TALAQ SHUDA LADKI (CHAPTER 1) in Urdu Drama by Salman Ibrahim Khan books and stories PDF | طلاق شدہ لڑکی (قسط نمبر 1)

Featured Books
Categories
Share

طلاق شدہ لڑکی (قسط نمبر 1)

فجر کی اذان کے ساتھ ایک نئے دن کا آغاز ہو رہا تھا اور سلمان آج بھی ہمیشہ کی طرح تھکاوٹ کی وجہ سے محوِ خواب تھا 

سلمان.......سلمان......!!

پاس آتی آواز نے اچانک اس کی نیند میں خلل پیدا کیا
یہ آواز اس انسان کی تھی جس کی آواز سننے کے لیے وہ اپنا سب کچھ نچھاور کر سکتا تھا

یہ آواز مریم کی تھی.....!!
جس سے وہ بے انتہا محبت کرتا تھا 
وہ بیوی کے روپ میں اس کے لیے کل کائنات تھی مریم کے آنے سے اس کی زندگی مکمل ہو گئی تھی. ماں کے بعد اگر کوئی سلمان کی محبت کی حکمراں تھی تو وہ بیشک مریم ہی تھی.

ارے آپ ابھی تک اُٹھے نہیں...!!
فجر کی اذان ہو رہی ہے آپ کو نماز نہیں پڑھنی...؟؟
مریم کے لہجے میں حیرانگی تھی..
کیوں کے روز تو وہ خود اسے نماز کے لئے جگاتا تھا اور آج معاملہ اُلٹ تھا

سلمان آنکھ مسلتا ہوا اٹھا اور اس نے مریم سے کہا آپ چلئے میں وضو کر کے آتا ہوں

مریم نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا میں کروا دیتی ہوں آپ کو وضو..........

سلمان کے لاکھ منع کرنے کے باوجود مریم نہیں مانی اور پانی سے اپنی زندگی کے سب سے قیمتی تحفے کو پاک کرنے لگی اس نے بہت ہی پیار سے سلمان کو وضو کروایا اور جائے نماز بچھاکر اپنے سرتاج کی قیادت میں نماز ادا کرنے لگی
یہ اس کی زندگی کی وہ نماز تھی جو خود رب نے اسے تحفے میں بخشی تھی 

بےلوث محبت کرنے والا شوہر اور اس کے ساتھ نماز کی شکل میں اپنے اس رب کا شکرانا تھا جس نے اسے سلمان جیسے سے بے انتہا محبت اور عزت کرنے والا شوہر بخشا تھا

ایک سکوت سے بھری ہوئے صبح, جائے نماز, فجر کی نماز اور رب سے کلام یہ سلمان کے لیے زندگی کے سب سے بہترین لمحوں میں سے ایک لمحہ تھا.

نماز کے اختتام پر دونوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور رب سے اپنے بہتر مستقبل کے لئے دعائیں کرنے لگے 
جیسے ہی سلمان نے اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرے پر پھیرا...
مریم نے تجسّس بھرے انداز میں سوال کیا... 

کیا مانگا آپ نے اپنی دعاؤں میں...؟؟؟ مجھے....؟؟؟
سوال پوچھتے ہی ہلکی سی مگر شرم سے لبریز مسکراہٹ نے اسے آگھیرا تھا.

وہ تو پہلے ہی اس کی ہوچکی تھی نکاح کے بعد سلمان کی بےلوث محبت کی اکلوتی وارث 
پر عورت کا یہ المیہ ہے کہ وہ اظہار چاہتی ہے.
مریم کے سوال نے سلمان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھیر دی تھی
اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
مریم مانگی وہ چیز جاتی ہے جو لاحاصل ہوں آپ تو میری زندگی گا شامل حال ہیں
میری زندگی کا وہ اثاثہ جسے میں کبھی کھونا نہیں چاہوں گا آپ مجھے کبھی تنہا تو نہیں چھوڑیں گی نا.....

بالکل بھی نہیں 
مرنے کے بعد بھی نہیں 
ابھی سے آپ مجھ سے پیچھا چھڑانے میں لگے ہیں
مریم نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا.
اور دونوں کچھ دیر تک یوں ہی مسکراتے رہے.

