کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی بسی ہوئی تھی ایسی خاموشی، جس میں خوابوں کی ہلکی ہلکی سرگوشیاں سنائی دیتی تھیں۔ دیوار پر لگا انسانی ڈھانچے کا چارٹ وقت کی گرد سے دھندلا ضرور گیا تھا، مگر اس کے ہر نقش میں ایک ارادہ چھپا تھا۔کچھ کر دیکھانے کا۔۔۔۔ڈاکٹر بن کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا۔
میز پر پھیلی ہوئی بیالوجی کی کتابیں، رنگ برنگے ہائی لائٹرز، اور نوٹس کے بکھرے ہوئے صفحات… سب مل کر ایک ایسی دنیا بناتے تھے، جہاں ارشد خود کو سفید کوٹ میں ملبوس دیکھتا تھا۔ اسے خود پر پورا یقین تھا کہ ایک دن وہ ایک کامیاب ڈاکٹر ضرور بنے گا۔
کھڑکی کے باہر شام اتر رہی تھی سورج کی آخری کرنیں کمرے میں آ کر کتابوں پر بکھر رہی تھیں، جیسے اسے یاد دلا رہی ہوں کہ وقت کم ہے… اور خوابوں کا سفر ابھی بہت سا طئے کرنا ہے۔۔۔۔
ارشد، بیٹا چائے میز پر رکھ دی ہے میں نے… پی لو ورنہ ٹھنڈی ہو جائے گی۔
بانو بیگم کی آواز میں تھکن تو تھی، مگر اس کے پیچھے چھپی محبت ہر بار کی طرح تازہ محسوس ہوتی تھی۔ ارشد جو جو کچھ بھی تھی یہ اس کی ماں کی انتھک محنت اور دعاؤں کا ثمر ہی تو تھا ورنہ دوسروں کے گھر جھاڑو برتن کرنے والی عورتوں کے سپوت ڈاکٹر کہاں بن پاتے ہیں ان کے اس تو ڈاکٹر کے پاس جانے کے بھی پیسے نہیں ہوتے۔۔۔
بانو بیگم کے چہرے اور ہاتھوں پر چھالے پڑ چکے تھے مگر یہ چھالے روز کی محنت کا خاموش اعتراف تھے۔
"امّی، بس پانچ منٹ…"
ارشد نے نظریں کتاب سے ہٹائے بغیر جواب دیا۔
کل کالج میں کلاس ٹیسٹ تھا اور وہ کسی بھی طرح اپنی پوزیشن خراب کرنے کا رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔
بانو بیگم دروازے پر چند لمحے کھڑی اپنے لال کو یوں محنت کرتے دیکھتی رہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سا سکون تھا جیسے وہ اپنے بیٹے کو پڑھتے ہوئے دیکھ کر کچھ دیر کے لیے اپنی ساری تھکن بھول جاتی ہوں۔
مگر اس رات… وہ سکون زیادہ دیر ٹھہر نہ سکا۔
رات اب گہری ہو چکی تھی باہر ہوا میں سردی بڑھ رہی تھی، اور دور کہیں کتوں کے زور زور سے بھونکنے کی آوازیں آرہی تھیں جیسے کسی آنے والی مصیبت کا انہیں پہلے ہی پتا چل چکا ہو۔
گھر کے اندر صرف پنکھے کی ہلکی سی آواز تھی اور کتاب کے صفحات پلٹنے کی مدھم سرسراہٹ۔
اچانک—
ایک زور دار دھماکہ ہوا۔
دروازے پر کسی نے اس شدت سے لات گھونسے مارے کہ دروازے کا درمیانی حصہ بری طرح ٹوٹ گیا اور اس شدت سے ٹوٹا کہ لکڑی کے ٹکڑے اندر فرش پر بکھر گئے۔
آواز کی ہیبت سے ارشد کے ہاتھ سے قلم چھوٹ کر زمین پر گر گیا۔
ارشد کون ہے؟!
