وحشت ہی وحشت (قسط نمبر 5)
(بھیڑیے کا عروج: )
<ایک خونی ماضی>
تیمور کاظمی صرف ایک انسان نہیں تھا، وہ ایک ایسی جبلت کا مالک تھا جو شکار کے وقت بیدار ہوتی تھی۔ زیرِ زمین دنیا میں اسے "بھیڑیا" اس لیے کہا جاتا تھا کیونکہ وہ کبھی اکیلا حملہ نہیں کرتا تھا، لیکن جب کرتا تھا تو اپنے شکار کو نوچ ڈالتا تھا۔ اس کی کنیت "بھیڑیا" اس وقت پڑی جب اس نے اپنی ماں کی توہین کرنے والے پانچ بڑے گینگسٹرز کو ایک ہی رات میں ایک بند گودام کے اندر زندہ درگور کر دیا تھا۔
کہا جاتا تھا کہ اس رات استنبول کی فضاؤں میں انسانوں کی نہیں بلکہ ایک بھوکے بھیڑیے کی غراہٹ سنائی دی تھی۔ وہ جراحی کے چاقو۔۔۔۔
(Scalpel)
سے جب دشمن کی آنکھیں نکالتا، تو اس کے چہرے پر کوئی ملال نہیں ہوتا، بلکہ ایک وحشیانہ سکون ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(رات کا سناٹا اور بھیڑیے کی دستک)
ولا کے اسٹڈی روم میں تیمور اکیلا بیٹھا تھا۔ کمرے میں اندھیرا تھا، صرف اس کے ہاتھ میں موجود سگار کی لو چمک رہی تھی۔ زران خاموشی سے اندر داخل ہوا۔"تیمور، شین کے آدمیوں نے شہر کے شمالی حصے میں ہمارے گودام کو آگ لگا دی ہے۔ وہ تمہیں اشتعال دلا رہا ہے،" زران نے دبی آواز میں کہا۔۔۔
تیمور کے لبوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ آئی۔ اس نے سگار کی راکھ جھاڑی اور کرسی سے اٹھا۔ اس کی قامت اس وقت ایک خونخوار شکاری جیسی لگ رہی تھی۔"شین بھول گیا ہے کہ جب بھیڑیا زخمی ہوتا ہے، تو وہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ منت تک پہنچ جائے گا؟" اس نے میز پر پڑا اپنا مخصوص خنجر اٹھایا جس کے دستے پر سونے کا ایک بھیڑیا بنا ہوا تھا۔ "اسے بتا دو کہ تیمور کاظمی اب صرف 'انصاف' نہیں کرے گا، اب 'تباہی' ہوگی۔"
(منت کا خوف اور تجسس)
دوسری طرف، منت اپنے کمرے میں مقفل تھی۔ اسے باہر سے آنے والی گاڑیوں کی آوازیں اور گارڈز کی بھاگ دوڑ سنائی دے رہی تھی۔ اس نے وہ نیلم کی انگوٹھی اتارنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس کی انگلی میں اس طرح پیوست ہو چکی تھی جیسے اس کا حصہ ہو۔۔۔اچانک کمرے کا دروازہ کھلا۔ تیمور اندر داخل ہوا۔ اس کے جسم سے بارود اور سگریٹ کی ملی جلی بو آ رہی تھی۔ منت پیچھے ہٹی، لیکن تیمور نے تیزی سے اس کا راستہ روکا اور اسے دیوار سے لگا دیا۔۔۔۔۔
"مجھ سے دور رہیں!" منت کی آواز لرز رہی تھی۔ "لوگ آپ کو بھیڑیا کہتے ہیں... وہ ٹھیک کہتے ہیں۔ آپ کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔"تیمور نے اپنا ہاتھ منت کے سر کے برابر دیوار پر مارا، جس سے منت کی سسکی نکل گئی۔ وہ اس کے اتنا قریب جھکا کہ منت کو اس کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس ہوئیں۔
