Wheshat he Wheshat - 8 in Urdu Love Stories by naazwriter books and stories PDF | Wheshat he Wheshat - 8

Featured Books
Categories
Share

Wheshat he Wheshat - 8



(8 وحشت ہی وحشت قسط نمبر)

وہ رو رہی تھی، اس کے آنسو اس کے پیلے لباس کو
بھگو رہے تھے، مگر تیمور صوفے پر بیٹھ کر سگار پی رہا تھا اور اسے حکم دے رہا تھا کہ وہ رقص کی رفتار تیز کرے۔۔۔:
  (قسط کا اگلا حصہ)
اچانک تیمور نے ایک جھٹکے سے میوزک سسٹم بند کر دیا۔ کمرے میں چھائے سناٹے میں صرف منت کی تیز سانسوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ منت، جس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں اور آنکھیں
خوف اور تھکن سے سرخ تھیں، بت بنی کھڑی رہ گئی۔

تیمور قدم بہ قدم اس کی طرف بڑھا۔ اس کے جوتوں
کی آہٹ فرش پر کسی فیصلے کی طرح گونج رہی تھی۔ منت نے پیچھے ہٹنا چاہا لیکن پیچھے دیوار تھی۔

تیمور: (نہایت پست اور خطرناک آواز میں) 

"تمہیں کیا لگا تھا منت؟ کہ تم اس طرح سب کے سامنے اپنے جسم کی لچک دکھاؤ گی اور تیمور کاظمی خاموش تماشائی بنا رہے گا؟ تم نے میری غیرت کو للکارا ہے، اور اس کی سزا ابھی باقی ہے۔"
منت: (لرزتی آواز میں) "تیمور... میں... میں نے صرف حیا کے کہنے پر... میرا مقصد آپ کو نیچا دکھانا نہیں ۔تھا۔"۔۔
تیمور: (اس کے جبڑے کو اپنی گرفت میں لیتے ہوئے) "حیا کے کہنے پر؟ کیا تمہارا اپنا کوئی وجود نہیں؟
یاد رکھو منت، یہ جسم، یہ لچک، یہ ادائیں... ان پر صرف اور صرف میرا حق ہے۔ اگر کسی دوسری نظر نے انہیں چھوا،
تو میں وہ نظریں نکال دوں گا، اور اگر تم نے انہیں دکھایا، تو میں تمہیں دنیا سے چھپا دوں گا۔"
اس نے منت کو سختی سے اپنی طرف کھینچا۔ منت کا سر اس کے چوڑے سینے سے ٹکرایا۔
نیچے ہال کا منظر: اضطراب اور خوف
نیچے ہال میں زران اور حیا ابھی تک سکتے کی حالت میں تھے۔ حیا کے ہاتھ میں وہی ہلدی کا پیالہ تھا جو اب لرز رہا تھا۔
حیا: "زران! ہمیں اوپر جانا چاہیے۔ تیمور بھائی کا ۔
غصہ... وہ منت کو نقصان پہنچا دیں گے۔"
زران: (سنجیدگی سے)
"نہیں حیا۔ تیمور اور منت کے
درمیان جو آگ لگی ہے، اسے وہ خود ہی بجھائیں گے۔ تیمور منت سے جتنا غصہ کرتا ہے، اس سے کہیں زیادہ اس کی تڑپ رکھتا ہے۔ آج کی یہ وحشت ان کے رشتے کو ایک نیا موڑ دے گی۔ تم بس یہ دعا کرو کہ تیمور کا جنون کوئی حد پار نہ کرے۔"
تیمور اور منت:
گفتگو اور تصادم۔۔۔۔۔
اوپر کمرے میں، تیمور نے منت کو صوفے پر دھکیل دیا اور خود اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اس کی نیلی آنکھوں میں اب نرمی نہیں، بلکہ ایک عجیب سی تپش تھی۔
تیمور: "اب بولو۔ کیوں کیا یہ سب؟ کیا ثابت کرنا
چاہتی تھی؟"
منت: (روتے ہوئے) "میں صرف اس گھر میں تھوڑی خوشی لانا چاہتی تھی۔ شین کے حملے کے بعد سب کتنے سہمے ہوئے تھے۔
میں چاہتی تھی کہ آپ مسکرائیں، زران بھائی اور حیا خوش ہوں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ کی انا اتنی بڑی ہے کہ میری ایک پرفارمنس اسے زخمی کر دے گی۔"
تیمور: (تلملا کر) "انا؟ یہ انا نہیں ہے منت،