اندر آتے ہی ایک کڑیل شخص نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے سوال داغ دیا۔۔۔
آواز اتنی سخت تھی کہ دیواریں بھی جیسے سہم سی گئیں۔
یہ اے ٹی ایس کے اہلکار تھے جو گھر میں ہر طرف پھیل چکے تھے۔۔
ان کے جوتوں کی آواز فرش پر گونج رہی تھی، جیسے ہر قدم کسی فیصلے کی مہر ہو۔
"میں… میں ارشد ہوں…"
اس کی آواز ہلکی سی کانپ گئی تھی۔
بس اتنا کہنا تھا
کہ ایک ہاتھ نے اس کا گریبان پکڑ لیا۔
چلو ہمارے ساتھ!
لیکن ہوا کیا ہے؟ میں نے۔۔۔۔۔۔۔ جملہ مکمل ہونے پہلے ہی اسے خاموش کردیا گیا آفیسر نے اسے خاموشی سے انکے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
بانو بیگم کچن سے دوڑتی ہوئی آئیں، ان کا دوپٹہ کندھے سے پھسل رہا تھا۔
صاحب! اللہ کے لیے… میرا بیٹا
ایک جھٹکا… اور وہ زمین پر گر گئیں۔
تمہارا بیٹا دہشت گردوں سے رابطے میں ہے! آتنکوادی ہے تمہارا بیٹا۔
یہ الفاظ ماں کے دل پر ایسے گرے جیسے کسی نے ان کے سینے پر پتھر رکھ دیا ہو۔
ارشد کو گھسیٹ کر باہر لے جایا گیا۔
گلی میں لوگ جمع ہونے لگے تھے۔ کھڑکیاں کھل رہی تھیں۔ سرگوشیاں پھیل رہی تھیں۔ ہر کسی کو بس یہی جاننے کا تجسس کھائے جا رہا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے؟؟
کسے لے جا رہے ہیں؟
ارشد ہے شاید… ہجوم میں سے کسی نے تصدیق کیا۔۔۔۔!!
اور پھر
اگر اے ٹی ایس کی ٹیم آئی ہے تو ضرور یہ آتنکوادی ہوگا۔۔۔۔۔
ایک لفظ… اور پوری شناخت پل بھر میں بدل گئی۔
اگلی صبح، اخبار صرف خبر نہیں لایا تھا فیصلہ بھی لے آیا تھا۔
"تعلیمی ادارے میں چھپا دہشت گرد گرفتار"
تصویر کے نیچے چھپا ہوا ارشد اب صرف ایک نام نہیں رہا تھا ایک الزام بن چکا تھا۔ اسے دہشت گردوں سے رابطے میں رہنے کہ جرم میں گلی سنوائی تک جیل کی چار دیواری میں قید کرلیا گیا تھا۔
جیل کی کوٹھری میں وقت رک سا گیا تھا۔
دیواریں نم تھیں، ہوا بھاری تھی، اور خاموشی ایسی کہ اپنے دل کی دھڑکن بھی بوجھ لگتی تھی۔
ارشد اکثر آنکھیں بند کر لیتا… اور خود کو دوبارہ اپنے کمرے میں لے جانے کی کوشش کرتا۔
کتابیں…
امتحان…
اور امّی…
امّی نے کھانا کھایا ہوگا؟
یہ سوال اسے ہر رات جگائے رکھتا۔
مگر باہر کی دنیا نے اپنا رنگ بدل لیا تھا۔
بانو بیگم کے دروازے پر اب کوئی دستک نہیں دیتا تھا۔
جن گھروں میں وہ کام کرتی تھیں، وہاں کے دروازے ان کے لیے بند ہو چکے تھے۔
ہمیں دہشت گردوں سے کام نہیں کروانا۔
یہ جملہ ہر جگہ ایک جیسا تھا… بس لہجے بدل جاتے تھے۔
محلے کی گلیاں، جو کبھی جانی پہچانی تھیں، اب اجنبی لگتی تھیں۔
لوگوں کی نظریں سوال نہیں کرتیں تھیں فیصلہ سناتی تھیں۔
دونوں جوان کی بیٹیاں…
گھر کے اندر سمٹتی جا رہی تھیں۔
