Safar e Raigah - 6 in Urdu Drama by Naheed Anis books and stories PDF | Safar e Raigah - 6

Featured Books
Categories
Share

Safar e Raigah - 6

باب 

شاہمیر کی دنیا ہمیشہ سے ہی اس کے اسکول کی کتابوں اور پرانے نقشوں کے درمیان بسی تھی۔ جب کلاس میں استاد کہتے کہ "دنیا گول ہے"، تو باقی بچے اسے صرف ایک سبق سمجھ کر یاد کر لیتے، مگر چھوٹا شاہمیر گھنٹوں اسی سوچ میں ڈوبا رہتا۔

’اگر دنیا گول ہے، تو پھر اس کے کونے کہاں ہوں گے؟ کیا وہاں کھڑے ہو کر نیچے جھانکا جا سکتا ہے؟‘ یہ سوال اسے بے چین رکھتا۔

اس کا سب سے پسندیدہ مضمون جغرافیہ تھا۔ جب دوسرے بچے حدت اور بارش کے فارمولے یاد کرتے، شاہمیر نئے دیشوں کے کلچر اور وہاں کے لوگوں کے رہن سہن کے قصے پڑھتا۔
 اس کے پاس ایک چھوٹا سا صندوق تھا، جس میں وہ بڑے شوق سے الگ الگ ملکوں کے کرنسی نوٹ اور سکے جمع کرتا تھا۔ اس کے لیے وہ کاغذ کے ٹکڑے نہیں، بلکہ ان دور دراز کی دنیاؤں کا راستہ تھا۔

گھر میں جب بھائی بہن مل کر کھیلتے، تو شاہمیر کا سب سے پسندیدہ کھیل ’میپ ہنٹنگ‘ ہوتا۔ وہ سب نقشے پر کسی انجان شہر یا ملک کا نام لیتے اور شاہمیر کی انگلیاں سب سے پہلے اس نشان تک پہنچ جاتیں۔ نقشوں کی لکیریں اس کے لیے صرف راستے نہیں تھیں، وہ اس کے خوابوں کی لکیریں تھیں۔


وقت گزرتا گیا اور شاہمیر کے خواب اس کے قد سے بھی بڑے ہو گئے۔ جب وہ 16 سال کا ہوا، تو جہاں اس کے دوست نئی بائیک یا کپڑوں کی فرمائش کر رہے تھے، شاہمیر نے دبی آواز میں اپنے پاسپورٹ کی بات کی تھی۔

 دن رات کی محنت اور انہی پرانے جمع کیے ہوئے سکوں کی چمک نے اسے حوصلہ دیا۔
مگر سب سے بڑی رکاوٹ پیسہ تھی۔ وہ جانتا تھا کہ گھر سے مانگنا مشکل ہے، اس لیے اس نے اپنی بہن کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔

 بہن نے اس کی آنکھوں میں وہ جنون دیکھا اور اپنے پاس سے پیسے ادھار دیے تاکہ اس کا پہلا ویزہ لگ سکے۔

شاہمیر کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اس نے اس ویزہ کو دیکھا۔ اس کا پہلا اصلی سفر! اس نے پیکنگ شروع کر دی تھی، نقشے دوبارہ دیکھے، اور ہر اس جگہ کا سوچا جہاں وہ جانا چاہتا تھا۔

لیکن پھر وقت نے کروٹ بدلی۔۔۔ لاک ڈاؤن لگ گیا۔
پوری دنیا تھم گئی، اور شاہمیر کی امیدیں بھی۔ وہ ویزہ جو اس کی آزادی کا پروانہ تھا، اب صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گیا۔ وہ گھنٹوں اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر خاموش سڑکوں کو دیکھتا رہتا۔

 وہ دکھ لفظوں میں بیان کرنا مشکل تھا—جیسے کسی پرندے کو پنجرے سے نکلنے کا راستہ دکھا کر دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہو۔ اس کی خاموشی اب پہلے سے زیادہ گہری ہو گئی تھی۔


شاہمیر نے صبر کا گھونٹ پی لیا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں اب بھی وہی پرانی چمک تھی۔

 تین سال اس نے پاگلوں کی طرح جم (Gym) میں پسینہ بہایا، جیسے وہ اپنے جسم کو آنے والے کٹھن سفروں کے لیے تیار کر رہا ہو۔

 لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب کاروبار ٹھپ ہو رہے تھے اور لوگ اپنا سامان سستے میں بیچ رہے تھے، شاہمیر کی نظریں ایک موقع پر جمی تھیں۔

اس نے دیکھا کہ ایک شخص اپنا جم بیچنا چاہتا ہے۔ پیسوں کا انتظام ایک بڑا مسئلہ تھا، مگر اس سے بھی بڑی رکاوٹ اس کی فیملی تھی۔ 

