔ پھر خاموشی۔
سارہ نے دروازہ کھولا تو کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ ارمان رضائی اوڑھے پڑا تھا۔ اس کی نظر سب سے پہلے بالٹی میں پڑے گیلی کپڑوں پر پڑی وہی جو کل شام وہ پہن کر گیا تھا۔ پھر اس نے بستر کے قریب آکر رضائی ہٹائی۔
ارمان کی پیشانی چھونے پر سارہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ جسم آگ کی طرح تپ رہا تھا۔ اس نے فوراً ایمبولینس کو فون کیا۔
"نمونیا کا شبہ ہے،" ایمبولینس عملے نے کہا، "ہمیں فوراً ہسپتال لے جانا ہوگا۔" ایمبولینس کے رخصت ہوتے ہی سارہ نے کمرے کی صفائی شروع کی۔ اس کی نظر ارمان کے موبائل فون پر پڑی جو میز پر پڑا تھا۔ اس نے فون اور گیلی کپڑے اپنے ساتھ لے لی،
اگلے دس دن ہسپتال کے سفید اور بے جان کمرے میں، ایک ایسے غبارے کی طرح گزرے جو آہستہ آہستہ ہوا کھو رہا تھا۔ صرف سارہ کی دو آمدنیں تھیں جو اس یکسانیت میں تازہ ہوا کا ایک جھونکا لائیں، لیکن ارمان کے چہرے پر وہ پر امید چمک، جو پہلے دن دیکھی تھی، ماند پڑ چکی تھی۔
کیمپ واپسی پر، انتظار نے اسے ایک بے چین روح بنا دیا تھا۔ پھر ایک صبح، وہ خط آیا ۔وہ موٹا لفافہ جس کا وہ مہینوں سے منتظر تھا۔ فرانس کی امیگریشن اتھارٹی کا لوگو۔ ارمان کے ہاتھ کانپنے لگے۔ ہر لفظ پڑھ کر اس کی رگوں میں امید کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی۔ اسے منظور کر لیا گیا تھا! یہ صرف ایک اجازت نہیں، ایک نئی زندگی کا ٹکٹ تھا۔ اچانک، کیمپ کی کچی دیواریں اس کے لیے جیل نہیں رہیں۔
اس کے ذہن میں سب سے پہلا خیال لبنٰی کا تھا۔ کیا اب بھی وقت ہے؟ اس نے فون اٹھایا۔ پہلا فون — بند۔ دوسرا — بند۔ ایک گھنٹہ تک وہ یہی کچھ کرتا رہا، ہر بار ڈائل کرتا اور ہر بار اس کے سینے میں ایک نئی مُوٹھ سی اترتی۔ آخرکار اس نے اپنے پرانے دوست زلفی کو فون کیا۔
"ارمان بھائی؟ تم کہاں تھے؟"
"زلفی، لبنٰی کا نمبر... کیا پتہ ہے کہاں ہے؟"
فون کے دوسری طرف ایک لمبی، بھاری خاموشی چھا گئی۔ "ارمان... سنو۔ وہ شادی کر کے اپنے شوہر کے ساتھ دوسرے شہر جا چکی ہے۔"
فون اس کے ہاتھ سے پھسل کر فرش پر آ گرا۔ لفافے کے کاغذ، جو ابھی تک اس کی مٹھی میں تھے، اب بے وزن لگ رہے تھے — ایسے جیسے وہ پرانی خبریں چھاپے ہوں۔ وہ نئی زندگی جو لمحے بھر پہلے اس کے سامنے کھلی تھی، اب ایک ویران، بے مقصد سفر محسوس ہونے لگی۔
اگلے دن، سارہ نے اس کی آنکھوں میں وہی پرانی خالی پن دیکھا جو اس نے ہسپتال میں دیکھا تھا۔ اس نے پورا واقعہ سنایا، اور وہ مبارکباد کا خط بھی دکھایا۔ سارہ نے مسکرا کر کہا، "مبارک ہو ارمان۔ تمہاری محنت رنگ لائی۔ اب تم فرانس میں ایک نیا آغاز کر سکتے ہو۔"
