باب شاہمیر کی دنیا ہمیشہ سے ہی اس کے اسکول کی کتابوں اور پرانے نقشوں کے درمیان بسی تھی۔ جب کلاس میں استاد کہتے کہ "دنیا گول ہے"، تو باقی بچے اسے صرف ایک سبق سمجھ کر یاد کر لیتے، مگر چھوٹا شاہمیر گھنٹوں اسی سوچ میں ڈوبا رہتا۔’اگر دنیا گول ہے، تو پھر اس کے کونے کہاں ہوں گے؟ کیا وہاں کھڑے ہو کر نیچے جھانکا جا سکتا ہے؟‘ یہ سوال اسے بے چین رکھتا۔اس کا سب سے پسندیدہ مضمون جغرافیہ تھا۔ جب دوسرے بچے حدت اور بارش کے فارمولے یاد کرتے، شاہمیر نئے دیشوں کے کلچر اور وہاں کے