اس کا بھائی IPS آفیسر تھا اور بہن ڈاکٹر؛ ان کے گھر میں صرف پڑھائی کی بات ہوتی تھی۔ "اگر باہر جانا ہے تو صرف پڑھائی کے لیے،" یہ گھر والوں کا نعرہ تھا۔ مگر شاہمیر کو کمرے میں بند ہو کر کتابیں نہیں چاٹنی تھیں، اسے دنیا دیکھنی تھی۔

اس نے اپنے ماما کو ہمسفر بنایا۔ وہ جانتا تھا کہ وہی امی اور بابا کو منا سکتے ہیں۔ اس نے اپنی بہن سے مزید 1.5 لاکھ ادھار لیے، کچھ دوستوں سے مانگے اور اپنی برسوں کی جمع پونجی اکٹھی کر کے وہ جم خرید لیا۔

لیکن اصلی امتحان اب شروع ہوا۔ ایک IPS بھائی اور ڈاکٹر بہن کا چھوٹا بھائی اب ایک جم چلا رہا تھا۔ شاہمیر نے وہاں کوئی شرم نہیں کی۔

 جب کبھی صفائی کرنے والا نہیں آتا، تو وہ خود جھاڑو اٹھا لیتا اور پورے جم کو چمکا دیتا۔ لوگ دیکھتے تو حیران ہوتے کہ اتنے بڑے گھرانے کا لڑکا خود صفائی کر رہا ہے، مگر شاہمیر کے ذہن میں صرف ایک ہی دھن تھی—پیسہ جمع کرنا ہے، تاکہ ویزہ لگ سکے اور سفر شروع ہو۔


وقت گزرتا گیا اور شاہمیر کی دن رات کی محنت رنگ لانے لگی۔ جم چل نکلا تھا۔ اب اس کے پاس اتنے پیسے جمع ہو گئے تھے کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے بغیر دنیا کے کسی بھی کونے کا ٹکٹ کٹوا سکتا تھا۔

ایک شام، جب وہ اپنی باجی (ڈاکٹر بہن) کے پاس بیٹھا تھا، اس نے مسکراتے ہوئے کہا:
"باجی، جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہی ہوتا ہے۔ دیکھیں۔ آج میرے پاس اتنے پیسے ہیں کہ میں اپنی مرضی سے کہیں بھی گھوم سکتا ہوں۔
"
بہن نے حیرت اور تھوڑی دکھ بھری نظر سے اسے دیکھا۔ اسے اپنے چھوٹے بھائی کا جم میں صفائی کرنا اور اتنی سخت محنت کرنا یاد آیا۔ اس نے نرم آواز میں کہا:
"شاہمیر، اگر تم گھر پر مانگتے تو بابا تمہیں منع نہیں کرتے۔ تمہیں جتنے پیسے چاہیے ہوتے، وہ دے دیتے۔

 پھر تم نے اتنی مشقت کیوں کی؟"
شاہمیر نے کھڑکی سے باہر دیکھا، جہاں اب لاک ڈاؤن کی بندشیں ختم ہو چکی تھیں اور راستے کھل چکے تھے۔ اس نے دھیرے سے جواب دیا:
"مجھے پتا ہے باجی، بابا مجھے مانگے بغیر سب کچھ دے دیتے۔۔

۔ مگر اب مجھے یہ سکون رہے گا کہ میں اپنے پسینے کی کمائی سے گھوم رہا ہوں۔ جب میں برف سے ڈھکے پہاڑوں یا کسی انجان شہر کی سڑکوں پر کھڑا ہوں گا، تو مجھے یہ احساس سکون دے گا کہ یہ راستہ میں نے خود بنایا ہے۔ کسی کے دیے ہوئے پیسوں سے گھومنا ایک سیر ہو سکتی ہے، مگر اپنے پیسوں سے گھومنا ایک ’فتح‘ (victory) ہے۔"
اس دن اس کی بہن کو احساس ہوا کہ اس کا چھوٹا بھائی اب صرف ایک خواب دیکھنے والا بچہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا مرد بن چکا ہے جو اپنے خوابوں کا بوجھ خود اٹھانا جانتا ہے۔