"ہاں، میں بھیڑیا ہوں،" اس نے گہری اور بھاری آواز میں کہا۔ "میں نے اپنے دشمنوں کے سینے چاک کیے ہیں، میں نے ان کی آنکھیں نکالی ہیں تاکہ وہ دوبارہ کسی معصوم کو نہ دیکھ سکیں۔ لیکن یہ بھیڑیا صرف تمہارے سامنے سر جھکاتا ہے۔ کیا تمہیں اندازہ ہے منت؟ اگر آج میں درندگی نہ دکھاؤں، تو یہ دنیا تمہیں مجھ سے چھین لے گی۔"
✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️
تیمور نے منت کے لرزتے ہوئے ہاتھ کو تھاما۔ "میری ماں کو جب ان لوگوں نے برباد کیا تھا، تب میں بچہ تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ان کی بے بسی دیکھی تھی۔ اس دن میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں انسان نہیں بنوں گا، میں وہ درندہ بنوں گا جس کے سائے سے بھی گناہگار کانپیں گے۔"
اسی لمحے ولا کے باہر ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ الارم بجنے لگے۔ زران چیختے ہوئے کمرے کی طرف بھاگا: "تیمور۔۔ انہوں نے مین گیٹ توڑ دیا ہے! شین خود آیا ہے!"تیمور نے منت کو ایک مضبوط الماری کے پیچھے بنے خفیہ تہہ خانے کی طرف دھکیلا۔ "اندر جاؤ اور جب تک میں نہ آؤں، باہر مت نکلنا۔"
منت نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کی آنکھوں میں اب خوف نہیں، بلکہ ایک انجانا درد تھا۔ "تیمور... واپس آئیے گا۔"تیمور نے آخری بار اس کی طرف دیکھا، اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، اور جیسے ہی وہ مڑا، اس کی آنکھیں دوبارہ نیلی آگ کی طرح جلنے لگیں۔ اس نے اپنی جیکٹ سے دو پستول نکالے اور کمرے سے باہر نکل گیا جہاں موت اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔
✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️
ولا کے باہر گولیوں کی ٹھاہ ٹھاہ آوازیں گونج رہی تھی،لیکن ولا کے کچن میں ایک الگ ہی جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ حیا، جو زران کی منگیتر اور منت کی کزن تھی، ہاتھ میں بیلن پکڑے ایک گارڈ پر چلا رہی تھی۔
"اوئے! یہ باہر پٹاخے کون پھوڑ رہا ہے؟ میری بریانی کا دم خراب ہو گیا تو میں نے تیمور بھائی سے کہہ کر تمہاری چھٹی کروا دینی ہے!"زران ہانپتا ہوا اندر داخل ہوا۔ "حیا! پاگل ہو گئی ہو؟ باہر دشمن نے حملہ کر دیا ہے اور تمہیں بریانی کی پڑی ہے؟ چلو فوراً سیف روم میں!"حیا نے کمر پر ہاتھ رکھا اور منہ بنا کر بولی، "دشمن؟ زران صاحب، اگر آپ کے گینگسٹر دوستوں کو میری بریانی کی خوشبو آ گئی نہ، تو وہ گولیاں چھوڑ کر پلیٹیں اٹھا لائیں گے۔ اور تم... تم تو بس ڈرتے ہی رہنا، شادی کے بعد میرا کیا ہوگا؟"۔۔۔۔✨️
زران نے ماتھے پر ہاتھ مارا، "شادی تب ہوگی نہ جب ہم زندہ بچیں گے! چلتی ہو یا اٹھا کر لے جاؤں؟"حیا شرما کر بولی، "ہائے! اتنا رومانس؟ اچھا چلو، پر بیلن میں ساتھ رکھوں گی، شین کو تو میں اسی سے سیدھا کروں گی۔"۔۔۔۔۔۔🪄
تیمور اور منت:(ایک جذباتی لمحہ)
باہر کا شور تھم چکا تھا۔ تیمور کے آنے کی چاپ سن کر منت کا دل زور سے دھڑکا۔ جب تیمور کمرے میں داخل ہوا، اس کے کندھے پر گولی کا ایک خراش تھا جس سے خون بہہ رہا تھا۔منت بھاگ کر اس کے پاس آئی۔ "آپ... آپ کو چوٹ لگی ہے!" اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