___________________

سلمان......!!
کہاں ہو بیٹا تم.....؟؟؟
کچن سے نکلتی ماں کی آواز کو اس کے لَختِ جگر کی تلاش تھی....سلمان اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا....اسکے والد کے انتقال کے بعد پورے گھر میں بس تین فرد ہی رہ گئے تھے.
ماں کی آواز سنتے ہی سلمان کو جیسے ایک دھچکا سا لگا.....
ایک ہی لمحے میں وہ سارے پل جو وہ ابھی اپنی مریم کے ساتھ گزار رہا تھا اس طرح بکھر گئے جیسے کسی کے ہاتھ میں بہت ہی قیمتی شیشے کا گلاس ہو اور اچانک کسی دھکے سے گر کر چکنا چور ہو جائے...

بیٹا کب تک اپنی زندگی اسی طرح عذاب میں گزارتے رہو گے...؟؟ تم صرف پچسس سال کے ہو پوری زندگی تمہارے استقبال میں کھڑی ہے..
اور تم ابھی تک مریم کے غم سے نہیں نکل پائے ہو...مجھ سے اب تمہاری یہ حالت نہیں دیکھی جاتی....
اپنا نہ سہی بیٹا کم از کم اپنی ماں کا تو کچھ خیال کر لو....
سلمان کی ماں کے لہجے میں فکر و غم نمایا طور پر جھلک رہے تھے

مگر سلمان شاید مریم کی جگہ کسی اور کو کبھی نہیں دیکھ سکتا تھا
ایک طرف مریم کی محبت اور اس کی یادیں تھیں اور ایک طرف ماں کی ممتا اور اس کا پیار...
وہ اپنی ماں کو بھی اس حال میں نہیں دیکھ سکتا تھا
اج وہ زندگی کے ایک ایسے مرحلے پر تھا تھا جہاں سے وہ نہ ہی آگے جاسکتا تھا اور نہ ہی پیچھے کو قدم اٹھا سکتا تھا...
ایسی حالت میں اس نے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا اور خاموشی سے وہاں سے اٹھ کر چلا گیا..

-------------------------------------

روز کی طرح آج بھی وہ آفس کے لئے نکل رہا تھا......مریم کی وفات نے اُسے ہر چیز سے بیگانہ کر دیا تھا.....وہ ہر وقت اپنی الگ ہی دنیا میں کھویا رہتا....
ابھی کچھ ماہ ہی تو گزرے تھے جب وہ اپنی جان سے عزیز مریم کو دلہن بنا کر گھر لایا تھا...کتنے سپنے تھے جو اس کی ان آنکھوں نے دیکھ رکھے تھے....جو اب کسی کو بھی دیکھنا پسند نہیں کرتی تھی...

ناشتے کے ٹیبل پر اسکی ماں اور بہن دونوں اس کا انتظار کر رہے تھے..
مگر وہ تو اپنی ہی دھن میں وہاں سے گزرتا چلا جا رہا تھا...

بیٹا ناشتہ تو کرتے جاؤ....
میں نے تمہارے پسند کی چیزیں بنائی ہیں ساری....
التجائیہ لہجے میں اس کی ماں نے اسے خود کی طرف متوجہ کروایا تھا.

مجھے ابھی بھوک نہی ہے....
ایسا کریں آپ دونوں کھا لیں...
میں آفس میں ہی کھا لوں گا کچھ....
سلمان نے فوراً جواب دیتے ہوئے دروازے کا رُخ کیا اور سلام کرتا ہوا وہاں سے نکل گیا...

آخر کیا ہو گیا ہے امّی بھائی کو...؟؟
وہ تو ایسے بلکل بھی نہیں تھے پہلے...؟؟ 
انعم نے بہت ہی حیرانگی بھرے انداز میں یہ سوال کیا تھا...

دیوانہ ہو گیا ہے تمہارا بھائی..وہ بھی اس لڑکی کے لئے جو اس دنیا کو اور ہم سب کو چھوڑ کے جا چکی ہے....
ماں ماتھا پیٹتے ہوئے انعم کی باتوں کا جواب دیا تھا...

وہ مزید اپنی ماں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی...ہاں مگر اسکے بھائی کا رؤیہ اسے خل بھی بہت رہا تھا...مگر وہ کچھ اور کہتی تو یقیناً اس کی امّی کے آنکھو ں سے آنسوں بہنے شروع ہو جاتے....

ناشتہ ٹھنڈا ہو جائے گا....چلیں بسم اللہ کرتے ہیں...
اس نے بات گھماتے ہوئے کہا....