شاہمیر نے اپنا بیگ پیک کیا۔ اس بار اس میں صرف کپڑے نہیں تھے، بلکہ برسوں کی محنت، جم کا پسینہ اور وہ خواب تھا جو لاک ڈاؤن کی نظر ہوتے ہوتے بچا تھا۔ جب اس نے ایئرپورٹ پر اپنا پاسپورٹ دکھایا، تو اس کی انگلیاں ہلکی سی کانپ رہی تھیں—خوف سے نہیں، بلکہ اس خوشی سے جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی تھی۔
اس نے پہلا سفر اکیلے کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ کسی کے ساتھ گیا تو وہ دنیا کو دوسروں کی نظر سے دیکھے گا، مگر اسے تو دنیا کو اپنی نظر سے دیکھنا تھا۔
استنبول، ترکی
جب جہاز نے استنبول کے پرفضا آسمان میں پرواز کی، تو شاہمیر نے کھڑکی سے نیچے دیکھا۔ نیچے نیلا سمندر اور پرانی عمارتوں کے مینار دکھ رہے تھے۔ جب وہ ایئرپورٹ سے باہر نکلا، تو ٹھنڈی ہوا نے اس کا استقبال کیا۔
وہ وہاں کی سڑکوں پر اکیلا نکل گیا۔ گلاٹا ٹاور (Galata Tower) کی بلندی ہو یا بلیو ماسک (Blue Mosque) کی خاموشی، شاہمیر ہر جگہ رک کر گہرا سانس لیتا۔ اس نے وہاں کے لوگوں کو دیکھا، ان کی زبان سنی جو اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی، مگر اس کے دل کو سکون مل رہا تھا۔
رات کو جب وہ باسفورس (Bosphorus) کے کنارے بیٹھا تھا، تو اس نے اپنے پرانے صندوق میں جمع کیے ہوئے وہ ترکش لیرا (Turkish Lira) یاد کیے جو اس نے بچپن میں اسکول کے باہر سے کہیں سے ڈھونڈ کر جمع کیے تھے۔ آج اس کی جیب میں اصلی ترکش لیرا تھے، جو اس نے خود کمائے تھے۔
اس نے ٹھنڈی ہوا میں مسکرا کر خود سے کہا:
"دنیا گول ہے شاہمیر۔۔۔ اور تم نے پہلا کونا ڈھونڈ لیا ہے۔”


استنبول کی ٹھنڈی ہواؤں میں شاہ میر کو ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ ہوٹل کا مینیجر اس کا دوست بن گیا تھا، اس لیے اسے وہاں رہنے میں کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ مگر ایک شام، جب وہ باسفورس (Bosphorus) کے کنارے بیٹھا سورج کو ڈوبتے دیکھ رہا تھا، اس کے دل میں ایک ٹیس اٹھی۔
"کاش! یہ منظر میرے گھر والے بھی دیکھ سکتے۔ کاش، میرے دوست اور باقی لوگ بھی یہ جان پاتے کہ دنیا کتنی حسین ہے۔"
اسی وقت اس کے ذہن میں ایک خیال آیا— YouTube Vlog۔ اس نے اپنا فون نکالا، کیمرہ آن کیا اور اسے اپنے چہرے کے سامنے لایا۔ مگر جیسے ہی اس نے اپنا عکس (reflection) اسکرین پر دیکھا، اس کے الفاظ حلق میں پھنس گئے۔ وہ لڑکا جو جم میں اکیلا محنت کرتا تھا، جو بڑے بڑے لوگوں کے سامنے نہیں ڈرتا تھا، آج ایک چھوٹے سے لینس کے سامنے بے زبان ہو گیا تھا۔
"السلام علیکم... میں..." اس نے بولنے کی کوشش کی، مگر آس پاس گزرتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر اس نے فوراً فون نیچے کر لیا۔
اسے سخت شرم محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے زندگی میں کبھی ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔ اس کے بھائی بہن اپنے اپنے میدان کے ماہر تھے، مگر کیمرے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی زندگی دکھانا اس کے لیے ایک پہاڑ چڑھنے جیسا تھا۔
وہ گھنٹوں وہیں بیٹھا رہا۔ کیمرہ آن کرتا، تھوڑا سا مسکراتا، اور پھر شرم سے ویڈیو ڈیلیٹ کر دیتا۔ اسے لگ رہا تھا کہ سب اسے ہی دیکھ رہے ہیں۔ اس کا پہلا بلاگ بنتے بنتے رہ گیا، مگر اس کے دل میں ایک نئی ضد پیدا ہو گئی تھی— اگر دنیا گول ہے، تو اسے دکھانا بھی تو ہے


