وحشت ہی وحشت( قسط نمبر6)
استنبول کے ایک مصروف بازار میں زران اپنی کالی لینڈ کروزر کے پاس کھڑا کسی کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح اپنے سیاہ سوٹ اور مہنگے چشمے میں بہت سنجیدہ اور خطرناک لگ رہا تھا۔
اچانک، ایک لڑکی (حیا) ہاتھ میں ڈھیر سارے شاپنگ بیگز اور ایک ہاتھ میں آئس کریم پکڑے، فون پر بات کرتے ہوئے تیزی سے آئی اور سیدھی زران سے ٹکرا گئی۔
نتیجہ یہ ہوا کہ: حیا کی چاکلیٹ آئس کریم زران کے سفید مہنگے برانڈڈ شرٹ پر بالکل بیچوں بیچ لگ گئی۔
زران نے صدمے سے اپنی شرٹ کو دیکھا اور پھر اس لڑکی کو، جس کے چہرے پر معذرت کے بجائے غصہ تھا۔
"اوئے ہائے! دیکھ کر نہیں کھڑے ہو سکتے؟ میرا پورا اسکوپ گر گیا!" حیا نے بیگز زمین پر پٹختے ہوئے چلانا شروع کر دیا، "اتنی بڑی گاڑی لے کر کھڑے ہو، کیا آنکھیں گھر چھوڑ آئے تھے؟"
زران کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ "میری آنکھیں؟ میڈم! آپ موبائل میں گھسی ہوئی تھیں اور آپ نے میری پانچ ہزار ڈالر کی شرٹ کا ستیاناس کر دیا ہے!"
حیا نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور ناک چڑھاتے ہوئے بولی، "پانچ ہزار ڈالر؟ جھوٹ بولنے کی بھی حد ہوتی ہے۔ لنڈے بازار سے اٹھائی ہوئی شرٹ کو ڈالر کا بتا کر مجھے ڈرانے کی کوشش نہ کریں۔ ویسے بھی، آپ جیسے 'باڈی بلڈر' ٹائپ لوگوں کو تو شکر کرنا چاہیے کہ میں نے آپ کو دیکھا، ورنہ لوگ تو آپ کو دیکھ کر راستہ بدل لیتے ہیں۔"
زران، جو بڑے بڑے گینگسٹرز کو خاموش کروا دیتا تھا، اس وقت ایک 5 فٹ 3 انچ کی لڑکی کے سامنے
بے بس کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"تم... تم جانتی ہو میں کون ہوں؟" زران نے غصے سے دانت پیستے ہوئے پوچھا۔...حیا نے اس کے چشمے کو انگلی سے نیچے کیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی، "تم چاہے استنبول کے سلطان ہو یا گلی کے پہلوان، میری آئس کریم کے پیسے دے دو ورنہ یہیں شور مچا دوں گی کہ یہ کالا چشمہ پہن کر لڑکیاں تاڑ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زران کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اس نے جلدی سے اپنی جیب سے بٹوا نکالا اور پانچ سو لیرہ کا نوٹ اس کی طرف اچھالا۔ "یہ پکڑو اور خدا کے لیے میرا پیچھا چھوڑو، آفت ہو تم!"..حیا نے نوٹ اٹھایا، اسے چیک کیا اور مسکرا کر بولی، "شکر ہے عقل آئی۔ ویسے شرٹ دھونے کے لیے لیموں کا استعمال کرنا، داغ نکل جائے گا۔ بائے بائے، مسٹر سڑے ہوئے کباب!"۔۔۔۔۔۔۔
حیا مٹکتی ہوئی چلی گئی اور زران وہیں کھڑا اپنی گندی شرٹ اور اس لڑکی کی ہمت کو دیکھتا رہ گیا۔ اس دن زران نے پہلی بار محسوس کیا کہ دل کی دھڑکن گولی چلنے سے نہیں، بلکہ کسی کی تیکھی زبان سے بھی تیز ہو سکتی ہے۔
جب زران نے یہ قصہ تیمور کو سنایا، تو تیمور نے پہلی بار قہقہہ لگا کر کہا تھا: "زران! وہ لڑکی تمہارے لیے بالکل پرفیکٹ ہے، کیونکہ بھیڑیے کو قابو کرنے کے لیے شیرنی ہی چاہیے۔"۔۔۔۔۔۔
✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️
"درندے کی خاموشی"
(اور سازش کا جال )
منت ولا سے نکل تو آئی تھی، لیکن اسے یہ احساس نہیں تھا کہ تیمور کاظمی کے دشمن صرف تیمور کے نہیں، بلکہ اس کی ہر عزیز چیز کے بھی دشمن تھے۔ وہ تیز بارش میں سڑک کنارے ٹیکسی کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک ایک کالی گاڑی اس کے پاس آکر رکی۔ منت کو لگا تیمور اسے لینے آیا ہے، لیکن جب شیشہ نیچے ہوا تو سامنے شین کا زہریلا مسکراہٹ والا چہرہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"تیمور نے تمہیں نکال دیا یا تم خود ہی اس 'بھیڑیے' کے چنگل سے بھاگ نکلی ہو؟" شین کی آواز میں طنز تھا۔