-------------------------------------

ابھی وہ دونوں ٹیبل سے اٹھی ہی تھیں کے اچانک ڈور بیل کی آواز نے انہیں اپنی جانب متوجہ کروایا....
اس وقت کون آیا ہوگا....؟؟
ماں نے تجسس بھرے انداز میں کہا

میں دیکھ آتی ہوں...انعم نے کہا

اسنے جیسے ہی دروازہ کھولا....سامنے انکی پڑوسن راشدہ جلوہ افروز تھیں..

اسلام علیکم خالہ....کہے کیسے آنا ہوا؟؟
انعم نے سوال کیا.

وہ انعم بیٹی بس کچھ عدد ٹماٹر کی حاجت تھی...تو سوچا ایک بار یہاں بھی دیکھ لوں...اب پڑوسی ہی پڑوسی کے کام آئے گا نا...؟؟ اور تم سب تو پھر اپنے ہو ہمارے...
سامنے کھڑی پڑوسن نے آنے کا مقصد ظاہر کیا تھا....
جب کے چیزیں مانگنا تو صرف بہانا ہوتا تھا انہے تو بس یہاں وہاں کی باتیں کرنی ہوتی تھیں...

کون ہے انعم...؟؟ ماں نے سوال کیا..

راشدہ آنٹی ہیں...انعم نے جواب دیا

اندر بلا لو انہے...

اسلام علیکم باجی....
اندر داخل ہوتے ہوئے راشدہ نے سلام کیا

وعلیکم السلام..!!
بیٹھو راشدہ....کہو کیا حال ہیں...؟؟ کیسے آنا ہوا..

یہاں سے گزر رہی تھی تو سوچا آپ سے ملتی چلوں...... خیٔر خیٔریت بھی لے لونگی...راشدہ نے چالکی سے جواب دیا.

اچھا کیا آگئی...میں بھی کچھ باتیں کر لوں گی...اکیلی سی ہو گئی ہوں اتنے بڑے گھر میں...

تو اپنے سلمان کی دوسری شادی کیوں نہیں کروا دیتی...؟؟ میں تو کب سے کہہ رہی ہوں جو ہوا وہ اللہ کی مرضی تھی کب تک تم سب مریم کا غم لیکر بیٹھے رہو گے....راشدہ نے آج بھی وہی بات دہرائی تھی جو وہ ہمیشہ سے کہتی آئی تھی.
راشدہ کی نظر بہت پہلے سے ہی سلمان اور اس کے عالیشان گھر پہ تھی...جو سلمان کے ابّو کے انتقال کے بعد اب اس کی وراثت میں تھا....وہ تو بہت پہلے سے ہی سلمان کی شادی اپنی بہٹی رفعت سے کروانا چاہتی تھی........

میں کیسے سمجھاؤں اسے راشدہ...؟؟
میں تو اسے بول بول کر تھک گئی ہوں...
بیٹا کب تک اپنی زندگی برباد کرتے رہے گے...؟؟
دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتے..؟؟
مگر وہ میری سنے تب نا....!!
سلمان کی ماں نے پریشانی ظاہر کرتے ہوئے راشدہ کو سارا احوال سنا دیا..

ایسے کیسے نہی مانتا وہ آپ کی بات باجی...؟؟
آپ تو ماں ہیں اسکی...!!
راشدہ نے حیرانگی سے پوچھا....

میں تو ہر روز ہی اسے کہتی ہوں پر وہ تو دوسرے نکاح کی بات پر جیسے انجان سا بن جاتا ہے.... 
ماں نے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے راشدہ کو بتایا تھا..

ایسے کیسے نہی سنتا....؟؟
میرا بھی بیٹا ہے مجھ سے اجازت طلب کئے بنا وہ سانس بھی نہی لیتا....!!
راشدہ نے شیخی بگھاڑتے ہوئے کہا.

ٹھیک ہے آج ایک بار پھر قسمت آزما کے دیکھتی ہوں...
وہ آفس سے آ جائے پھر بات کرتی ہوں اس کے ساتھ...
سلمان کی ماں نے آہ بھرتے ہوئے کہا

ٹھیک ہے باجی تو میں کل آتی ہوں...
مجھے بتانا آپ کے آپ کامیاب ہو پائی یہ نہیں...
راشدہ یہ کہہ کر وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی..

رفعت سے کہنا خالا نے یاد کیا ہے...سلمان کی ماں نے راشدہ کو رخصت کرتے ہوئے کہا..

جی انشاءاللہ ضرور....راشدہ نے کہا اور وہ وہاں سے چلی گئیں...