ارشد نے گھڑی دیکھی۔ دس بج کر پچپن منٹ۔ انٹرویو میں صرف پچیس منٹ لگے تھے لیکن اسے لگا جیسے پوری زندگی گزر گئی۔ سول انجینئر ہونے کے باوجود تین سال سے بےروزگار تھا۔ آج خوش قسمتی نے آخر اس کے دروازے پر دستک دی تھی۔
"ان شاء اللہ، یہ نوکری مل جائے گی،" اس نے دل ہی دل میں دعا کی۔"
بڑی محل نما عمارت سے نکل کر وہ تنہا سڑک پر چل پڑا۔ چاروں جانب بڑے بڑے گھر، بلند و بالا دیواریں، اور ہر طرف خاموشی۔ اچانک اس کی نظر ایک کھلے گیٹ پر پڑی۔ ایک چھوٹا بچہ، پانچ یا چھ سال کا، گھاس پر فٹبال سے کھیل رہا تھا۔
ارشد ٹھہر گیا۔
بچہ گیند کو ٹھوکر مارتا، دوڑتا، گرتا، پھر اٹھ کر ہنستا۔ ارشد کو لگا جیسے وہ خود کو دیکھ رہا ہے۔ وہی مٹی سے لتھڑی پتلون، وہی پھٹی ہوئی فٹبال، وہی دیوانگی۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھلنے ہی والی تھی کہ اچانک
بچہ پھسل کر سر کے بل گر پڑا۔ گردن ایک عجیب زاویے سے مڑی اور پھر بےجان ہو کر رہ گئی۔
ارشد کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ بھاگا۔
بچہ بےہوش تھا۔ ارشد نے جلدی سے اسے سیدھا لٹایا۔ گردن بالکل ڈھیلی پڑ چکی تھی۔ وہ کورس جو اس نے کبھی فرسٹ ایڈ اور سی پی آر کا کیا تھا، آج اس کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہو گیا۔
"کوئی ہے؟" اس نے زور سے آواز دی۔ "جلدی کریں"
ایک نوجوان خاتون باہر لپکی۔ اس نے اپنے بچے کو زمین پر دیکھا تو چیخ کر اس کی طرف دوڑی۔
"نہیں! رکیں!" ارشد نے بازو روکا۔ "ان کی گردن میں چوٹ ہے۔ انہیں مت اٹھائیں۔ آپ ایمبولینس کو کال کریں، میں یہاں سنبھالتا ہوں۔"
عورت کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے فون نکالا تو بارہا گر گیا۔ ارشد نے جیب سے اپنا فون نکالا، نمبر ملایا اور تیزی سے صورتحال بتائی۔
فون بند کرتے ہی اس نے دیکھا بچے کی نبض مدھم پڑ رہی تھی۔ سانس رک رکی تھی۔
ہلکے ہاتھوں سے، بالکل ویسے جیسے اسے سکھایا گیا تھا، اس نے سی پی آر شروع کیا۔ دس، بیس، تیس... دباؤ، سانس، دباؤ، سانس۔ اس کی پیشانی سے پسینہ ٹپک رہا تھا۔ عورت سسک رہی تھی۔ وقت رک گیا تھا۔
ایمبولینس کی آواز دور سے آئی، قریب آتی گئی، اور پھر پیرا میڈیکل ٹیم نے اس کی جگہ لے لی۔ آکسیجن، مانیٹر، فوراً ہسپتال۔ منٹوں میں بچے کو ایمبولینس میں ڈال کر لے گئے۔ ماں بھی ساتھ چلی گئی۔
اور اب ارشد تنہا تھا۔ کھلے گیٹ کے سامنے۔
اس نے آہستہ سے گیٹ بند کیا۔ ہوا میں فٹبال کی خوشبو اب بھی تھی۔ اس نے اپنے کپڑوں پر مٹی دیکھی۔ وہی مٹی جو اس بچے کے کپڑوں پر تھی۔
وہ چل پڑا۔ گھر کی طرف نہیں، بلکہ کہیں اور۔ اسے اب سمجھ آ گیا تھا۔
سالوں سے وہ سوچتا تھا کہ اس کی مہارتیں بیکار ہیں۔ لیکن آج، اس فرسٹ ایڈ کورس نے جو اس نے کبھی محض شوق میں کیا تھا، ایک جان بچا لی۔
وہ مسکرایا۔ "کوئی چیز بیکار نہیں ہوتی،" اس نے سرگوشی کی۔ "کچھ بھی نہیں۔"
اور پہلی بار تین سالوں میں، اس نے محسوس کیا کہ وہ بےروزگار نہیں ہے۔ وہ ایک انجینئر ہے۔ اور آج اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی تنخواہ ملی تھی۔
ایک مسکان۔ ایک ماں کی آنسو بھری دعا۔ اور ایک بچے کی دھڑکتی ہوئی نبض۔