استنبول کی سردی میں شاہ میر کے ہاتھ تھتھر رہے تھے، مگر وجہ صرف سردی نہیں، بلکہ وہ شرم تھی جو اسے بولنے نہیں دے رہی تھی۔ اس نے اپنے ہوٹل کے منیجر دوست سے مشورہ کیا۔ دوست نے ہنس کر کہا:
"شاہ میر، یہاں کوئی تمہیں نہیں جانتا۔ اگر تم غلط بھی بولو گے، تو یہ لوگ سمجھیں گے تم اپنی زبان میں کچھ کہہ رہے ہو۔ بس شروع کرو!"
شاہ میر نے ایک گہری سانس لی اور ہوٹل کی چھت (terrace) پر چلا گیا جہاں شور کم تھا۔ اس نے کیمرہ آن کیا، اپنی دھڑکنوں کو سنبھالا اور پہلی بار اسکرین کی طرف دیکھ کر مسکرایا:
"السلام علیکم دوستو! میں ہوں شاہ میر سکندر۔ اور آج میں اس جگہ کھڑا ہوں جہاں کا خواب میں نے بچپن میں اپنی اسکول کی کتابوں میں دیکھا اور نقشوں پر انگلیاں پھیر کر بنا تھا۔ آج میں استنبول میں ہوں۔"
اس نے ویڈیو ریکارڈ تو کر لی، مگر جب اسے ایڈٹ کرنے بیٹھا تو اسے اپنی ہی آواز عجیب لگ رہی تھی۔ اس نے سوچا، 'کیا گھر والے مذاق اڑائیں گے؟ کیا آئی پی ایس (IPS) بھائی کہیں گے کہ یہ کیا بچپنا ہے؟'
مگر پھر اس نے سوچا کہ اگر وہ آج نہیں بولے گا، تو اس کا یہ سفر صرف اس تک رہ جائے گا۔ اس نے ہمت کر کے وہ ویڈیو اپنے فیملی گروپ پر شیئر کر دی اور فون سائیڈ پر رکھ دیا۔
گھر کا ری ایکشن:
سب سے پہلے اس کی ڈاکٹر باجی کا میسج آیا:
"شاہ میر! ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ تم اتنا اچھا بولتے ہو۔ ہمیں تم پر فخر ہے۔"
اور پھر اس کے آئی پی ایس (IPS) بھائی نے لکھا:
"زبردست! بس اپنی سیفٹی کا خیال رکھنا اور دنیا کو دکھاؤ کہ پورنا کا لڑکا کہاں تک پہنچ سکتا ہے۔"
ان دو میسجز نے شاہ میر کے اندر کی ساری شرم ختم کر دی۔ اب وہ صرف ایک مسافر نہیں تھا، وہ ایک storyteller (قصہ گو) بن چکا تھا۔


استنبول کی ٹھنڈ اب شاہمیر کو محسوس نہیں ہو رہی تھی، کیونکہ اس کے اندر ایک نیا جنون جاگ چکا تھا۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ صرف گھومے گا نہیں، بلکہ دنیا کو اپنی نظر سے دکھائے گا۔
مگر یہ اتنا آسان نہیں تھا۔
 شاہمیر نے اپنے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کیا اور آئینے (mirror) کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اس نے 2 سے 3 گھنٹے تک وہاں بیٹھ کر تیاری کی۔ وہ بار بار اپنے الفاظ دہراتا، اپنی آواز کے اتار چڑھاؤ کو چیک کرتا، اور یہ سوچتا کہ بات کہاں سے شروع کرنی ہے۔

 وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا پہلا ویڈیو صرف ایک معمولی وی لاگ (vlog) ہو؛ وہ چاہتا تھا کہ دیکھنے والا استنبول کی گلیوں کی خوشبو اور اس کی تاریخ (history) کو محسوس کر سکے۔
جب وہ تیاری کر کے باہر نکلا، تو اس کا انداز بدل چکا تھا۔
پہلا یوٹیوب ویڈیو (Pehla YouTube Video):
اس نے ویڈیو کی شروعات سلطان احمد اسکوائر سے کی۔

 اس نے صرف عمارتیں نہیں دکھائیں، بلکہ وہاں کے کبوتروں کی پرواز، پرانی دیواروں پر جمی کئی برسوں کی دھول، اور باسفورس (Bosphorus) کے نیلے پانی کی لہروں کو اس طرح کیمرہ میں قید کیا جیسے کوئی شاعر اپنی غزل لکھتا ہے۔

اس نے جب بولنا شروع کیا، تو اس کی آواز میں ایک ایسی کشش تھی جو دیکھنے والے کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی تھی۔ اس نے کہا:
"دنیا گول ہے، یہ تو سب نے سنا ہے... مگر اس کے ہر موڑ پر ایک نئی کہانی چھپی ہے۔ آج میں آپ کو استنبول کی ان گلیوں میں لے جاؤں گا جہاں وقت ٹھہر گیا ہے۔
"
جب وہ ویڈیو یوٹیوب پر اپلوڈ ہوئی، تو دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ شامیر جیسے ابھی نیٹ کمپلیٹ کی ہے وہ۔
  
  اتنی گہری اور متاثر کن (impressive) بات کر سکتا ہے۔ اس کے دوستوں اور رشتہ دار خاموش ہو گئے، کیونکہ شاہ میر نے ثابت کر دیا تھا کہ اس کی دیوانگی بے مقصد نہیں تھی۔