کچھ ہی دنوں بعد، ارمان نے ایک چھوٹے سے قصبے کا رخ کیا، جہاں پرانی اینٹوں والی عمارتیں اور پتھریلی گلیاں تھیں۔ اس نے فرانسیسی سیکھنے کے لیے ایک اسکول میں داخلہ لے لیا۔ وہ اپنے آپ کو مصروف رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ۔ رٹ لگاتا، مشقیں حل کرتا ۔ مگر لبنٰی کا خیال ایک ایسا سایہ تھا جو ہر لفظ کے پیچھے، ہر خالی لمحے میں چھایا رہتا۔ وہ اپنے خیالات سے بھاگنے کی دوڑ میں تھا، مگر وہ ہمیشہ اس سے تیز تر تھے۔
آہستہ آہستہ، ایک عجیب بیماری نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ راتوں کی نیند ٹکڑے ٹکڑے ہو کر رہ گئی۔ ہر رات، وہی منظر بار بار آنکھوں کے سامنے گھومتا: ایک فون جو بند ہو رہا ہے، اور ایک لفافہ جس کی خوشی کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی ہے۔ نیند نہ صرف اس کی آنکھوں سے غائب ہوئی، بلکہ اس کی روح سے بھی رخصت ہو گئی، اسے ایک ایسی تھکن میں چھوڑ گئی جو دن بھر قائم رہتی۔ نئی زبان کی کلاسیں اب کوئی راستہ نہیں، بلکہ ایک اور قید خانہ محسوس ہونے لگی تھیں۔
اگلے کچھ سالوں میں، ارمان کو خود معلوم نہیں رہتا تھا کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔ اور اگر تھا بھی، تو کیسے۔ اس کی زندگی ایک خالی اور گونگے غار کی مانند تھی ۔ ایسا غار جس میں ہوا کے رستے بند ہو چکے ہوں، جہاں نہ آواز گونجتی ہے، نہ روشنی کی کوئی کرن سرایت کرتی ہے۔ صرف ایک گہرا، جامد اندھیرا تھا جو اس کے اندر اور باہر، ہر جگہ یکساں پھیلا ہوا تھا۔ وقت کے صفحات اس پر سے ایسے گزرتے تھے جیسے بے حس ہوا۔
گھر والوں نے بارہا التجا کی، فون پر رو رو کر کہا: "ارمان، بس اب واپس آجاؤ۔ گھر آکر سب بھول جاؤ گے۔" ماں کی آواز میں وہ دھڑکن تھی جو ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے بھی اس کے سینے میں اتر جاتی۔ مگر ارمان نے انکار کر دیا۔ واپسی کا راستہ، اس کے خیال میں، شکست کی طرف لوٹنے جیسا تھا ۔ ایک ایسی دوڑ میں شریک ہونے کے مترادف جس کا مقصد ہی اس سے چھین لیا گیا تھا۔ وہ ایک ایسے ملبے کے پاس واپس نہیں جا سکتا تھا، جس میں اس کا اپنا پرانا "خود" بھی دفن تھا۔
سالوں کی اس روح فرسودہ کشمکش کے بعد، ایک دن فرانس کا پاسپورٹ اسے ملا —۔نفیس بھورا سرخ رنگ کا ایک کتابچہ، جس پر سونے کے حروف سے "République Française" لکھا تھا۔ یہ وہ منزل تھی جس کے لیے اس نے اتنی جنگ لڑی تھی۔ مگر اب جب یہ اس کی مُٹھی میں تھی، تو محض کاغذ کا ایک ٹکڑا محسوس ہوتا تھا۔ اس میں کوئی جادو نہیں بچا تھا۔
ایک نئی بے چینی نے جنم لیا۔ فرانس اب بھی "یہاں" تھا۔ اسے کہیں "اور دور" جانا تھا ۔ ایسی جگہ جہاں کسی یاد کا کوئی نقش، کوئی سایہ بھی نہ ہو۔ اس نے فرانس کو چھوڑ کر کینیڈا جانے کا پروگرام بنایا۔ کچھ ہی مہینوں کی تیاری کے بعد، وہ برف اور جنگلوں کے ملک میں جا بسا۔