منت نے جواب دینے کے بجائے پیچھے ہٹنا چاہا، لیکن شین کے آدمیوں نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ "تمہارے پاس دو راستے ہیں منت، یا تو میرے ساتھ چلو، یا پھر کل تمہارے تیمور کو تمہاری لاش تحفے میں ملے گی۔"
(تیمور کا جنون)
ادھر ولا میں، تیمور ساکت بیٹھا اس گراموفون کو دیکھ رہا تھا جس پر اب بھی وہی ریکارڈ دھیرے دھیرے گھوم رہا تھا۔ زران تیزی سے اندر داخل ہوا۔
"تیمور! تم یہاں بیٹھے ہو اور شین کے آدمی شہر کے اس کونے میں دیکھے گئے ہیں جہاں منت گئی ہے۔ وہ اسے نہیں چھوڑے گا!"تیمور کی نیلی آنکھوں میں ایک دم سے خون اتر آیا۔ اس نے میز پر پڑا گلاس ہاتھ میں ہی توڑ دیا۔ "میں نے اسے جانے کے لیے کہا تھا زران... مرنے کے لیے نہیں!" اس نے اپنی جیکٹ اٹھائی اور پستول لوڈ کرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔ اس کی چال میں وہ درندگی واپس آچکی تھی جس سے پورا استنبول کانپتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(حیا کا 'مشن ریسکیو')
حیا جو اب تک رو رہی تھی، اچانک آنسو پونچھ کر کھڑی ہوگئی۔"زران! ہم صرف دیکھتے نہیں رہیں گے۔ اگر اس شین نے میری بہن کو ہاتھ بھی لگایا تو میں اس کی بوٹی بوٹی کر کے بریانی میں ڈال دوں گی!"زران نے اسے حیرت سے دیکھا۔ "حیا، یہ کوئی کچن نہیں ہے، وہاں گولیاں چلیں گی!"حیا نے کچن سے وہی بیلن اٹھایا اور ایک چھوٹی پستول جو اس نے زران کی دراز سے چرائی تھی، اپنی کمر میں اڑس لی۔ "تو گولیاں ہم بھی چلائیں گے، چلو اب!"
آخری ٹکراؤ: پرانی فیکٹری کا منظر
شین نے منت کو ایک پرانی فیکٹری میں باندھ رکھا تھا۔ وہ اسے تیمور کو بلانے کے لیے چارے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔"تیمور آتا ہی ہوگا..." شین نے منت کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔اسی لمحے ایک زوردار دھماکہ ہوا اور فیکٹری کا لوہے کا گیٹ کاغذ کی طرح اڑ گیا۔ دھویں کے بادلوں میں سے تیمور کاظمی نمودار ہوا، اس کے ہاتھ میں دو بندوقیں تھیں اور چہرے پر موت جیسی سردی۔
"شین! تم نے میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے..." تیمور کی آواز گونجی۔ "تم نے اس عورت کو چھوا ہے جس کے ایک آنسو پر میں نے پوری دنیا جلانے کی قسم کھائی تھی۔۔۔۔"
گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔ ایک طرف شین کے آدمی تھے اور دوسری طرف اکیلا تیمور، جو کسی بپھرے ہوئے شیر کی طرح ان پر ٹوٹ پڑا تھا۔ اسی دوران زران اور حیا بھی پچھلے راستے سے اندر داخل ہو گئے۔ حیا نے دیکھا کہ ایک گارڈ منت کی طرف بڑھ رہا ہے، اس نے بنا سوچے سمجھے اپنا بیلن پوری قوت سے اس کے سر پر دے مارا اور پھر زران کی طرف دیکھ کر چلائی: "زران! فائر کرو، دیکھ کیا رہے ہو؟"
(سچ کا سامنا)
لڑائی کے اختتام پر شین زخمی حالت میں بھاگ نکلا۔ تیمور تیزی سے منت کی طرف بڑھا اور اس کی رسیاں کھولیں۔ منت اب بھی اس سے ناراض تھی، لیکن تیمور کے کندھے سے بہتے خون اور اس کی آنکھوں میں اپنے لیے فکر دیکھ کر اس کا دل پگھلنے لگا۔تیمور نے اسے سنبھالا اور دھیمی آواز میں کہا، "وہ ویڈیو جھوٹی تھی منت۔ وہ لڑکی شین کی بہن تھی جو میرے لیے جاسوسی کر رہی تھی۔ میرا مقصد جائیداد نہیں، تم ہو۔"منت نے روتے ہوئے تیمور کے سینے پر سر رکھ دیا۔ "آپ نے مجھے روکا کیوں نہیں؟"تیمور نے اس کے ماتھے کو چوما۔ "کیونکہ میں چاہتا تھا کہ تم مجھ پر اعتبار کرنا سیکھو، نہ کہ میری طاقت سے ڈر کر میرے پاس رہو۔۔۔۔۔۔۔۔ "