شاہ میر ممبئی واپس آ چکا تھا، مگر اس کا دل اب بھی ان پُراسرار گلیوں میں اٹکا تھا۔ اس نے ایک کے بعد ایک، تقریباً 20 سے 30 ویڈیوز اپلوڈ کیں۔ ہر ویڈیو پر وہ گھنٹوں محنت کرتا، اسکرپٹنگ کرتا، اور ایڈیٹنگ میں اپنی راتیں جگاتا۔ مگر نتیجہ؟ صرف 200 سبسکرائبرز۔
لوگ مذاق اڑاتے، "ممبئی میں رہ کر یہ کیا کر رہے ہو؟ پڑھائی پر دھیان دو۔" مگر شاہ میر کو پتہ تھا کہ ہر بڑا درخت (tree) ایک چھوٹے سے بیج سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے ہر ویڈیو سے کچھ نیا سیکھا—کبھی کیمرہ اینگل بہتر کیا، تو کبھی اپنی آواز میں مزید ٹھہراؤ لایا۔
پھر آیا اس کی زندگی کا وہ فیصلہ جس نے سب بدل دیا: چین (China) کا سفر۔
جب شاہ میر چین پہنچا، تو وہاں کی بالکل الگ دنیا، پرانی دیوار (Great Wall)، اور وہاں کا عجیب و غریب کلچر دیکھ کر اس نے ایک الگ ہی انداز میں وی لاگنگ (vlogging) شروع کی۔ اس نے وہاں کے چھوٹے گاؤں اور لوگوں کی کہانیاں دکھائیں۔
اس نے ایک ایسی جگہ سے ویڈیو شروع کیا جہاں برف گر رہی تھی اور پیچھے پہاڑ دکھ رہے تھے۔ اس نے کیمرہ کی طرف دیکھ کر کہا:
"لوگ کہتے ہیں راستے ختم ہو جاتے ہیں، مگر میں کہتا ہوں راستے وہاں سے شروع ہوتے ہیں جہاں ہم ہمت ہارنے لگتے ہیں۔"
چین کی ان ویڈیوز نے جیسے انٹرنیٹ پر آگ لگا دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے، وہ 200 سبسکرائبرز ہزاروں میں بدلنے لگے۔ لوگوں کو شاہ میر کا وہ پُراسرار انداز اور اس کی گہری باتیں پسند آنے لگیں۔ وہ ممبئی کا لڑکا، جو کبھی کیمرہ کے سامنے بولنے سے ڈرتا تھا، اب پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن رہا تھا۔

ویڈیو شروع ہوتی ہے ایک خاموش، دھند بھری صبح سے۔ کیمرہ آہستہ سے گھومتا ہے اور پیچھے دکھائی دیتی ہے بلند و بالا، برف سے ڈھکی ہوئی 'دیوارِ چین' (Great Wall of China)۔ سورج کی پہلی کرنیں برف پر پڑ رہی ہیں، جیسے کوئی سونا بکھرا ہو۔

 وہاں کوئی اور نہیں ہے، صرف خاموشی اور برف کی چادر۔
تبھی، کیمرہ شاہ میر کے چہرے کی طرف گھومتا ہے۔ اس نے ایک کالا ہوڈڈ (hooded) جیکٹ پہنا ہے، برف کے گالے اس کے بالوں اور پلکوں پر جمے ہوئے ہیں۔

 اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی کشش ہے، جیسے وہ اس دنیا سے پرے کچھ دیکھ رہا ہو۔ اس نے کیمرہ کے لینس کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا، اس کی آواز ٹھنڈ سے تھوڑی کانپ رہی تھی:
"السلام علیکم، دوستو... میں ہوں شاہ میر سکندر۔ اور آج میں اس جگہ کھڑا ہوں جہاں وقت رک جاتا ہے۔
"
اس نے کیمرہ کو آہستہ سے گھمایا، دکھاتے ہوئے کہ دیوار کیسے پہاڑوں پر سانپ کی طرح رینگ رہی ہے۔
"یہ ہے دیوارِ چین۔ ہزاروں برسوں کی تاریخ، لاکھوں لوگوں کا پسینہ، اور بے شمار کہانیاں... اس ٹھنڈ میں کھڑے ہو کر، جب میں اس پرانی دیوار کو چھوتا ہوں، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ انسان کتنا چھوٹا ہے اور اس کے خواب کتنے بڑے۔
"
ویڈیو کا فریم بدلتا ہے۔ اب شاہ میر ایک چھوٹے سے گاؤں کی گلی میں ہے۔ وہاں ایک بوڑھا آدمی پرانی 'Erhus' (چینی وائلن) بجا رہا ہے۔ شاہ میر نے کیمرہ کی طرف دیکھا اور کہا:
"سفر صرف عمارتیں دیکھنا نہیں ہے۔ سفر تو ان لوگوں سے ملنا ہے جن سے ہم کبھی نہیں ملے، ان کی زبان سننا جو ہمیں سمجھ نہیں آتی، مگر جن کا دل ہمارے جیسا ہی دھڑکتا ہے۔"
اس نے ایک مسکراتے ہوئے بچے کو دیکھا اور کیمرہ بند کر دیا۔

