آتنکوادی

  • 174
  • 54

کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی بسی ہوئی تھی ایسی خاموشی، جس میں خوابوں کی ہلکی ہلکی سرگوشیاں سنائی دیتی تھیں۔ دیوار پر لگا انسانی ڈھانچے کا چارٹ وقت کی گرد سے دھندلا ضرور گیا تھا، مگر اس کے ہر نقش میں ایک ارادہ چھپا تھا۔کچھ کر دیکھانے کا۔۔۔۔ڈاکٹر بن کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا۔میز پر پھیلی ہوئی بیالوجی کی کتابیں، رنگ برنگے ہائی لائٹرز، اور نوٹس کے بکھرے ہوئے صفحات… سب مل کر ایک ایسی دنیا بناتے تھے، جہاں ارشد خود کو سفید کوٹ میں ملبوس دیکھتا تھا۔ اسے خود پر پورا یقین تھا کہ ایک