یہ ملکیت ہے! تم میری ہو، میری رگوں میں دوڑنے والے
خون کی طرح۔ میں تمہیں کسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکتا، تالیوں کے شور میں بھی نہیں۔"
تیمور نے دراز سے وہی انگوٹھی نکالی جو منت نے پھینک دی تھی اور اس کا ہاتھ سختی سے پکڑ کر اسے دوبارہ پہنائی۔
تیمور: "آج کے بعد یہ انگوٹھی تمہاری انگلی سے نہیں اترنی چاہیے۔ اور سنو! کل ہمارا نکاح ہے، اور یاد رکھنا، کاظمی ولا کی دیواریں بہت اونچی ہیں،
تمہارا یہ رقص اب صرف میری قید میں ہوگا۔"
اختتامی منظر: ایک نئی شروعات۔۔
رات کا پچھلا پہر تھا، ولا میں خاموشی چھا چکی تھی لیکن جذبوں کی تپش ابھی برقرار تھی۔ شین ہسپتال میں پولیس کی نگرانی میں تھا،
اور یہاں استنبول کے اس ولا میں ایک نئی کہانی جنم لے رہی تھی۔
حیا کچن میں اکیلی بیٹھی بریانی کی جلی ہوئی دیگ کو دیکھ رہی تھی جب زران پیچھے سے آیا۔
زران: "ابھی تک بریانی کا غم نہیں گیا؟"
حیا: "غم بریانی کا نہیں زران، غم اس وحشت کا ہے جو ہمارے چاروں طرف ہے۔ ہم پیار بھی کرتے ہیں تو جیسے جنگ لڑ رہے ہوں۔"
زران: "کیونکہ ہم عام لوگ نہیں ہیں حیا۔ ہماری محبت میں سکون کم اور جنون زیادہ ہے۔ اور یہی جنون ہمیں زندہ رکھتا ہے۔"
(اگلی قسط)
کیا نکاح کی صبح کوئی نیا خطرہ سر اٹھائے گا؟
کیا منت تیمور کی اس جنونی قید کو قبول کر پائے گی؟
حیا اور زران کے درمیان کیا کوئی نیا راز کھلے گا؟
وحشت ہی وحشت: 
جنونی جنون (اگلی قسط)
منظر: 
مہندی کی رات – کاظمی ولا آج پیلے اور نارنجی رنگ کے گلدستوں، برقی قمقموں اور گیندے کے پھولوں کی مہک سے مہک رہا تھا۔
رات کی اس وحشت زدہ تلخی کے بعد، آج کی صبح ایک عارضی سکون لے کر آئی تھی۔ ہال کے بیچوں بیچ ایک بڑا سا اسٹیج سجا تھا جہاں منت اور حیا کو بیٹھنا تھا۔
منت، جو زرد رنگ کے بنارسی جوڑے میں ملبوس تھی، اس کی آنکھوں کی سرخی ابھی بھی گذشتہ رات کے آنسوؤں کا پتہ دے رہی تھی۔
تیمور کی پہنائی ہوئی انگوٹھی اس کی انگلی میں ایک زنجیر کی طرح چمک رہی تھی۔
مہندی کی مستی اور زران کی شرارت۔۔۔
حیا سبز رنگ کے لہنگے میں کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ وہ بار بار کچن اور ہال کے چکر لگا رہی تھی کہ اچانک زران نے اس کا راستہ روکا۔

زران: "بیگم! جلی ہوئی بریانی کا صدمہ بھول کر ذرا
اس شوہرِ نامدار پر بھی نظرِ کرم کریں، جو آج آپ کے لیے خاص تیاری کر کے آیا ہے۔"

حیا: (مسکراتے ہوئے) "تیاری؟ کیسی تیاری زران؟ کہیں آپ پھر سے کوئی ہنگامہ تو نہیں کرنے والے؟"