ایک دن، ایک عورت بازار سے گزرتے ہوئے بانو بیگم کو دیکھ کر برا سا منہ بنا کر سب سے کہنے لگی کہ:
پتا نہیں کیسا خون تھا… جو ایسا بیٹا نکلا۔
وہ جملہ بانو بیگم کے سیدھے دل میں اتر گیا۔اور دل کو اس طرح سے چھلنی کیا کہ شام ہوتے ہوتے دل نے جواب دے دیا۔
بانو بیگم زمین پر گریں…
اور ان کے لبوں پر آخری صدا تھی:
"ارشد…"
بانو بیگم کو گزرے پورے تین سال ہوچکے تھے۔۔۔۔
آج پھر عدالت میں ارشد کی پیشی تھی۔۔۔ان تین سالوں میں تین سو بار تو عدالت آہی چکا تھا۔۔۔۔۔
عدالت کا کمرہ پوری طرح بھرا ہوا تھا۔
ہوا میں ایک عجیب سا تناؤ تھا۔
جج نے فائل کھولی… اور پڑھنا شروع کیا:
"پیش کیے گئے شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ملزم ارشد کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کا کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں۔"
کمرہ خاموش ہو گیا۔
"جس واٹس ایپ گروپ کو استغاثہ نے خفیہ رابطہ قرار دیا، وہ دراصل ایک میڈیکل اسٹوڈنٹس یونین کا گروپ تھا، جس میں مختلف علاقوں کے طلبہ شامل تھے، جن میں کشمیر اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی شامل تھے۔"
ارشد نے پہلی بار سر اٹھایا۔
"محض گروپ میں موجودگی کو جرم قرار نہیں دیا جا سکتا، اور نہ ہی کسی قسم کا ایسا مواد پیش کیا گیا جو ملزم کے کسی دہشت گرد تنظیم سے براہِ راست تعلق کو ثابت کرے۔"
چند لمحوں کا وقفہ…اور پھر جج نے فیصلہ سنادیا۔۔۔۔
لہٰذا، ملزم کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔
فیصلہ ختم ہو گیا تھا…
مگر کہانی نہیں۔
جب ارشد جیل سے باہر نکلا، تو آسمان وہی تھا… مگر اس کے رنگ بدل چکے تھے۔
وہ گھر پہنچا
دروازہ کھولا… گھر کے اندر کا سناٹا اس کا استقبال کررہا تھا۔۔۔گھر بلکل کھنڈر ہوچکا تھا جیسے سالوں سے وہاں کوئی آیا گیا نہ ہو۔۔۔
وہ دبگ پاؤں اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا۔۔۔۔۔
ہر چیز بلکل ویسی ہی تھی جیسی تین سال پہلے وہ چھوڑ گیا تھا… مگر جیسے وقت نے ان سے روح نکال لی ہو۔
اس نے ٹیبل پر پڑی ایک کتاب اٹھائی…
اور سینے سے لگالی۔
آنکھوں سے آنسو بہنے لگے بغیر آواز کے، مگر بے حد گہرے۔
آج وہ آزاد تھا…
مگر اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔
سسٹم نے اسے بے گناہ تو کہہ دیا تھا…
مگر اس کی ماں واپس نہیں دی تھی…
اس کی بہنوں کے خواب واپس نہیں دیے تھے…
اور نہ ہی اس کا کھویا ہوا وقت۔
اب سوال پہلے سے بھی زیادہ گہرا ہو چکا تھا
آتنکوادی کون تھا؟
وہ لڑکا… جس نے صرف ایک خواب دیکھا تھا؟
یا وہ نظام… جس نے بغیر تحقیق کے اسے مجرم بنا دیا؟
یا وہ معاشرہ… جس نے سچ آنے سے پہلے ہی اس کی زندگی کا فیصلہ سنا دیا؟