ارشد نے گھڑی دیکھی۔ دس بج کر پچپن منٹ۔ انٹرویو میں صرف پچیس منٹ لگے تھے لیکن اسے لگا جیسے پوری زندگی گزر گئی۔ سول انجینئر ہونے کے باوجود تین سال سے بےروزگار تھا۔ آج خوش قسمتی نے آخر اس کے دروازے پر دستک دی تھی۔ "ان شاء اللہ، یہ نوکری مل جائے گی،" اس نے دل ہی دل میں دعا کی۔" بڑی محل نما عمارت سے نکل کر وہ تنہا سڑک پر چل پڑا۔ چاروں جانب بڑے بڑے گھر، بلند و بالا دیواریں، اور ہر طرف خاموشی۔ اچانک اس کی نظر ایک کھلے گیٹ پر پڑی۔ ایک چھوٹا بچہ،