Safar e Raigah - 17 in Urdu Drama by Naheed Anis books and stories PDF | Safar e Raigah - 17

Featured Books
Categories
Share

Safar e Raigah - 17

منظر ۔

شاہ میر نے آئس کریم کا کپ پکڑا اور اس کی ٹھنڈک کو محسوس کرتے ہوئے تھوڑا سنجیدہ ہو گیا۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور آیات کی طرف دیکھ کر اپنے سب سے خوفزدہ سفر کا پنہ کھولا۔


"آیات... میں نے دنیا کے ستر ملک دیکھے ہیں، مگر سب سے زیادہ ڈر مجھے افغانستان میں لگا تھا،" شاہ میر نے دھیمے سے کہا۔


آیات نے آئس کریم کا چمچ روکا اور حیرت سے پوچھا، "افغانستان؟ وہاں تو لوگ کہتے ہیں کہ راستے بہت مشکل ہیں۔ کیا ہوا تھا وہاں؟"


شاہ میر نے آئینے کی طرح اپنے ماضی میں دیکھا۔

"میں وہاں کے ایک دور دراز علاقے، بامیان، کی طرف جا رہا تھا۔ سورج ڈھل چکا تھا اور میری پرانی ٹیکسی ایک سنسان پہاڑی راستے پر خراب ہو گئی۔ چاروں طرف صرف پتھر اور خاموشی تھی۔ میرے ڈرائیور نے مجھ سے کہا کہ ہم یہاں رک نہیں سکتے، ہمیں پیدل چلنا ہوگا کیونکہ رات کو یہاں 'اجنبی' محفوظ نہیں ہوتے۔"


شاہ میر نے تھوڑا رک کر بتایا، "ہم اندھیرے میں چل رہے تھے، صرف موبائل کی فلیش لائٹ کے سہارے۔ تبھی دور سے ہمیں کچھ لوگ آتے دکھائی دیے جن کے پاس ہتھیار تھے۔ میرے دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ مجھے اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔ مجھے لگا آج میرا 'سفرِ رائگاں' ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ سولہ سال کی عمر میں ویزا لگنے کی جو خوشی تھی، وہ اس پل موت کے ڈر میں بدل گئی تھی۔"


"پھر کیا ہوا؟" آیات نے سانس روک کر پوچھا۔

"ہم ایک چھوٹی سی غار (Cave) میں چھپ گئے۔ میں وہاں گھنٹوں سانس روک کر بیٹھا رہا۔ اس رات میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ زندگی کتنی قیمتی ہے۔ مگر پتا ہے آیات؟ جب صبح ہوئی اور ان پہاڑوں پر پہلی کرن پڑی، تو وہ منظر اتنا حسین تھا کہ میرا سارا ڈر ختم ہو گیا۔ میں نے وہاں سیکھا کہ سب سے گہری رات کے بعد ہی سب سے روشن صبح آتی ہے۔"


شاہ میر نے آیات کی آنکھوں میں دیکھا اور نرم آواز میں کہا، "اسی لیے میں آپ سے کہتا ہوں... آپ کی زندگی کی رات بھی بیت جائے گی۔ بس تھوڑا سا صبر اور تھوڑی سی ہمت۔"



 شاہ میر کی شہرت اب آیات کے سامنے ایک نئے ڈھنگ سے آ رہی تھی۔

شاہ میر اور آیات سکون سے اپنی آئس کریم کا لطف لے رہے تھے کہ اچانک ایک لڑکی تیزی سے ان کی طرف آئی۔ اس کے چہرے پر ایسی خوشی تھی جیسے اس نے کوئی خزانہ ڈھونڈ لیا ہو۔


"اوہ مائی گاڈ! کیا آپ شاہ میر سکندر ہیں؟" اس لڑکی نے حیرت اور ایکسائٹمنٹ میں پوچھا۔


شاہ میر نے مسکرا کر سر ہلایا۔ "جی، میں ہی ہوں۔"

"میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں! میں نے آپ کے سارے ستر ملکوں کے بلاگز (Vlogs) دیکھے ہیں، خاص طور پر وہ چین اور جاپان والا... کیا میں آپ کے ساتھ ایک فوٹو لے سکتی ہوں؟" اس نے اپنا فون نکالتے ہوئے پوچھا۔


شاہ میر نے نرمی سے ہاں کہہ دی۔ وہ لڑکی شاہ میر کے کافی قریب کھڑی ہو گئی اور مسکرا کر سیلفی لینے لگی۔ آیات، جو اب تک اپنی آئس کریم کا مزا لے رہی تھی، اچانک رک گئی۔ اس نے دیکھا کہ کیسے وہ لڑکی شاہ میر سے باتیں کر رہی تھی اور شاہ میر بھی اتنی ہی دلچسپی سے جواب دے رہا تھا۔


آیات کو اپنے دل میں ایک عجیب سی چبھن محسوس ہوئی۔ اس نے زور سے اپنا چمچ کپ میں مارا۔ اس نے سوچا، "لوگ اسے اتنا کیوں پسند کرتے ہیں؟ اور یہ شاہ میر بھی... اتنا مسکرا کر کیوں بات کر رہے ہیں؟"

جب وہ لڑکی "تھینک یو سو مچ!" کہہ کر چلی گئی، تو وہاں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ آیات نے اپنی آئس کریم کی طرف دیکھتے ہوئے روکھے پن سے کہا

"بہت بڑے اسٹار لگتے ہیں آپ... ہر کوئی راستے میں روک لیتا ہے؟"


شاہ میر نے آیات کے بدلے ہوئے لہجے کو بھانپ لیا۔ اس نے چھوٹی سی ہنسی دباتے ہوئے اپنا فون نکالا اور اسکرین آیات کی طرف کر دی۔

"اسٹار کا تو پتا نہیں آیات، مگر یوٹیوب پر    

( نو سو چھپن ملین ) لوگ ہیں جو میرے سفر کا انتظار کرتے ہیں۔ میرے ہر بلاگ کا مقصد انہیں یہ بتانا ہوتا ہے کہ دنیا کتنی بڑی ہے۔"


   نو سو چھپن ملین کی رقم سن کر آیات کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ جس شخص کے ساتھ وہ آئس کریم کھا رہی ہے، اسے پوری دنیا اتنے شوق سے دیکھتی ہے۔ 

اور میں ڈاکٹر بھی ہو ۔  

شاہ میر نے شرارت سے آیات کی طرف دیکھا اور پوچھا، "کیا ہوا؟ کہیں آپ کو جلن تو نہیں ہو رہی تھی؟"

آیات نے فوراً نظریں پھیر لیں اور جھوٹی ناراضگی سے بولی، "میں؟ اور جلن؟ بالکل نہیں! میں تو بس یہ سوچ رہی تھی کہ نو سو چھپن ملین لوگوں کو اور کوئی کام نہیں ہے کیا؟"

شاہ میر کا قہقہہ پارلر میں گونج اٹھا۔ اسے پتا تھا کہ آیات کی یہ ج

لن اس کے لیے ایک انوکھی خوشی تھی۔