ویڈیو کے آخر میں صرف وہی برف سے ڈھکی ہوئی دیوارِ چین دکھائی دیتی ہے اور پیچھے سے شاہ میر کی گہری، ٹھہری ہوئی آواز آتی ہے:
"سفر ابھی شروع ہوا ہے... اور اگر آپ میرے ساتھ اس 'سفرِ رائیگاں' میں شامل ہونا چاہتے ہیں، تو سبسکرائبر بٹن دبا دیں۔ کیونکہ، دنیا گول ہے، اور راستے ہمیشہ کھلے ہیں۔"
ویڈیو آہستہ آہستہ اندھیرے (fade to black) میں کھو جاتی ہے۔

اس سین کا اثر:
اس ویڈیو نے لوگوں کے دلوں کو چھو لیا۔ انہوں نے شاہ میر کو صرف ایک مسافر نہیں، بلکہ ایک شاعرِ مسافر کے روپ میں دیکھا۔ اس کی گہری باتوں اور اس کے مخصوص وی لاگنگ اسٹائل نے اسے سب سے الگ بنا دیا۔ اب لوگوں کو اس کی اگلی ویڈیو کا انتظار رہتا تھا۔

(ویڈیو کا آغاز ایک تیز رفتار مونٹیج سے ہوتا ہے...)
شور اور موسیقی کی دھیمی آواز کے ساتھ اسکرین پر تیزی سے مناظر بدلتے ہیں:
رات کی روشنیوں میں نہایا ہوا پیرس کا ایفل ٹاور...
مصر کے احرام کے سامنے چلتے ہوئے اونٹ...
سوئٹزرلینڈ کی برفانی چوٹیاں...
برازیل کے گھنے جنگلات اور دریائے ایمیزون...
جاپان میں کھلنے والے چیری بلوسمز (Cherry Blossoms)...
وائس اوور — شاہ میر کی گہری اور ٹھہری ہوئی آواز:
"لوگ پوچھتے ہیں، شاہ میر... تم تھکتے نہیں؟ ایک ملک سے دوسرا، ایک جہان سے دوسرا... کیا ڈھونڈ رہے ہو؟"
(کیمرہ اب شاہ میر پر فوکس کرتا ہے، وہ آئس لینڈ کے ایک کالے رنگ کے ساحل (Black Sand Beach) پر کھڑا ہے، تیز ہوا اس کے بالوں کو اڑا رہی ہے۔)
"میں نے شروعات کی تھی ممبئی کی ایک چھوٹی سی گلی سے، جہاں میں نے سنا تھا کہ دنیا گول ہے۔ آج 70 ملک دیکھنے کے بعد میں کہہ سکتا ہوں... دنیا گول تو ہے، مگر اس کے ہر موڑ پر ایک نئے رنگ کا جہان بسا ہے۔"
ویڈیو سیگمنٹ: 70 منزلیں (جھلکیاں)
(اسکرین پر نقشہ چلتا ہے اور تیزی سے ڈاٹس آپس میں جڑتے ہیں...)
ایشیا کا جادو: "میں نے ترکی کی اذان سنی، چین کی دیوار پر قدم رکھا، ویتنام کی گلیوں میں سائیکلنگ کی، اور ازبکستان کی پرانی مسجدوں میں سکون تلاش کیا۔"
یورپ کی تاریخ: "میں اٹلی کی پرانی گلیوں میں کھویا، ناروے میں 'ناردرن لائٹس' کے نیچے حیران کھڑا رہا، اور یونان (Greece) کے نیلے سمندر کے کنارے خود سے باتیں کیں۔"
افریقہ کی روح: "میں نے مراکش کے بازاروں کی خوشبو سونگھی اور کینیا کے جنگلوں میں قدرت کو قریب سے دیکھا۔"
امریکا کا جنون: "میں نے نیویارک کی بلند عمارتوں سے لے کر پیرو کے 'ماچو پچو' (Machu Picchu) تک کا فاصلہ طے کیا۔"
جذباتی حصہ (Candid Moment)
(موسیقی دھیمی ہو جاتی ہے۔ اسکرین پر شاہ میر کی پرانی تصاویر آتی ہیں—جب وہ جم میں صفائی کر رہا تھا، جب پہلا ویزا لگا تھا۔)
"میں جب سعودی عرب میں عمرہ کے لیے گیا، وہاں کی خاموشی نے مجھے رلا دیا۔ جب میں فلسطین کی گلیوں میں چلا، تو مجھے احساس ہوا کہ آزادی کیا ہوتی ہے۔ میں نے 70 ملکوں کے پاسپورٹ اسٹیمپ جمع کیے ہیں، مگر ہر اسٹیمپ کے پیچھے ایک کہانی ہے—کبھی بھوک، کبھی تھکن، کبھی اکیلے پن کا ڈر... مگر ہر بار، میرا جنون میری تھکن سے بڑا نکلا۔"
آخری شاٹ (The Ending Shot)
(اب شاہ میر ایک پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہے، پیچھے سورج ڈوب رہا ہے۔)
"آج میرے پاس ان 70 ملکوں کے سکے ہیں، نوٹس ہیں، اور ہزاروں یادیں ہیں۔ لوگ مجھے کہتے ہیں 'The World Traveler'، مگر میں آج بھی وہی ممبئی کا لڑکا ہوں جو صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ دنیا کے کونے کہاں ہیں۔"
[شاہ میر کیمرہ کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے اور کہتا ہے:]
"سفرِ رائیگاں ابھی ختم نہیں ہوا... کیونکہ ابھی سب سے خوبصورت راستہ باقی ہے۔"
(اسکرین بلیک ہو جاتی ہے اور لکھا آتا ہے:)
"کشمیر... جلد آ رہا ہے"
اس سین کا اثر:
یہ ویڈیو شاہ میر کے 5 سالہ مشکل سفر کا نچوڑ تھی۔ اس نے دکھایا کہ ایک معمولی لڑکا اپنی محنت اور جنون سے پوری دنیا کو تسخیر کر سکتا ہے۔ کشمیر کا اعلان اس کے مداحوں کے لیے ایک بڑا سرپرائز تھا۔