تیمور نے اسے دیوار سے لگایا اور اپنی نیلی آنکھیں اس کے چہرے پر ٹکا دیں۔ "خون بہنا درد نہیں دیتا منت، تمہارے ان آنسوؤں کا بہنا تکلیف دیتا ہے۔۔۔اس نے قریب پڑے پرانے گراموفون کی سوئی ہلا دی۔ کمرے میں جگجیت سنگھ کی مخملی آواز گونجنے لگی:۔۔۔🥰
"ہونٹوں سے چھو لو تم،
میرا گیت امر کردو تم۔۔۔۔۔"
تیمور نے منت کا ہاتھ تھاما اور اسے آہستہ سے اپنے قریب کھینچ لیا۔ ایک ہاتھ اس کی کمر پر اور دوسرا اس کے ہاتھ میں۔ اس وقت وہ "استنبول کا بھیڑیا" نہیں، بلکہ ایک عاشق تھا۔ دھیمی روشنی میں دونوں رقص کرنے لگے۔ منت نے اپنا سر اس کے سینے پر رکھ دیا، جہاں دل کی دھڑکن کسی طوفان کی طرح تیز تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(غلط فہمی کا زہر)
اگلی صبح، جب تیمور ایک ضروری میٹنگ کے لیے گیا ہوا تھا، منت کے فون پر ایک گمنام ویڈیو آئی۔ ویڈیو میں تیمور ایک لڑکی کے ساتھ کھڑا تھا (جو کہ دراصل اس کی جاسوس تھی)، لیکن منظر کچھ ایسا تھا جیسے وہ اسے گلے لگا رہا ہو۔ ساتھ ہی ایک آئڈیو میسج تھا۔۔۔۔۔۔:
"منت، تم تیمور کے لیے صرف ایک مہرہ ہو، اس کا اصلی مقصد تمہارے باپ کی جائیداد ہے، محبت نہیں۔"
منت کا دل ٹوٹ گیا۔ اسے لگا کہ وہ انگوٹھی، وہ تحفظ، سب ایک ڈھونگ تھا۔ جب تیمور واپس آیا، تو منت اپنا بیگ تیار کر چکی تھی۔"تم کہاں جا رہی ہو؟" تیمور کی آواز میں وہی پرانی سردی واپس آ گئی تھی۔
"وہاں جہاں آپ کا جھوٹ مجھے نہ ڈھونڈ سکے!" منت نے چلا کر کہا اور وہ ویڈیو اس کے سامنے پھینک دی۔ "آپ نے ٹھیک کہا تھا تیمور کاظمی، آپ ایک درندے ہیں، آپ کسی سے محبت نہیں کر سکتے!"تیمور نے اسے روکنا چاہا، اس کا ہاتھ پکڑا، لیکن منت نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ "مجھے چھونا مت!"تیمور خاموش کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں وہ کرب تھا جو اس نے اپنی ماں کی موت پر بھی محسوس نہیں کیا تھا۔ وہ چاہتا تو اسے زبردستی روک لیتا، لیکن اس نے اسے جانے دیا۔۔۔۔۔۔
انجامِ جدائی (ایک عارضی موڑ)
حیا اور زران بھی پریشان کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔"زران، کچھ کرو! ہماری جوڑی تو بن گئی، پر ان کا کیا ہوگا؟" حیا نے روتے ہوئے کہا۔۔زران نے تیمور کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "تیمور، اسے سچ کیوں نہیں بتایا؟ کہ وہ لڑکی شین کی بہن تھی جو ہمیں معلومات دے رہی تھی؟"تیمور نے کرسی پر بیٹھ کر اپنا سر جھکا لیا۔ "اگر وہ مجھ پر اعتبار نہیں کر سکتی، تو میرا تحفظ اس کے لیے ایک قید بن جائے گا۔ اسے جانے دو زران... بھیڑیے اکیلے ہی اچھے لگتے ہیں۔"
لیکن کیا شین منت کو آرام سے جینے دے گا؟ یا یہ جدائی کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ تھی؟
✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️