Safar e Raigah - 1 in Urdu Drama by Naheed Anis books and stories PDF | Safar e Raigah - 1

Featured Books
Categories
Share

Safar e Raigah - 1

Safar e raigah sirf shahmeer ki nahi balke ayat ki bhi kahani hai ek ameer zadi jo apne baap ki nafrat se tang aa kash mekash ki zindagi chor deti hai aur kashmir ki khamosh wadiyon mein panah leti hai . Jab 70 mulk ghumne wala shahmeer sikander usse milta hai .ki asli sukoon kisi naye mulk me nahi balkay kisi ki sachi ankhon mein hota haiدروازے 
پر کھڑا ہے .
اسکا دل اتنی زورو  سے دھڑک رہا ہے  کی اسے اپنی ہر دھڑکن اپنے کانوں میں محسوس ہو رہی ہے ۔
اسنے دروازہ کھٹکھٹایا - صرف تین بار ۔۔
دروازہ دھیرے سے کھولا سامنے آیت کھڑی تھی اُسکے 
ہاتھ میں وہی فون تھا جیسے اسنے تھوڑی دیر پہلے 
کمنٹ کیا تھا ۔
جیسے ہی اسنے شحمیر کو دیکھا ،
اُسکے ہاتھوں سے فون نیچے گر گیا پر اسے  آواز بھی  نہیں آئی ۔

شہمير وہاں کھڑا تھا - وہی پرانا شهمیر،
مگر اب اُسکے آنکھوں میں و بفکری نہیں تھی  ۔
بلکہ  ایک گہرائی تھکن تھی ، وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ نہ کوئی سلام ، نہ کوئی شقوا ،  
نہ کوئی بہانہ بس ایک خاموشی تھی جو دونوں کے درمیان کسی گہرائی کھائی کی طرح تھی۔

آیت کے آنکھوں سے آنسو اچانک بہپڑے ،
شهمیر نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ۔پر در کے میرے بیچ میں ہی روک دیا کیا وہ اب بھی اُسکا حقدار تھا ؟

" تم ۔۔۔۔ " آیت کی آواز اتنی دھیمی تھی کے ہوا میں 
گھول گئی ۔  
شھمیر نے کوئی جواب نہیں دیا بس جیک گیا اپنے گھٹنوں 
پر بیٹھ کر اپنا سر آیت کی دہلیز پر ٹیکہ دیا ۔
وہ رونا نہیں چاہتا تھا پر اُسکی چیخ اندر ہی اندر دم طور رہی تھی ۔
آیت نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھائے اور شہمسیر  
کے بالوں کو چھوا ۔
اس پل میں کوئی الفاظ نہیں تھے بس ایک دوسرے کا درد تھا 
جو برسوں سے دفن تھا ۔
وہ رو رہے تھے پر اُنکے آنکھوں میں اب شکایت نہیں ،
بلکہ ایک دوسرے کو واپس پانے کا سکون تھا ۔
دنیا گول تھی شمیر نے سچ ہی کہا تھا وہ ،بھٹک  کر اسی موڑ 
پر آگئے تھے  جہاں سے سب شروع ہوا تھا ۔۔

اسنے ستّر ملک کی خاک  چھانی تھی ، ہزاروں 
چہرے دیکھے اور لاکھوں میل طے کیے ، مگر جب اس 
دہلیز پر قدم رکھا تو احساس ہوا کہ اُسکا سرا سفر محض
ایک  "سفر رائیگاں " تھا 

باب ۔۔
کمرے میں ایک ہلکی سی روشنی تھی اور باہر خاموشی کا راج ۔
میز پر رکھی چای اب تھندھی ہو چکی تھی ۔
مگر اُسکا دھواں ابھی بھی یادو کے طرح ہوا میں 
معلق تھا میرے سامنے و پرانی ڈائری کھلی تھی وہی ڈائری جس کے ہر سہ فہے پر وقت کی دھول نے ایک نیا صفحہ لکھ دیا تھا ۔
میںنے قلم اٹھایا پر میرے ہاتھ ٹھٹھک گئے ۔
خود سے گفتگو کرنا ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے ۔
مگر آج یہ ڈائری مجھ سے سوال کر رہی تھی ۔

" کیا تم تیّار ہو ؟" میرے اندر سے ایک آواز آئی ۔
میںنے پنّ پلٹا ۔ وہ الفاظ جو برسوں پہلے لکھے گئے تھے. يبھی بھی زندہ محسوس ہو رہے تھے۔
وہ راستہ ، و سفر ، وہ لوگ ۔۔۔۔۔
سب کچھ واپس لوٹ رہا تھا لوگ کہتے ہے کی لکھنا آسان ہے، مگر کوئی اُنسے پوچھے کے جب خیال جاگتے ہے تو نیند کہا جاتی ہے ۔

میںنے لکھنا شروع کیا : 
 "کچھ ٹیسٹ کبھی ختم نہیں ہوتے بس ہم چلنا چھوڑ دیتے ہیں ۔اور کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں کے جنکے جواب صرف تنہائی میں ہی ملتے ہے ۔"