مگر یہاں ایک عجیب سچائی اس پر کھلی: جس خالی پن کو وہ فرانس میں چھوڑ آیا تھا، وہ بغیر کسی سرے کے اس کے ساتھ سفر کرتا رہا تھا۔ وہ نئی دنیا کی وسیع و عریض فضا میں بھی ایک تنگ، بے آواز خلا میں قید رہا۔ ٹورنٹو کی چکاچوند روشنیاں یا وینکوور کے پہاڑوں پر پڑی برف، کبھی کبھار اس کی آنکھوں میں عکس تو بن جاتی تھیں، مگر دل تک کبھی نہیں اترتی تھیں۔ زندگی ایک ایسی تصویر بن کر رہ گئی تھی جس کے تمام رنگ بہہ چکے ہوں، صرف خاکہ باقی رہ گیا ہو سانس لیتا، چلتا پھرتا، مگر بے حِس۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے بے ترتیب سانسوں کو قابو میں لانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا، جیسے کوئی نشے میں دھت ڈرائیور اندھی سڑک پر لڑکھڑاتی گاڑی سنبھالنے کی کوشش کرے۔ اس کا دل سینے سے ٹکرانے کو تھا اور دماغ سرپٹ گھوڑے کی طرح دوڑ رہا تھا۔
"یہ محض ایک خواب ہوگا… ضرور خواب ہوگا۔"
وہ خواب، جو اس کے بکھرے ہوئے ذہن کی ایک اور بے رحم تخلیق ہو۔
مگر آنکھیں کھلی تھیں۔
کمرے میں وہی پرانی، مانوس چاندنی دیواروں پر بکھری ہوئی تھی—نہ زیادہ روشن، نہ بالکل مدھم۔ باہر سے گزرتی گاڑیوں کی ہلکی ہلکی آوازیںسب کچھ حد درجہ حقیقی تھا۔ یہ وہ خاموشی تھی جو صرف جاگتی راتوں کو نصیب ہوتی ہے۔
اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ شاید اس منظر کو سچ ماننے کے لیے اسے نیند کی ضرورت تھی…
وہ گہری، پرسکون نیند جو برسوں پہلے اس سے روٹھ چکی تھی۔
جس کی عدم موجودگی نے اسے ایک ایسی روح بنا دیا تھا جو زندہ تو تھی، مگر ہمیشہ جاگتی رہتی تھی—تھکی ہوئی، بوجھل، مگر سو نہ سکنے والی۔وہ اٹھا۔
کمرے کی دیوار پر لگی اس واحد تصویر کو اتارا۔ انگلیوں سے اس پر جمی گرد صاف کی—وہ گرد جو شاید برسوں سے وہاں ٹھہری ہوئی تھی، جیسے وقت خود اس فریم میں قید ہو گیا ہو۔ شاہد اسے آخری بار کب صاف کیا گیا تھا، یہ یاد بھی اب ایک دھندلا سا سوال بن چکی تھی۔
اچانک
فون کی کھنکھناہٹ نے خاموشی کے سینے میں خنجر گھونپ دیا۔ وہ ایک ایسا جھٹکا تھا جس سے اس کا پورا وجود اکڑ گیا۔ دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے فون اٹھایا۔ اسکرین پر وہی نمبر جگمگا رہا تھا…
وہی، جس سے آج اسے ایک پیغام ملا تھا۔
ہیلو؟ ۔آواز اس کے گلے میں کہیں اٹک گئی—اس میں بے بسی بھی تھی اور وہ امید بھی جو صرف طویل انتظار کے اختتام پر جنم لیتی ہے۔
اور پھر۔ فون کے دوسری طرف سے آواز آئی:
"السلام علیکم۔"
دو لفظ۔ صرف دو لفظ۔
مگر یہ وہ آواز تھی جس کے لیے اس کی روح برسوں سے بھٹک رہی تھی۔ نرم، شفاف، دل میں اتر جانے والی۔ وہی آواز جس نے کبھی اسے اس کے نام سے پکارا تھا۔
یہ آواز وقت کے دھندلکوں کو چیرتی ہوئی ابھری تھی۔بالکل ویسی ہی، جیسی اس نے یادوں میں محفوظ کر رکھی تھی۔ ان چند لمحوں میں، ان چند سانسوں کے بیچ، برسوں کا فاصلہ، راتوں کی بے خوابی، اور خاموش اذیتوں کا بوجھ۔ سب ایک ساتھ زندہ ہو اٹھا۔