ماضی کے سائے:
(تیمور کاظمی کی حقیقت)
فیکٹری کے اس ادھورے بنتے ہوئے کمرے میں، جہاں بارود کی بو اور خاموشی کا راج تھا، تیمور نے منت کو سہارا دے کر ایک پرانی لکڑی کی کرسی پر بٹھایا۔ باہر زران اور حیا گارڈز کو سنبھال رہے تھے۔ تیمور کے کندھے سے خون بہہ رہا تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں درد گولی کا نہیں، بلکہ ان یادوں کا تھا جو برسوں سے اس کے سینے میں قید تھیں۔
تیمور نے ایک لمبا سانس لیا اور کھڑکی سے باہر پھیلے استنبول کے اندھیرے کو دیکھنے لگا۔🥹
"منت، سب کہتے ہیں کہ میں ایک درندہ ہوں، ایک ایسا شخص جس کا کوئی دل نہیں۔ لیکن کوئی یہ نہیں جانتا کہ اس درندگی کی بنیاد کہاں رکھی گئی تھی۔" اس کی آواز میں ایک لرزش تھی۔
"میں استنبول کے ان محلوں سے نہیں آیا جہاں آج میرا راج ہے۔ میں ایک بہت غریب بستی کا بیٹا تھا۔ میرے باپ کو دشمنوں نے اس وقت مار دیا جب میں صرف 12 سال کا تھا۔ میری ماں... وہ میری کل کائنات تھی۔ اس نے لوگوں کے گھروں میں برتن دھو کر، مزدوری کر کے مجھے پالا۔"
تیمور کا ہاتھ شدتِ سے کانپ رہا تھا وہ جذبات سے مٹھیاں بھینچ رہا تھا۔ "ایک رات... وہ کالی رات میری زندگی کا رخ بدل گئی۔ علاقے کے ایک بااثر بدمعاش نے، جس کا تعلق شین کے خاندان سے تھا، ہمارے چھوٹے سے گھر پر دھاوا بول دیا۔ میں کچن کے ایک کونے میں چھپا ہوا تھا، میری ماں نے مجھے وہیں چھپا دیا تھا۔"۔۔۔۔
اس نے منت کی طرف دیکھا، اس کی نیلی آنکھیں اب آنسوؤں سے نم تھیں۔ "میں نے اپنی آنکھوں سے اپنی ماں کو ان درندوں کے سامنے گڑگڑاتے دیکھا۔ وہ اپنی عزت کی بھیک مانگ رہی تھی، وہ ان کے پاؤں پڑ رہی تھی کہ اسے چھوڑ دیں... لیکن میں کچھ نہ کر سکا۔ میں ایک چھوٹا سا بچہ تھا، اتنا کمزور کہ اپنی ماں کی آبرو بھی نہ بچا سکا۔"
تیمور کا لہجہ بھر آ گیا، "اس رات وہ مر گئی۔ اس نے دم توڑتے ہوئے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں کبھی کسی کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا۔ اس دن تیمور نام کا وہ معصوم بچہ مر گیا اور یہ 'بھیڑیا' پیدا ہوا جس نے قسم کھائی کہ وہ اتنی طاقت حاصل کرے گا کہ پھر کبھی کسی 'منت' کو کسی 'شین' کے سامنے جھکنا نہ پڑے۔"۔۔
منت کی سسکیاں بندھ گئیں۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ جس شخص کو وہ پتھر دل سمجھتی تھی، اس کے اندر کتنے گہرے زخم چھپے ہیں۔۔۔۔🥀
تیمور نے منت کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔ "لوگ سمجھتے ہیں میں جائیداد کا بھوکا ہوں۔ نہیں منت! میں صرف اس تحفظ کا بھوکا ہوں جو میں اپنی ماں کو نہ دے سکا۔ تمہیں اس گھر سے جانے کے لیے اس لیے کہا تھا کیونکہ مجھے لگا میری دشمنیاں تمہیں نگل جائیں گی۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ تمہارے بغیر میں دوبارہ اسی 12 سال کے بے بس بچے جیسا بن جاتا ہوں۔"۔۔۔۔
منت نے خاموشی سے اپنا سر تیمور کے زخمی کندھے پر رکھ دیا۔ آج اسے احساس ہوا کہ تیمور کاظمی کا جنون دراصل اس کی محبت اور اس کے ادھورے ماضی کا بدلہ تھا۔۔۔۔۔۔
حیا نے دور سے یہ منظر دیکھا اور زران کے کندھے پر سر رکھ کر بولی، "چلو، اب تو بریانی بننی ہی چاہیے، ورنہ میں نے اگلا بیلن تمہیں مارنا ہے!"۔۔۔۔۔۔
✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️