70 ملکوں کی دھول اپنے قدموں سے صاف کر کے جب شاہمیر واپس اپنے شہر، اپنے گھر پہنچا، تو منظر بدل چکا تھا۔ وہ ممبئی کا لڑکا جو کبھی پاسپورٹ کے لیے پیسے ادھار مانگتا تھا، اب ایک "انٹرنیشنل ٹریولر" بن کر لوٹا تھا۔
اس واپسی کو ہم ایک جذباتی ویڈیو سین کی طرح لکھتے ہیں:
ویڈیو ٹائٹل: ہوم کمنگ — 70 ممالک کے بعد
(ویڈیو شروع ہوتی ہے ممبئی ائیرپورٹ کے ارائیول گیٹ سے۔ شاہمیر اپنا پرانا، تھوڑا گھسا ہوا بیک پیک کندھے پر ڈالے باہر نکل رہا ہے۔ اس کے چہرے پر 70 ملکوں کی تھکن نہیں، بلکہ ایک عجیب سا اطمینان ہے۔)
[وائس اوور - شاہمیر]:
"میں نے نیویارک کی چمک دیکھی، پیرس کی ٹھنڈ محسوس کی، اور ٹوکیو کی بھیڑ میں کھویا رہا۔۔۔ مگر جو سکون اپنے شہر کی ہوا میں ہے، وہ کہیں نہیں ملا۔"
(کیمرہ اب گھر کے دروازے پر فوکس کرتا ہے۔ شاہ میر نے بیل بجائی۔ دروازہ اس کی ڈاکٹر باجی نے کھولا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پیچھے سے آئی پی ایس (IPS) بھائی مسکراتے ہوئے باہر آئے۔)
[سین - ڈرائنگ روم]
گھر کا حلیہ وہی تھا، مگر شاہ میر کے لیے سب کچھ نیا تھا۔ اس نے اپنا بیگ کھولا اور ان 70 ملکوں سے لائے ہوئے تحفے (souvenirs) نکالنے لگا:
ترکی کا 'Evil Eye' (نذر وٹو) اپنی ماں کے لیے۔۔۔
سوئٹزرلینڈ کی گھڑی اپنے بھائی کے لیے۔۔۔
جاپان سے لائی ہوئی ایک نایاب کتاب اپنی باجی کے لیے۔۔۔
[ڈائیلاگ]:
بھائی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، "شاہ میر، ہمیں تم پر فخر ہے۔ تم نے صرف دنیا نہیں دیکھی، تم نے ہمیں دنیا دکھائی ہے۔"
شاہمیر نے مسکرا کر اپنے بابا کو دیکھا، جو کونے میں کھڑے فخر (pride) سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے۔ شاہ میر نے اپنی جیب سے وہ پرانا ادھار کا حساب نکالا جو اس نے 1.5 لاکھ اپنی باجی سے لیے تھے، اور ان کے ہاتھ پر ایک چیک رکھا۔
"باجی، یہ صرف پیسے نہیں ہیں۔۔۔ یہ اس سکون کی قیمت ہے جو مجھے ہر سفر میں ملتا رہا کہ میں اپنے دم پر کھڑا ہوں۔"
دی ٹرننگ پوائنٹ (کشمیر کا خیال):
رات کو جب سب سو گئے، شاہ میر اپنے کمرے کی کھڑکی پر کھڑا تھا۔ ممبئی کا شور باہر تھا، مگر اس کے اندر ایک نئی خاموشی تھی۔ اس نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور ایک نیا فولڈر بنایا، جس کا نام رکھا:
"سفرِ رائیگاں: دی فائنل ڈیسٹینیشن (The Final Destination)"
اس نے نقشے (map) پر اپنی انگلی رکھی— کشمیر۔
70 ملک گھومنے کے بعد بھی اسے لگ رہا تھا کہ اس کی کہانی کا سب سے اہم حصہ ابھی باقی ہے۔ وہ جگہ جہاں اس نے برف کا خواب پہلی بار دیکھا تھا۔