زران نے شرارت سے آنکھ ماری اور اسٹیج کی طرف بڑھ گیا۔ اس نے مائیک تھاما اور پورے ہال کی توجہ اپنی طرف کر لی۔

زران: "خواتین و حضرات! آج خوشی کا موقع ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آج اس ولا کی دیواریں صرف موسیقی سنیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں اپنی بیگم کے لیے کچھ گاؤں، میں اپنے 'سخت جان' بھائی تیمور کاظمی کو دعوت دوں گا کہ وہ اپنی ہونے والی شریکِ حیات، منت کے لیے دو لفظ گنگنائیں۔"

تیمور، جو دور ایک کونے میں کھڑا منت کو مسلسل اپنی تپتی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا، زران کی بات سن کر ٹھٹھک گیا۔ اس کے چہرے پر وہی روایتی سختی آگئی۔

تیمور: "زران! اپنی حد میں رہو۔ تمہیں معلوم ہے مجھے یہ سب پسند نہیں۔"

زران: (منت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) "بھائی! آج ضد نہیں چلے گی۔ دیکھیں، منت کی آنکھیں اب بھی اداس ہیں۔ کیا آپ اپنی انا کے لیے اسے ایک مسکراہٹ بھی نہیں دے سکتے؟"

تیمور نے منت کی طرف دیکھا، جس نے نظریں جھکا لی تھیں۔ اسے گذشتہ رات کی اپنی سختی پر تھوڑی ندامت محسوس ہوئی،۔۔
لیکن اس کا غرور آڑے آ رہا تھا۔ تا، زران کے بار بار مجبور کرنے پر تیمور قدم بڑھاتا ہوا اسٹیج کے قریب آیا۔

تیمور کا گانا: ایک اعتراف۔۔۔۔۔۔

ہال میں خاموشی چھا گئی۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ تیمور کاظمی جیسا بارعب انسان کبھی مائیک تھامے گا۔ اس نے اپنی گہری نیلی آنکھیں منت کی آنکھوں میں گاڑ دیں اور پست، سحر انگیز آواز میں گانا شروع کیا۔۔۔۔۔:

"تیری صورت کو اپنی آنکھوں میں بسایا ہے ہم نے 

تیری چاہت کو اپنا نصیب بنایا ہے ہم نے۔

 تم سے بچھڑ کر جئیں گے کس طرح اب ہم،۔۔۔

تیری وحشت کو اپنے دل کا سکون بنایا ہے ہم نے۔"۔۔۔۔۔

منت کا دل ایک لمحے کو دھڑکنا بھول گیا۔ ان الفاظ میں تیمور کی وہ تمام محبت چھپی تھی جو وہ لفظوں میں بیان نہیں کر پاتا تھا۔

تیمور نے مائیک واپس زران کو تھمایا اور بغیر کچھ
کہے دوبارہ اپنی جگہ جا کھڑا ہوا، لیکن اس کی نظریں اب بھی منت پر ہی تھیں۔

زران اور حیا کی مستی۔۔: 
شوخ رنگ۔۔۔۔
ماحول کی سنجیدگی کو ختم کرنے کے لیے زران نے فوراً تالی بجائی اور ایک ڈھولک والے کو اشارہ کیا۔

زران: "بھائی نے تو ماحول کو سیریس کر دیا،
اب ذرا میری باری!۔۔۔۔"

زران نے حیا کے گرد گھومتے ہوئے ایک مستی بھرا پرانا گانا چھیڑا۔۔۔۔۔:

"بدن پہ ستارے لپیٹے ہوئے، 

او جانے تمنا کدھر جا رہی ہو۔۔۔۔۔،

 ذرا پاس آؤ کہ ہم مر نہ جائیں۔۔۔۔۔۔، 

او جانِ جگر کس لیے جا رہی ہو۔۔۔۔۔!"

حیا شرم سے لال ہو گئی اور بھاگنے کی کوشش کی
لیکن زران نے اس کا دوپٹہ پکڑ کر اسے وہیں روک لیا۔

پورے ہال میں قہقہے گونجنے لگے۔ حیا نے تنگ آ کر
پیالے سے تھوڑی سی مہندی نکالی اور زران کے گال پر لگا دی۔

حیا: "آپ کبھی نہیں سدھریں گے زران۔۔۔۔!"

