Quotes by Naheed Anis in Bitesapp read free

Naheed Anis

Naheed Anis

@ggghbfjit443941
(4.6k)

" Hawa ka jhoka"


لوگ کہہ رہے تھے آج کتنی اچھی ہوا چل رہی ہے،
اور میں دل میں سوچ کر مسکرا رہی تھی، شاید ہوا اس کو چھو کر آئی ہے۔

وہ آیا ہے اپنے وطن تو فضائیں بدل سی گئی ہیں،
ہر ایک فضا اب انہی کی خوشبو ہم تک لائی ہے۔


زمانے کو لگا موسم حسین ہے آج کچھ زیادہ،
مگر یہ میرے دل کی چاہت کی ہی ایک انگڑائی ہے۔


وہ دور ہو کر بھی میرے کتنے پاس آ گیا،
اس ٹھنڈی ہوا نے آج یہ دوری مٹائی ہے۔


ناہید ، یہ محبت کا اثر ہے یا کوئی معجزہ،
ان کے آنے سے ہر ایک سمت میں روشنی چھائی ہے۔

Read More

قیامت کا انتظار

دنیا نہیں تو کیا، اب حشر میں ملیں گے،
اِس ایک اُمید پر ہم قیامت میں ملیں گے۔۔

مٹ رہی ہیں ساری راہیں، پر یقیں مرتا نہیں،
دنیا چھوٹےگی تو کیا، ہم آخرت میں ملیں گے۔۔

لوگ مانگتے ہیں دعائیں عمرِ دراز کی یہاں،
ہم کھڑے ہیں کہ جلد ہی روزِ حشر میں ملیں گے۔۔

حالتِ دل کیا کہیں، اب تو بس یہ ضد ہے میری،
تو ملے، کسی بھی حال ملے، ہم اُس قیامت میں ملیں گے۔۔

دوریاں اِس جہاں کی منظور ہیں مجھے اب،
میرا دعویٰ ہے کہ ہم خدا کی عدالت میں ملیں گے۔۔

، ناہید ، لوگ ڈرتے ہیں جسے سوچ کر، اُس دن کی چاہت ہے،
تجھ سے ملنے کے لیے ہم اُس آفت میں ملیں گے۔۔

وقت تھم سا گیا ہے، سانسیں بھی بھاری ہیں اب،
پر سکون ہے کہ ہم اُس آخری ساعت میں ملیں گے۔۔

راستہ چاہے جو بھی ہو، منزل تو تم ہی ہو،
اِس جہاں میں نہ سہی، اُس جہاں کی جنت میں ملیں گے۔۔

کھیلنے دو اِس جہاں کو جدائی کے سارے کھیل،
ہم زمانوں سے پرے، اُس کائنات میں ملیں گے۔۔

اِس زمین پر نہ سہی، آسمان گواہ رہے،
جب لکیریں مٹیں گی، ہم اُس ثبات  میں ملیں گے۔۔

حسرتیں دم توڑ دیں، پر اِنتظار کم نہ ہوا،
صبحِ محشر تو ہو، ہم اُس رات میں ملیں گے۔۔

سب فانی ہے یہاں، سب بدل جائے گا ایک دن،
ہم بدلیں گے نہیں، ہم اُسی بات میں ملیں گے۔۔

Read More

خیالِ یار

ہر ایک منظر میں بس ایک چہرہ دکھائی دیتا ہے،
میں خاموش رہوں تب بھی وہ سنائی دیتا ہے۔

وہ دور ہیں مجھ سے، پر میرے ہر خواب کے پاس ہیں،
ان کی ہی یادوں سے یہ دل اب دہائی دیتا ہے۔

پہاڑوں کی ٹھنڈ میں، برف کے ان نظاروں میں،
ان کا ہی عکس مجھے ہر طرف دکھائی دیتا ہے۔

میں نے اتاری ہے پنوں پر جو چاہت اپنی،
میری ہر ایک سطح میں وہ شخص دکھائی دیتا ہے۔

محبت کی اس راہ میں ہم اس قدر کھو گئے ہیں،
کہ اب خود میں بھی اِسی کا عکس دکھائی دیتا ہے۔