یہ شاہ میر کی گہری سوچ کو دکھاتا ہے۔ اس کے لیے سفر صرف گنتی (numbers) پوری کرنا نہیں، بلکہ زندگی کو جینے کا بہانہ ہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ اگر منزل مل گئی، تو سفر کا مزہ ختم ہو جائے گا۔
چلیے، دو بھائیوں—ایک IPS آفیسر اور ایک آزاد مسافر—کے درمیان اس دلچسپ گفتگو کو لکھتے ہیں:
رات کا وقت تھا۔ ممبئی کی چمکتی روشنیاں کھڑکی سے اندر آ رہی تھیں۔ شاہ میر کا بڑا بھائی، جو اپنی IPS کی وردی اتار کر اب سکون سے بیٹھا تھا، شاہ میر کے لائے ہوئے تحائف (souvenirs) کو دیکھ رہا تھا۔
"شاہ میر،" بھائی نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا، "70 ملک۔۔۔ تم نے تو کمال کر دیا۔ اب تو بس تھوڑے ہی بچے ہیں۔ کیا ارادہ ہے؟ اگلے دو تین سال میں پوری دنیا ختم کرنے کا پلان ہے؟"
شاہ میر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ چائے کا کپ اٹھایا اور کھڑکی کے باہر دیکھا۔
"نہیں بھائی۔۔۔ میں اب جلدی میں نہیں ہوں،" شاہ میر نے ٹھہراؤ کے ساتھ جواب دیا۔
بھائی نے حیرت سے دیکھا، "کیوں؟ تم تو کہتے تھے تمہیں ہر کونا دیکھنا ہے۔"
شاہ میر بولا، "بھائی، کل ملا کر دنیا میں 197 ملک ہیں۔ میں 70 دیکھ چکا ہوں۔ اگر میں اسی رفتار سے چلتا رہا، تو اگلے کچھ سالوں میں میرے پاس دیکھنے کو کچھ نیا نہیں بچے گا۔ میں دھیرے دھیرے باقی ملک گھومنا چاہتا ہوں۔"
اس نے تھوڑا رک کر بات جاری رکھی:
"سوچیے بھائی، اگر میں نے سارے 197 ملک ابھی دیکھ لیے، تو اس کے بعد میں کہاں جاؤں گا؟ میرے پاس خواب دیکھنے کے لیے کوئی نئی جگہ ہی نہیں بچے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ میری زندگی کا وہ 'سفر' ختم ہو جائے جو مجھے ہر صبح اٹھنے کا مقصد دیتا ہے۔ میں ہر ملک کو جینا چاہتا ہوں، صرف وہاں کی حاضری لگانا نہیں۔"
IPS بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی کی طرف دیکھا۔ وہ لڑکا جو کبھی صرف نقشوں پر انگلیاں پھیرتا تھا، آج اسے زندگی کا سب سے بڑا سبق دے رہا تھا—کہ منزل سے زیادہ سفر کے ساتھ تعلق بنائے رکھنا ضروری ہے۔
بھائی نے مسکرا کر شاہ میر کا کندھا تھپتھپایا، "تم صحیح کہہ رہے ہو۔ جب خواب ختم ہو جاتے ہیں، تو انسان اندر سے خالی ہو جاتا ہے۔ تو پھر۔۔۔ اگلا 'سلو (slow)' سفر کہاں کا ہے؟"
شاہ میر کی آنکھوں میں ایک پراسرار چمک آئی، "کشمیر، بھائی۔ اس بار میں بھاگوں گا نہیں، وہاں ٹھہر کر اس کی روح کو محسوس کروں گا۔”