اور پھر، وہ کال جو محض "ہیلو" اور "السلام علیکم" سے شروع ہوئی تھی، وقت کے دھارے میں بہہ نکلی۔ ابتدائی جھجھک اور خاموشی کے گھنٹے ٹوٹے۔ پھر وہ لمحہ آیا جب سالوں سے جمی ہوئی برف پگھلی۔
کمرے کی سنسان دیواریں، جو صرف اندھیرے اور خاموشی کا مسکن تھیں، پہلی بار ارمان کی ہنسی کی گونج سے جاگیں۔ یہ کوئی بھاری یا مصنوعی ہنسی نہ تھی، بلکہ ایک ہلکی، بے ساختہ اور حقیقی مسکراہٹ کی آواز تھی جو اس کے وجود کے اس گہرے کنویں سے نکل کر باہر آ گئی تھی۔ پھر سرگوشیوں کی آوازیں آئیں نرم، رازوں سے بھری، اور ایک ایسی گرمجوشی سے لبالب جو سالوں کی دوری کے بعد بھی ماند نہیں پڑی تھی۔
ارمان نے، جو برسوں سے اپنے ہی خیالات کے قید خانے میں تنہا تھا، اپنا دل کھول کر کسی سے بات کی۔ یہ محض الفاظ کا تبادلہ نہ تھا، بلکہ ایک ایسی روح کی صفائی تھی جو گرد اور یادوں کے ملبے تلے دب چکی تھی۔ وہ ہنسے، خاموش ہوئے، سنے، اور پھر بولیں۔ وقت نے اپنی رفتار کھو دی۔ گھڑی کی سوئیاں بے معنی ہو کر رہ گئیں۔
کئی گھنٹوں کے بعد، جب فون گرم ہو چکا تھا اور آوازیں دھیمی پڑنے لگی تھیں، کمرے کا ماحول بدل چکا تھا۔ ہنسی اور سرگوشیوں کی لہروں نے وہاں ایک نرم، سکون بخش فضابھر دی تھی۔ اور پھر وہ معجزہ ہوا۔
ارمان، جو ایک عرصے سے نیند کے بغیر زندہ لاش بن چکا تھا، اپنے بیڈ پر دراز ہوا۔ اس کے پلکوں پر وہ بوجھ، جو جاگنے کی ابدی پہریداری کی وجہ سے ہمیشہ موجود رہتا تھا، آہستہ آہستہ ہلکا پڑنے لگا۔ سانسوں کا رتھ باقاعدہ ہوا۔ اور پھر، سالوں کے بعد، اس کی سانسوں میں وہ گہرا، مستقل اور پُرسکون آہنگ لوٹ آیا جو صرف گہری نیند کی علامت ہوتا ہے۔ کمرے میں اس کے نرم خراٹوں کی آواز گونجنے لگی ۔ یہ آواز اس ویران مکان میں زندگی کا پہلا حقیقی نغمہ تھی۔
یہ وہ خواب تھا جسے پانے کے لیے وہ خود خواب بن چکا تھا۔ جو کام بڑے سے بڑے ماہر ڈاکٹر، مہنگے ترین ادویات، اور ہر قسم کی تھراپی نہ کر سکی، آج اپنے محبوب کی آواز کے اس سادہ جادو نے کر دکھایا۔ یہ دوائی نہیں، بلکہ ایک احساس تھا ۔ یہ احساس کہ کوئی ہے جو اسے سنتا ہے، سمجھتا ہے، اور اس کی موجودگی میں اسے محسوس کرتا ہے۔ یہی احساس، اس کے زخموں کا مرہم اور اس کی بے خواب راتوں کا سکون بن کر آیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی پہلی کرن نے جب کمرے میں جھانکا، تو اس نے ارمان کے چہرے پر ایک ایسی پر سکون مسکراہٹ دیکھی، جو اس پر برسوں سے نہیں آئی تھی۔ یہ مسکراہٹ خوشی کی نہیں، بلکہ سکون کی تھی ۔ اس گہرے، بنیادی سکون کی، جو تب آتا ہے جب روح کو اپنا گھر دوبارہ مل جاتا ہے۔ نیند صرف آنکھوں سے نہیں ٹپکی تھی، بلکہ اس کے وجود کی گہرائیوں سے چھن کر باہر آئی تھی، ہر خلیے کو تازگی بخشتی ہوئی۔
آج، ارمان کے لیے نئی زندگی کا پہلا دن تھا۔ ایک نئی زندگی کی ابتدا۔