سنا ہے لوگ کہتے ہیں کہ وہ دور ہیں مجھ سے بہت،
مگر آنکھیں بند کروں، تو وہ پاس دکھائی دیتا ہے۔

کتنے موسم آئے اور فضائیں بدل گئیں مگر،
میرے ہر ایک موسم میں ان کا ہی رنگ دکھائی دیتا ہے۔

یہ میری دیوانگی ہے یا ان کی چاہت کا اثر،
کہ پنوں پر اب لفظ کم، ان کا چہرہ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
قلم اٹھاتی ہوں جب بھی کچھ نیا لکھنے کے لیے،
میری داستانِ دل کا وہ ہی ایک عنوان دکھائی دیتا ہے۔

بچھڑ کر بھی وہ مجھ سے کبھی جدا نہ ہو سکا،
میری تنہائی میں بھی مجھے اس کا ساتھ دکھائی دیتا ہے۔

ہزاروں چہرے ہیں اس دنیا کے میلے میں مگر،
جانے کیوں مجھے صرف وہی ایک نایاب دکھائی دیتا ہے۔

وہ مری قسمت میں ہے یا نہیں، یہ خدا جانے،
پر سجدوں میں ہاتھ اٹھاؤں تو وہی مانگا دکھائی دیتا ہے۔

وہ میرے پاس نہیں ہے، یہ جانتا ہے دل میرا،
پھر بھی نہ جانے کیوں ہر آہٹ پہ وہ آتا دکھائی دیتا ہے۔

میں روتی ہوں اکیلے میں کہ کوئی دیکھ نہ لے،
میری آنکھوں کے ہر ایک آنسو میں وہ روتا دکھائی دیتا ہے۔

تھک گئی ہیں میری آنکھیں اس کا راستہ تکتے تکتے،
اب تو ہر گزرتا ہوا سایہ بھی وہی دکھائی دیتا ہے۔

بڑی حسرت سے دیکھا تھا میں نے اس کے ہاتھ کی لکیروں کو،
سب کچھ تھا وہاں، بس میرا نام نہ دکھائی دیتا ہے۔

وہ جی رہا ہے اپنی دنیا میں مجھ سے بے خبر ہو کر،
اور یہاں میری زندگی کا آخری چراغ بھی بجھتا دکھائی دیتا ہے۔


میں اس کی یاد سے نکلوں تو موت آ جائے،
مجھے تو اب کفن میں بھی اسی کا دامن دکھائی دیتا ہے۔
اسے پانے کی تمنا میں خود کو کھو دیا میں نے،
آئینہ دیکھوں تو اپنا نہیں، اس کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔

وہ انجان ہے میری اس تڑپ سے اس قدر،
کہ میرا اجڑنا بھی اسے ایک تماشہ دکھائی دیتا ہے۔

خدا سے مانگوں بھی تو اب کیا مانگوں مری جاں،
دعا کو ہاتھ اٹھاؤں تو بس تیرا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔

تم سلامت رہو اپنی دنیا میں مری جانِ غزل،
میرا کیا ہے، مجھے تو اب اپنا جنازہ دکھائی دیتا ہے۔

Read More

یہ گیم کے بدل ہٹتے کیو نہیں
ہم کیلنڈر بدلتے جاتے ہے پر یہ دن کاٹتے کیو نہیں
❤️‍🩹🤌🏻

زندگی ایسے ہاتھوں سے نکل رہی ہے
جیسے پیڑ سے پتّے جدھ رہے ہیں
وہ کسی موڈ پر میل جائے ہمیں
ہم اس لیے سفر کر رہے ہیں
- Naheed Anis

بات تو یقین کی ہوتی ہے اور مجھے یقین ہے جو چاہے وہ ہی ملےگا

- Naheed Anis

دنیا گول ہی نہیں بہت چھوٹی بھی ہے

- Naheed Anis