زران: "سدھر گیا تو زران کاظمی کی پہچان کیا رہے گی، میری جان؟"

تیمور اور منت۔۔۔۔۔۔:
 ایک خاموش گفتگو۔۔۔۔۔۔۔
فنکشن کے ہنگامے کے دوران، جب سب رقص اور ڈھولک میں مصروف تھے، تیمور آہستہ سے چلتا ہوا منت کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔

 منت نے اس کی خوشبو محسوس کی اور لرز گئی۔
تیمور: (اس کے کان کے قریب جھک کر) "مہندی کا رنگ گہرا آنا چاہیے منت، کیونکہ یہ رنگ میری ملکیت کی مہر ہے۔"

منت: (دھیرے سے) "آپ ہر خوشی کو ملکیت کا نام کیوں دے دیتے ہیں؟"

تیمور: "کیونکہ تمہاری ہر سانس پر میرا نام لکھا ہے۔ کل نکاح کے بعد، یہ دنیا تمہارے لیے ختم اور مجھ سے شروع ہوگی۔ یاد رکھنا!"

اس نے منت کے ہاتھ پر لکھی مہندی میں اپنا نام 'تیمور' ڈھونڈنے کی کوشش کی اور اس کی انگلیوں کو ہلکے سے دبایا۔
منت کو محسوس ہوا کہ تیمور کا جنون اب ایک ایسی آگ بن چکا ہے جس میں وہ جلنا بھی چاہتی ہے اور بچنا بھی۔

(اختتامی منظر)
مہندی کی تقریب اپنے عروج پر تھی، زران اور حیا کی ہنسی اور تیمور کی خاموش مگر گہری محبت نے ولا کے ماحول کو بدل دیا تھا۔
لیکن دور کہیں، ایک نامعلوم سائے کی نظریں اب بھی کاظمی ولا پر جمی تھیں،
جیسے کوئی نیا طوفان دستک دینے والا ہو۔

: کیا نکاح کی تقریب سکون سے گزر پائے گی؟ یا شین کی واپسی کوئی نیا رخ اختیار کرے گی؟
                   مہندی کی مستی: 
زران اور حیا کا مقابلہ اور دھمال۔۔۔۔۔۔

ہال میں ڈھولک کی تھاپ اب ایک تیز ردم میں بدل چکی تھی۔
زران نے اپنی واسکٹ کے بٹن ٹھیک کیے اور حیا کو 
چیلنج بھری نظروں سے دیکھا۔

زران: "صاحبو!  اب پیشِ خدمت ہے 'کاظمی ولا'
کی سب سے بڑی جنگ! ایک طرف ہیں
محترمہ حیا زران کاظمی، جو بیلن چلانے میں ماہر ہیں، اور دوسری طرف ہے آپ کا اپنا زران، جو دل جیتنے ۔۔
میں پی ایچ ڈی ہولڈر ہے۔"۔  ۔۔

حیا نے اپنے لہنگے کو تھوڑا سنبھالا اور ماتھے پر آئی
لٹ کو پیچھے کرتے ہوئے کہا:
"زران! اپنی خیر منائیں، کیونکہ آج ہار آپ کا مقدر ہے۔"

میوزک بجا تو زران نے ایک دم سے شوخ ڈانس سٹیپس شروع کر دیے۔۔۔۔۔

وہ حیا کے گرد چکر لگاتے ہوئے گانے لگا۔۔۔۔۔۔:

"تیرے ٹھمکے پہ جھومے یہ سارا ولا،
 
تیری باتوں میں چاشنی، جیسے ہو کوئی گلا۔۔۔۔۔!"

"تُو نخرے دکھائے، مَیں نخرے اٹھاؤں،

 تُو روٹھے تو پِھر سے بریانی جلاؤں۔۔۔۔۔۔!"

محفل قہقہوں سے گونج اٹھی۔
حیا نے بھی اب کوئی لحاظ نہ کیا اور زران کے
سامنے آ کر اپنی کلائیاں مٹکاتے ہوئے
جوابی شعر پڑھا:۔۔۔۔۔